ملک میں مزید ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیرمصطفی کمال

جمعہ 31 جولائی 2026 23:42

ملک میں مزید ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیرمصطفی کمال
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 جولائی2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں ایک وفاق اور 4صوبوں کا نظام موثر انداز میں نہیں چل رہا، پاکستان دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے بڑا ملک ہے، ملک میں مزید ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانے کی ضرورت ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرنے کا موثر نظام موجود نہیں ، ملک کی شرحِ افزائشِ آبادی 3.5 فیصد اور گروتھ ریٹ 2.5 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال 11 ہزار ماں کی اموات ہوتی ہیں جو انتہائی تشویش ناک ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان کو 9 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے جبکہ دنیا پاکستان سے 25لاکھ نرسوں کی طلب کر رہی ہے، نوجوانوں کو ہنر سکھا کر بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کے لیے زرِ مبادلہ کما سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے واضح کیا کہ ادویات کی قیمتیں کم یا زیادہ کرنا وفاقی وزیرِ صحت کا اختیار نہیں بلکہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کرتی ہے۔

وزیرِ صحت کے مطابق کابینہ نے ادویات کی قیمتوں کے معاملے پر کمیٹی قائم کر رکھی ہے جبکہ ڈریپ نے چند ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں ادویات تیار ہوتی ہیں تاہم خام مال درآمد کیا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ کئی ادویات مارکیٹ سے غائب ہو چکی ہیں اور بعض مریضوں کو دوائیں ایجنٹوں کے ذریعے دگنی قیمت پر خریدنا پڑتی ہیں، صحت کا نظام صرف ہسپتال بنانے سے بہتر نہیں ہو گا بلکہ بچوں کی بروقت ویکسینیشن اور بنیادی صحت کی سہولتوں پر توجہ دینا ہو گی، 68 فیصد بچے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرے سے دو چار ہیں۔

مصطفی کمال نے کہا کہ مجھے 21 سال قبل کراچی کا میئر بنایا گیا تھا جبکہ 12 سال پہلے میں رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوا۔انہوں نے اس موقع پر ایک بار پھر کہا کہ خالد مقبول صدیقی ہی ہماری جماعت کے چیئرمین ہیں۔