Live Updates

ایران امریکا کشیدگی،عالمی ایوی ایشن صنعت شدید بحران کا شکار

فضائی کرایوں میں 35 فیصد تک اضافہ، جیٹ فیول مہنگا ہونے سے ایئر لائنز کے اخراجات بڑھ گئے، مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود میں پابندیوں سے رابطے متاثر

پیر 10 اگست 2026 21:35

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 اگست2026ء) ایران امریکا کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال نے پاکستان سمیت دنیا بھر کی ایئر لائنز اور عالمی ایوی ایشن صنعت کو شدید متاثر کردیا ہے، فضائی حدود میں پابندیوں، پروازوں کی منسوخی اور طویل متبادل فضائی راستوں کے باعث مسافروں کو اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے نے ایئر لائنز کے مالی دباؤ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع اور ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث متعدد روٹس پر فضائی کرایوں میں 30 سے 35 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ ایئر کارگو کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خطے میں فضائی حدود کی بندش اور راستوں کی تبدیلی سے ایئر لائنز کو زیادہ ایندھن استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جس کا براہ راست اثر آپریشنل اخراجات اور ٹکٹوں کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

(جاری ہے)

بین الاقوامی فضائی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث کئی ایئر لائنز نے اپنے آپریشنز معطل یا محدود کیے ہیں جبکہ بعض نے ایران، عراق اور خطے کے دیگر حساس فضائی راستوں سے گریز کرتے ہوئے متبادل روٹس اختیار کیے ہیں۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے بھی خلیجی خطے کے بعض فضائی علاقوں کے حوالے سے بلند خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ ایئر آپریٹرز کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بین الاقوامی ایئر لائنز کی جانب سے پروازوں کے شیڈول میں مسلسل تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ بعض کمپنیوں نے دبئی، ریاض، دوحہ اور دیگر مشرق وسطیٰ کے مقامات کے لیے پروازیں معطل یا محدود کردی ہیں جبکہ کئی ایئر لائنز نے اپنی معمول کی سروسز کی بحالی کی تاریخیں بھی آگے بڑھا دی ہیں۔ایوی ایشن ماہرین کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔

طویل متبادل فضائی راستوں اور زیادہ ایندھن کے استعمال نے ایئر لائنز کے آپریشنل اخراجات مزید بڑھا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ایئر ٹرانسپورٹ کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے دوران مشرق وسطیٰ میں فضائی بحران کے نتیجے میں خلیجی ہوائی اڈوں سے آنے اور جانے والی پروازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

عالمی فضائی رابطے پر اس بحران کے اثرات اس حد تک بڑھے کہ ایئر لائنز نے موسم گرما کے شیڈول میں بھی گنجائش کم کردی۔مشرق وسطیٰ میں دبئی، ابوظہبی، دوحہ اور دیگر بڑے فضائی مراکز عالمی فضائی سفر کے اہم ٹرانزٹ ہب ہیں۔ خطے میں سیکیورٹی خدشات اور فضائی حدود سے متعلق پابندیوں کے باعث ان مراکز سے منسلک متعدد پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے ہیں۔

دبئی اور ابوظہبی سے متعلق متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز نے اپنے آپریشنز میں تبدیلیاں کی ہیں، جبکہ قطر ایئرویز سمیت کئی کمپنیوں نے بھی خطے کی صورتحال کے پیش نظر پروازوں کے نظام میں ردوبدل کیا ہے۔ تازہ صورتحال کے مطابق بعض ایئر لائنز نے مشرق وسطیٰ کے لیے پروازوں کی معطلی میں مزید توسیع کی ہے۔ایران امریکا کشیدگی کے باعث پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے فضائی سفر پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں مقیم پاکستانیوں کی آمدورفت اور روزانہ کی بنیاد پر پاکستان اور خلیج کے درمیان ہونے والی پروازوں کے باعث پاکستانی مسافروں کو بھی پروازوں میں تاخیر، شیڈول میں تبدیلی اور کرایوں میں اضافے کا سامنا ہے۔بھارتی ایئر لائنز کے لیے بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال مشکلات میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ متبادل طویل فضائی راستے اختیار کرنے سے پروازوں کے دورانیے اور ایندھن کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایئر لائنز اور مسافروں دونوں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تجارتی سرگرمیوں اور فضائی راستوں میں خلل کے باعث بعض تاجروں اور برآمد کنندگان نے سمندری یا زمینی ترسیل کے بجائے ایئر کارگو پر انحصار بڑھایا، تاہم بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے باعث ایئر کارگو کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔کاروباری حلقوں کے مطابق فضائی راستوں کی تبدیلی، ایندھن کے اضافی اخراجات اور محدود گنجائش کے باعث درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو اضافی لاگت برداشت کرنا پڑ رہی ہے، جس کے اثرات بالآخر اشیا کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد معمول پر نہ آئی اور فضائی راستے مکمل طور پر بحال نہ ہوئے تو ایئر لائنز کے لیے معمول کے آپریشنز برقرار رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ مسلسل پروازوں کی منسوخی، ایندھن کے بڑھتے اخراجات، طویل متبادل راستوں اور کم ہوتی آپریشنل گنجائش سے عالمی ایوی ایشن صنعت کو مزید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔عالمی ایوی ایشن اداروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایئر لائنز کو مسافروں کی حفاظت، فضائی حدود کے خطرات اور آپریشنل اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں عالمی فضائی سفر پر اس کے اثرات مزید طویل ہوسکتے ہیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات