سندھ ثقافتی، مذہبی رنگارنگی اور کثیرالجہتی روایات سے پہچانا جاتا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

قائداعظم کے تصورات آج بھی واضح ہیں کہ یہاں سب برابر ہیں، سندھ میں اقلیتوں کی فلاح کیلیے مختلف منصوبے جاری ہیں، مراد علی شاہ کا قومی یوم اقلیت کے موقع پر تقریب سے خطاب

منگل 11 اگست 2026 21:10

�راچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 اگست2026ء) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اقلیتی برادریوں کے حقوق، وقار اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتی برادریاں سندھ کے برابر کے شہری اور صوبے کی سماجی، ثقافتی اور معاشی ترقی میں ناگزیر شراکت دار ہیں۔آرٹس کونسل میں منعقدہ قومی یوم اقلیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 11 اگست منانا پاکستان کی تاریخ کے ایک اہم دن کی یاد تک محدود نہیں بلکہ یہ قائداعظم محمد علی جناح کے اس تصور کی تجدید بھی ہے جس میں انہوں نے ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں ہر شہری کو مذہب، ذات یا عقیدے سے قطع نظر مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہوں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج قومی یوم اقلیت کے موقع پر ہم نہ صرف اپنی قومی تاریخ کے ایک اہم دن کی یاد منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں بلکہ سندھ کی شناخت بننے والی بھرپور ثقافتی تنوع، مشترکہ ورثے اور اتحاد کے پائیدار جذبے کو بھی خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آبادی والا سندھ اپنی ثقافتی اور مذہبی رنگا رنگی اور کثیرالجہتی روایات سے طاقت حاصل کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد حصہ غیر مسلم برادریوں پر مشتمل ہے، جو ہماری شناخت کا لازمی حصہ اور ترقی و خوشحالی کے سفر میں برابر کی شریک ہیں۔قائداعظم کے 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی سے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بانی پاکستان کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا قیام پاکستان کے وقت تھا۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا تصور واضح اور لازوال تھا کہ پاکستان کا ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہے اور اسے بلاخوف یا امتیاز اپنے مذہب پر عمل، اس کے اظہار اور اس کے تحفظ کی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی تصور آج بھی ہماری پالیسیوں اور اداروں کی رہنمائی کرتا ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کے حقوق کسی حکومت کی جانب سے دیا جانے والا احسان نہیں بلکہ آئین میں دیے گئے حقوق ہیں جن کا ہر سطح پر تحفظ اور پاسداری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے مساوات، شمولیت اور مذہبی آزادی کے اصولوں کو صوبے بھر کے اقلیتی شہریوں کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ محکمہ اقلیتی امور اقلیتی برادریوں کی سماجی اور معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد کر رہا ہے۔

ان میں مستحق طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف، شادی کے لیے امداد، کمزور اور مستحق خاندانوں کے لیے مالی معاونت، مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے تعاون اور اقلیتی آبادی والے علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت مندروں، گرجا گھروں، گردواروں اور دیگر عبادت گاہوں کی بحالی، تزئین و آرائش اور تحفظ کے لیے بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ صوبے کے بھرپور ثقافتی اور مذہبی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو آزادانہ طور پر عبادت کرنے اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور اس حق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئندہ نسلوں میں بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیم اور آگاہی کے اقدامات کے ذریعے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے بارے میں بہتر سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ سماجی ہم آہنگی اور برداشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اقلیتی برادریوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان اور سندھ کے لیے ان کی خدمات قومی زندگی کے ہر شعبے میں پھیلی ہوئی ہیں، جن میں تعلیم، صحت، سرکاری خدمات، کاروبار، صنعت، ادب، کھیل، فنون اور فلاحی خدمات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت سے لے کر سرکاری خدمات، کاروبار، کھیل، فنون اور ثقافت تک اقلیتی شہریوں نے سندھ اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کی خدمات ہمارے معاشرے کو مالا مال کرتی اور ہمارے اجتماعی مستقبل کو مضبوط بناتی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے تقریب کے دوران نمایاں خدمات اور غیر معمولی کامیابیوں کے اعتراف میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیے گئے پرائڈ آف مائنارٹی ایوارڈز حاصل کرنے والوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ باصلاحیت افراد اس بات کا ثبوت ہیں کہ صلاحیت، قیادت، حب الوطنی اور انسانیت کی خدمت تمام مذہبی اور سماجی تفریق سے بالاتر ہیں۔

ہم ان کی کامیابیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے تحریک بننے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔سندھ کی صدیوں پرانی رواداری اور بقائے باہمی کی روایات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ ہمیشہ سے ایسی سرزمین رہا ہے جہاں مختلف مذاہب اور پس منظر رکھنے والے لوگ باہمی احترام کے ساتھ مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی طاقت اس کی رنگا رنگی میں ہے۔

ہمارے مختلف مذاہب اور روایات تقسیم کا سبب نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والی قوتیں ہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ اس حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اقلیتی برادریوں کے لیے مواقع میں مسلسل اضافہ، ادارہ جاتی معاونت کے نظام کو مضبوط اور تعلیم، بااختیاری، سماجی بہبود اور معاشی شمولیت کے پروگراموں کے لیے وسائل مختص کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سندھ حکومت ہر برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی رہے گی اور ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے بھرپور کوشش جاری رکھے گی جہاں ہر شہری کو مساوی حقوق، مساوی مواقع اور مساوی احترام حاصل ہو۔وزیراعلیٰ سندھ نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے بنیادی نظریات کے ساتھ اپنے عزم کی تجدید کریں اور مساوی شہریت، مذہبی آزادی، سماجی انصاف اور انسانی وقار پر مبنی مستقبل کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر ایسا سندھ تعمیر کریں جہاں ہر فرد، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا پس منظر سے ہو، وقار، تحفظ، مواقع اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکے۔اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور ڈاکٹر شام سندر نے اقلیتی برادریوں کی فلاح، تحفظ اور بااختیاری کے لیے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے ہمیشہ بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور دوراندیشی پر زور دیا ہے۔

شام سندر نے کہا کہ محکمہ اقلیتی امور نے کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ میں شکایتی مراکز قائم کیے ہیں۔تقریب کے اختتام پر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے نمائندوں کو اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی خدمات اور کردار کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس کے بعد ہائی ٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں معزز مہمانوں، سفارت کاروں، مذہبی رہنماؤں اور برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔پروگرام کے آغاز میں سیکریٹری اقلیتی امور نے استقبالیہ خطاب کیا۔