میر رضا قتل کیس؛ جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان

حقائق سامنے لانے کیلئے اخبارات میں اشتہارات شائع کیے جائیں گے، ایک آفیشل ای میل ایڈریس اور واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا جائےگا۔ چیئرمین جوڈیشل کمیشن جسٹس عمر سیال

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 28 اگست 2026 18:45

میر رضا قتل کیس؛ جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 28 اگست 2026ء ) کراچی میں میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے سندھ ہائیکورٹ کے جوڈیشل کمیشن نے اہم معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کردیا ہے۔ چیئرمین جوڈیشل کمیشن جسٹس عمر سیال کا کہنا ہے کہ حقائق سامنے لانے کیلئے اخبارات میں اشتہارات شائع کیے جائیں گے، ایک آفیشل ای میل ایڈریس اور واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا جائےگا۔

سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ پولیس افسران، متعلقہ ڈاکٹرز، گواہوں کے بیانات، میڈیکل رپورٹس اور کیس سے متعلق تمام اصل دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں۔جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ کمیشن کی کارروائی شفاف اور عوام کے سامنے ہوگی اور کوئی بات چھپائی نہیں جائے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جو شخص چاہے کمیشن میں آکر کارروائی دیکھ سکتا ہے۔

نیوزایجنسی کے مطابق کمیشن کے پاس تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 30 روز کا وقت ہے اور اس دوران حقائق سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔جسٹس عمر سیال نے میر رضا کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بہیمانہ طریقے سے ان سے ان کا بچہ چھینا گیا، اہلخانہ کی تکلیف کا احساس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دس برس سے قتل کے مقدمات سن رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اہلخانہ کو اس کیس کے حوالے سے واضح جواب اور انجام درکار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انکوائری اور انویسٹی گیشن میں فرق ہوتا ہے، جوڈیشل کمیشن براہ راست کیس کی تفتیش نہیں کرے گا بلکہ اپنے طے شدہ دائرہ کار کے مطابق پولیس کی کارکردگی، تحقیقات میں موجود نقائص، غفلت اور دیگر معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے حقائق سامنے لائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قاتلوں کی گرفتاری اور مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کسی روایتی کمیشن کی طرح کارروائی نہیں کرے گا، کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کام کیا جائے گا اور کمیشن کا مقصد حقائق سامنے لانا، شفافیت کو یقینی بنانا اور عوام کا اداروں پر اعتماد بحال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف میر رضا کا نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کا ہے جو عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں، کوشش ہے کہ آئندہ کسی اور میر رضا کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔

میر رضا کے والد میر حسین نے کمیشن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پولیس کی انویسٹی گیشن پر اعتماد نہیں تاہم جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین پر اعتماد ہے۔ سماعت کے دوران میر رضا کی والدہ اور ہمشیرہ بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئیں جبکہ اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کیس سے متعلق مختلف امور کمیشن کے سامنے رکھے۔جوڈیشل کمیشن نے کیس سے متعلق اہم معلومات رکھنے والے افراد سے رابطے کے لیے اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ ایسی معلومات جو کیس کے حقائق سامنے لانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں، فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام مقرر کیا جائے۔ کمیشن کی جانب سے سرکاری ای میل اور واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا جائے گا تاکہ شہری براہ راست معلومات فراہم کرسکیں۔کمیشن نے اس مقام پر بھی نوٹس چسپاں کرنے کی ہدایت کی جہاں میر رضا کی لاش ملی تھی، تاکہ کسی شخص کے پاس واقعے سے متعلق معلومات ہوں تو وہ کمیشن سے رابطہ کرسکے۔

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو کیس کی ٹائم لائن سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ میر رضا 28 جولائی کو شام تقریباً 4 بجے گھر سے نکلا تھا اور شام 4 بج کر 38 منٹ پر اسے آخری مرتبہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں زندہ دیکھا گیا۔ ان کے مطابق میر رضا کی گمشدگی اور بعد ازاں اغوا سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔جبران ناصر کے مطابق 29 جولائی کو تقریباً 11 بج کر 52 منٹ پر مقامی نرسری کے ملازمین یاسر اور قیصر نے میر رضا کی لاش دیکھی اور پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس تقریباً 12 بج کر 25 منٹ پر موقع پر پہنچی جبکہ پولیس موبائل 12 بج کر 42 منٹ پر وہاں پہنچی۔ بعد ازاں ریسکیو ادارے کی ایمبولینس کے ذریعے لاش تقریباً ایک بج کر 15 منٹ پر جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں میر رضا کے والد نے لاش کی شناخت کی۔انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ شیخ نے کیا جبکہ لاش ملنے سے قبل ہی اغوا کا مقدمہ درج کیا جاچکا تھا۔

جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ لاش ملنے کے مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج اہلخانہ کو دکھائی گئی تاہم اس سے پہلے کی مکمل فوٹیج فراہم نہیں کی گئی۔جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کی لاش ملنے کے مقام پر سب سے پہلے پہنچنے والے پولیس اہلکاروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا۔ لاش سب سے پہلے دیکھنے والے نرسری کے ملازمین یاسر اور قیصر، لاش منتقل کرنے والے ایمبولینس ڈرائیورز محسن اور جاوید جبکہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ شیخ کو بھی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیشن نے ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے بیانات بھی قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کو بھی کمیشن کی معاونت کے لیے طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔جبران ناصر نے بتایا کہ مسجد خضراء کے کیمرے کی فوٹیج دکھائی گئی ہے تاہم مکمل فوٹیج فراہم نہیں کی گئی۔ کمیشن نے سندھ حکومت سے کیس سے متعلق تمام دستیاب شواہد اور دستاویزات بھی طلب کرلی ہیں۔

جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ اہلخانہ کی جانب سے سابق تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی پر تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق پرانی تحقیقاتی ٹیم نے مبینہ طور پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کو لکھے گئے خط میں بھی سابق تحقیقاتی ٹیم کی مبینہ غفلت کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بعض گواہوں کے بیانات کی نقول بھی اہلخانہ کو تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔ جبران ناصر کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے قیام کے وقت نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، اس لیے اہلخانہ نے نئی ٹیم کو کام کرنے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا۔