ممبر پینل آف چیئرمین محترمہ نبیلہ ایوب کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اجلاس

جمعرات 30 جولائی 2026 21:36

ٰمظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 جولائی2026ء) ممبر پینل آف چیئرمین محترمہ نبیلہ ایوب کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق صدر و وزیراعظم /ایم ایل اے سردار محمد یعقوب خان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیاکہ قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس وفاقی وزرائ کی طرف سے راولاکوٹ میں ہونے والے حالیہ واقعات پر دیے گئے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

بالخصوص وزیر دفاع کے منصب پر بیٹھے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف جس نے راولاکوٹ کے لوگوں کو کشمیری تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اس معزز ایوان کی رائے میں وزیراعظم پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔

(جاری ہے)

یاداش بخیر 1832کو زندہ کھالیں کنچھوانے والوں کا تعلق اسی دھرتی سے تھا۔ 23مارچ 1940کو قراردادپاکستان میں کشمیریوں کی نمائندگی کرنے والے غلام حیدر جنڈالوی، سمیت 19جولائی 1947کو الحاق پاکستان کی قرارداد اوربانی صدر غآزی ملت سردار محمد ابراہیم خان بھی اسی دھرتی کے بیٹے تھے۔

آزادی کی جنگ کے ہیروز کیپٹن حسین خان شہید،خان آف منگ خان محمد خان جیسے اکابرین کی قربانیوں سے انکار پر افسوس ہے۔ قرارداد میں کہاگیا کہ وفاقی وزرائ کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ ان کے اس طرز عمل سے راولاکوٹ اور ریاست کے دیگر علاقوں اور بیرون ملک کشمیر یوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اس معزز ایوان کی توسط سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دی گئی Truth and reconciliation Commission کے قیام کی تجوزیز پر عملدرآمد کیا جائے اور اس وقت تک راولاکوٹ میں کسی بھی قسم کی کارروائی کو روکا جائے۔

الیکشن کمیشن صاف اور شفاف الیکشن کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ میرپور ڈویڑن کے اندر حالیہ الیکشن میں جو بے ضابطگیاں کی گئیں،ان کو دور کر کے الیکشن کروائے جائیں۔ یہ ہمارے لوگ ہیں ہمیں ان سے بات کرنے ہو گی۔ الیکشن اپنی جگہ پر لیکن دونوں طرفہ نقصان ہمارا ہے۔ ہمارا دشمن بھارت پوری دنیا میں اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ موجود ہ صورتحال میں Truth and reconciliation Commissionہی واحد حل ہے۔جواس صورتحال سے ریاست کو مزید انتشار سے بچا سکتا ہے۔