شامی عدالت نے سابق صدربشارالاسد کو سزائے موت سنا دی
عدالت نے بشارالاسد حکومت کے اعلی سیکورٹی عہدیدارعاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنا ئی
میاں محمد ندیم
منگل 11 اگست 2026
13:59
(جاری ہے)
عرب نشریاتی ادارے کے مطابق عدالت نے مزید سات مفرور ملزمان کو بھی سزائے موت سنائی ان میں سابق صدر کے بھائی ماہر الاسد، سابق وزیر دفاع فہد جاسم الفریج اور دیگر شامل ہیں انہیں قتل عمد اور ایسے تشدد کا مجرم قرار دیا گیا جو موت کا سبب بنا یہ پہلا عدالتی فیصلہ ہے جو دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور ان کے اپنے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے ہمراہ روس فرار ہونے کے بعد شام کے اندر ان کے خلاف سنایا گیا ہے.
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی حکام رواں سال سابق حکومت سے وابستہ متعدد عہدے داروں کے خلاف مقدمات چلا رہے ہیں بعض کے خلاف غیر حاضری میں اور بعض کے خلاف ان کی موجودگی میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد تنازع کے دوران ہونے والی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنا ہے اب تک بشار الاسد یا ان کے نمائندوں کی جانب سے فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا. بشار الاسد اب بھی روس میں مقیم ہیں جو شامی جنگ کے دوران ان کے نمایاں حامیوں میں شامل تھا جس کے باعث سزا پر عمل در آمد عملی طور پر ان کی گرفتاری یا شام کے حوالے کیے جانے سے مشروط ہے شام کی نئی حکومت پہلے ہی ماسکو سے مطالبہ کر چکی ہے کہ الاسد کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اس کے حوالے کیا جائے دسمبر 2024 میں حزب اختلاف کے دھڑوں جن کی قیادت اس وقت ہیئت تحریر الشام کر رہی تھی، نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور یوں شام میں بشار الاسد کے خاندان کی پانچ دہائیوں سے زائد پر محیط حکمرانی کا اختتام ہو گیا تھا. بشار الاسد نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کے بعد شام کی صدارت سنبھالی تھی، جنہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک ملک پر حکومت کی مارچ 2011 میں شام میں جمہوریت کے مطالبے پر مشتمل مظاہرے شروع ہوئے ان کا آغاز ان بچوں کی گرفتاری کے بعد ہوا تھا جنہوں نے شہر کی دیواروں پر بشار الاسد کے خلاف نعرے لکھے تھے یہ مظاہرے جاری رہے اور دیگر شہروں تک پھیل گئے، جہاں سیاسی اصلاحات اور اس وقت کے صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا. حکام نے ان احتجاجی مظاہروں کا جواب طاقت کے استعمال سے دیا، جبکہ بشار الاسد کی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ تخریب کاروں اور بیرونی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا سامنا کر رہی ہے چند ہی ماہ میں یہ احتجاج مسلح جھڑپوں میں بدل گیا پھر ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو گیا جس میں مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں نے حصہ لیا اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں شامی افراد ہجرت اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ لاکھوں ہلاک ہوئے. تنازع کے برسوں کے دوران شام سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے قتل، تشدد، جبری گمشدگی، جنسی تشدد اور شہریوں پر حملوں سمیت وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی کمیشن نے متعدد رپورٹوں میں کہا کہ سرکاری افواج کی جانب سے کی جانے والی بعض خلاف ورزیاں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں کمیشن نے مسلح حزب اختلاف کے گروہوں اور جہادی تنظیموں پر بھی جنگی جرائم اور سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے بشار الاسد کی حکومت کو جنگ کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات کا بھی سامنا رہا، جن کی دمشق نے بارہا تردید کی.مزید اہم خبریں
-
باب المندب میں حوثیوں نے کارگو جہاز پر حملہ‘تین ہلاک
-
روالپنڈی میں اٹلی کے سفارت خانے کا جعلی نمائندہ گرفتار
-
ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر امریکی فضائیہ کے طیارے میں خفیہ سفرکیا
-
پاکستان کی 10 ارب ڈالر کی درخواست، امریکہ کی سردمہری برقرار
-
امریکا ، اسرائیل کے شام سے مذاکرات کامیاب، شام میں خفیہ مقام پر موجود نیوکلیئر مواد جلد ہٹائے جانے کا امکان
-
صدر ٹرمپ نے ول شارف کو نیا اسسٹنٹ ٹو دی پریذیڈنٹ اور وائٹ ہاﺅس کونسل مقرر کردیا
-
لاہور، ذہنی معذور بچی سے مبینہ زیادتی کیس، اے ایس آئی کے خلاف سزائے موت کی دفعات شامل
-
مکہ دفاعی معاہدہ: نشانہ کون سا ملک ہے؟
-
اقلیتیں معاشرے کا حسن، عزت اور تحفظ پر سمجھوتا نہیں ہوگا. مریم نواز
-
لاہور، پولیس حراست میں خواتین کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری مکمل، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوجمع کرادی گئی
-
پنجاب میں سکول کھولنے سے قبل صفائی، سکیورٹی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت
-
عمران خان اور اہلیہ قید تنہائی کیس، بیرسٹر سلمان نے تحریری دلائل جمع کرا دیئے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.