۸129 ارب کے ہدف کے مقابلے میں خیبرپختونخوا نے 150 ارب ریونیو حاصل کیا، رواں سال ہدف 180 ارب روپے ہے، سہیل آفریدی

=عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی کاموں کی رفتار مزید تیز کی جائے، عمران خان کو ذاتی ڈاکٹروں، اہلخانہ اور وکلا تک رسائی دینا قانونی حق ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

بدھ 12 اگست 2026 22:05

ٴْپشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 اگست2026ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے وزرائ ، معاونین خصوصی اور مشیران کی جانب سے عوام سے براہ راست رابطے اور صوبے کے مختلف علاقوں کے مسلسل دورے قابل تحسین ہیں، کیونکہ عوامی رابطوں کے ذریعے نہ صرف شہریوں کو درپیش مسائل کا براہ راست علم ہوتا ہے بلکہ سرکاری افسران کے رویوں اور سروس ڈلیوری میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔

انہوں نے صوبائی محکموں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے اور ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا۔56ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزرائ کے عوامی دوروں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ حکومت کو زمینی حقائق سے براہ راست آگاہی حاصل ہو اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کابینہ ارکان کو مخالفین کی باتوں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی کارکردگی اور صوبے کے مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

محمد سہیل آفریدی نے صوبائی محکمہ خزانہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود صوبائی معیشت کو بہترین انداز میں سنبھالا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 129 ارب روپے کے مقررہ ریونیو ہدف کے مقابلے میں خیبرپختونخوا حکومت نے 150 ارب روپے ریونیو حاصل کیا، جبکہ رواں مالی سال کے لیے ریونیو کا ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض پر توجہ مرکوز رکھیں اور حق و سچ، شفافیت اور کرپشن کے خلاف مؤقف پر قائم رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان اصولوں پر مضبوطی سے کھڑے ہونے کی صورت میں سیاسی مخالفین کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم وزرائ کو مخالفین کی تنقید سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے رپورٹ کی گئی 5300 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹے جانے کے اتنے بڑے معاملے پر کوئی آواز نہیں اٹھا رہا۔

وزیراعلیٰ نے شفافیت اور عوامی وسائل کے تحفظ کو حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جاری ترقیاتی کام اب عوام کو نظر آ رہے ہیں، تاہم ان کاموں کی رفتار کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات جلد پہنچ سکیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق میڈیا پر سامنے آنے والی خبروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے خبریں پوری قوم میں تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب عمران خان کو ان کے بقول اغوا کرکے قید کیا گیا تو ان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک تھی اور وہ سپر فٹ تھے، تاہم ان کے مطابق جیل انتظامیہ اور وفاقی حکومت کی غفلت کے باعث ان کی صحت خراب ہوئی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ روز عمران خان کی بہنوں اور وکلا سے ملاقات کا دن تھا، تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً تین سال کے دوران عمران خان نے صحت کو جواز بنا کر کبھی کسی ریلیف کا مطالبہ نہیں کیا۔محمد سہیل آفریدی نے حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں، اہلخانہ، وکلا اور دوستوں کو ان سے ملاقات اور رسائی دینے کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذاتی ڈاکٹروں، خاندان، وکلا اور دوستوں تک رسائی ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور جیل انتظامیہ پر زور دیا کہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں