مولانا طارق جمیل نے خواتین کا کھانا نہ پکانا ازدواجی زندگی کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا

غیر صحت بخش غذا مردوں کی صحت، توانائی اور جسمانی قوت کو متاثر کر سکتی ہے،جن گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ جائیںوہاں بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس سے ڈاکٹروں کا کاروبار فروغ پاتا ہے،انٹرویو

جمعرات 6 اگست 2026 20:05

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 اگست2026ء) پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے خواتین کی جانب سے گھروں میں کھانا نہ پکانے کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر فطری قرار دیا ہے۔مولانا طارق جمیل نے پوڈ کاسٹ انٹرویو میں خواتین کے گھروں میں کھانا نہ پکانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اگر واقعی جدید دور میں خواتین نے گھر میں کھانا پکانا چھوڑ دیا ہے تو یہ ایک غیر فطری رجحان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 1998ء میں امریکہ کے دورے کے دوران ایک ڈاکٹر نے انہیں شمالی امریکہ کے ایسے اعداد و شمار دکھائے تھے جن کے مطابق صرف ایک سال میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات پر ایک ٹریلین ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ غیر فطری اور مصنوعی غذا انسان کے رویئے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

فاسٹ فوڈ اور مصنوعی خوراک مزاج میں چڑچڑاپن، غصہ اور بے صبری پیدا کر سکتی ہے، جس سے میاں بیوی کے تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

طارق جمیل نے کہا کہ غیر صحت بخش غذا مردوں کی صحت، توانائی اور جسمانی قوت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔انہوں نے لوگوں کو دیسی گھی اور گھریلو کھانوں کے استعمال کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جن گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں، وہاں بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس سے ڈاکٹروں کا کاروبار فروغ پاتا ہے۔