سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اجلاس

منگل 25 اگست 2026 22:02

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 اگست2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی کے اجلاس میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) میں بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر حکام کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، چیئرمین کمیٹی نے افسران کی جانب سے کمیٹی کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں پی اے آر سی میں بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین پی اے آر سی مرتضیٰ اندرابی بھی کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہوئے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی اے آر سی میں بھرتیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹ ہمیں موصول نہیں ہوئی، جبکہ تمام امیدواروں کے نام اور ان کے ڈومیسائل کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں، تاہم اس کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔

(جاری ہے)

وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ بھرتیوں میں قصوروار افسران کے خلاف انکوائری جاری ہے اور اس معاملے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی نعمان رشید کر رہے ہیں۔سینیٹر پونجو بھیل نے کہا کہ ہم نے میٹنگ میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کردی تھی، خبر چلنے کے بعد ایکشن لیا گیا۔ جن بچوں نے درخواستیں جمع کرائیں اور فیسیں ادا کیں، انہیں آئندہ بھرتیوں میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سارے بچے عدالت چلے گئے ہیں، اگر وہ بحال ہوجاتے ہیں تو جو امیدوار رہ گئے ہیں وہ اوور ایج ہوجائیں گے۔ تمام صوبوں کے کوٹے کو مدنظر رکھ کر بھرتیاں کی جاتیں تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔چیئرمین کمیٹی نے افسر فخر واہلہ کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں آپ کے افسر نے جھوٹ بولا، اس نے کمیٹی کا احترام نہیں کیا۔

اسے نوکری سے نکال دینا چاہیے تھا، آپ نے صرف تین ماہ کے لیے ہٹایا۔چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ فخر واہلہ اور فرقان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی بتایا گیا کہ دونوں افسران کو صرف تین ماہ کے لیے ہٹایا گیا۔ چیئرمین پی اے آر سی نے کمیٹی کو بتایا کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ دو دن بعد موصول ہوجائے گی، جس کے بعد اس پر ایکشن لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ چار افسران میں سے دو افسران ڈس مس فرام سروس ہوچکے ہیں، جبکہ غلط بھرتیوں میں ملوث افسر وقاص خان کو بھی ملازمت سے نکال دیا گیا ہے۔ سینیٹر پونجو بھیل نے کہا کہ آپ نے پہلے دن سے ہی غلط آرڈرز کیے، ہم نے کہا کہ آرڈرز غلط ہیں لیکن آپ نے کہا کہ درست ہیں۔اجلاس میں آئل سیڈ کے حوالے سے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے حکام نے بتایا کہ سیڈ کارپوریشن آف پاکستان ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں 60 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کی کاشت ہوئی ہے، جس میں سے 29 ہزار ایکڑ بلوچستان میں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے زیتون کی کاشت کے منصوبوں پر ہونے والی بین الاقوامی فنڈنگ، مختلف علاقوں میں جاری کام اور مستقبل میں متوقع برآمدات سے متعلق تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔