Live Updates

ریاست عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ، حکومت مستعفی ہو ، پشتونخوامیپ کا مطالبہ

جمعرات 23 جولائی 2026 22:07

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 جولائی2026ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں مستونگ میں سیشن جج عبداؒلحکیم کاکڑاور گن میں کی شہادت اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد کے زخمی ہونے کے وحشیانہ ، سفاکانہ ، اندھوناک ، دہشتگردی کے واقعہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور یہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

گزشتہ تین ماہ سے مسلسل پراکسیز اور حکومتی پروردہ مسلح گروپوں ، بھتہ خوروں ، ڈیپٹھ سکوارڈ کے ذریعے پشتون علاقوں میں دہشت گردی ، خوف وہراس، درجنوں لوگوں کی شہادت اور درجنوں کے زخمی ہونے کے واقعات دراصل حکومتی سرپرستی میں جاری ہے اور ہنہ اوڑک ، زیارت ، ہرنائی ،دکی ،سنجاوی کے واقعات ان کا تسلسل تھے۔

(جاری ہے)

پشتونخوامیپ تمام ملک کے سیاسی جمہوری قوم پرور قوتوں ،تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ عوام پر مسلط صورتحال سے نجات کے لیے دلیرانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ہمارے وطن کو ان مسلط قوتوں سے پاک کیا جائے اور مستونگ کے ججز کے واقعات کی مکمل انکوائری رپورٹ اور ملزمان کو قرار واقعی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

پارٹی متاثرہ خاندانوں کے اس غم میں ان کے ساتھ برابر کی شریک ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مختلف ٹرانسپورٹ ، کوچز پر فائرنگ کے نتیجے میں بھی شہری شہید وزخمی ہوئے تھے اور ٹرانسپورٹ کو نقصان پہنچا تھا اسی طرح اس اہم قومی شاہراہ پر موجودہ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ جب ایک عدالتی افسر بھی محفوظ نہیں تو ایک عام شہری، سرکاری ملازم، تاجر، مزدور ، مسافر اور طالب علم کے تحفظ کی کیا ضمانت ہی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی نام نہاد امن و امان کے دعووں کے باوجود حالات روز بروز بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

سینکڑوں چیک پوسٹوں ، ناکوں ، سیکورٹی فورسز کے باوجود شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، بازاریں ویران ہیں، کاروبار اور تجارت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور پورا معاشرہ خوف، بے یقینی اور افراتفری کا شکار ہے۔صوبے میں بدامنی، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، چوری، ڈکیتی اور لاقانونیت نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

اس سنگین صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ پشتون عوام اٹھا رہے ہیں، جو ایک طرف معاشی تباہی اور دوسری طرف مسلسل قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے اور خود وفاقی وزیر داخلہ یہ بیان دیتے ہیں کہ عوام اپنی حفاظت خود کریں، تو پھر یہ سوال پوری شدت سے پیدا ہوتا ہے کہ سالانہ اربوں روپے کے بجٹ پر چلنے والے سکیورٹی اداروں، ایجنسیوں اور متعلقہ حکومتی ڈھانچے کی ذمہ داریاں کیا ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اپنی مسلسل ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے موجودہ وزیر اعلیٰ اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائیں جائیںاور تمام قومی و صوبائی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ شہری بلا خوف و خطر سفر کر سکیں،دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، چوری اور ڈکیتی کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اور نتیجہ خیز کارروائیاں کی جائیں۔بیان میں شہید عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین کے خاندانوں سے اظہار تعزیت اور زخمی ہونیوالے سیشن جج طارق لاشاری ودیگر افراد کی جلد صحیتابی کی دعا کی گئی ہے ۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات