نئے انتظامی یونٹس بننے سے عوام کو براہ راست فائدہ ہوگا، مقررین

مقررین کا پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کو عوامی مسائل کے حل کیلیے ضروری قرار دیا اور مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور موجودہ نظام کے باعث حکومت کا احتساب نہیں ہورہا، صوبے بنیں گے تب بھی مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت ہوگی، مصطفی کمال ، قمر زمان کائرہ

پیر 17 اگست 2026 20:45

ْ اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اگست2026ء) پاکستان میں نئے صوبوں سے متعلق سیمینار میں مقررین نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔اسلام آباد میں ایس ڈی پی آئی سیمینار سے ایم کیو ایم کے مصطفی کمال، پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ اور پی ٹی آئی کے سلمان اکرم راجا نے خطاب کیا۔مقررین نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کو عوامی مسائل کے حل کیلیے ضروری قرار دیا اور مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے، انتظامی یونٹس بننے سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، پاکستان میں وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم کیلیے انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ موجودہ نظام کے باعث حکومت کا احتساب نہیں ہورہا، صوبے بنیں گے تب بھی مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت ہوگی۔پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے آئینی فریم ورک میں رہ کر صوبوں کی بحث پر بات کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو طاقتور کرنا ہوگا۔سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ نئے صوبے بنائیں تب بھی کروڑوں کی آبادی کے صوبے ہوں گے۔