لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 ستمبر2026ء) آسٹریلیا کے ہائی کمشنر برائے
پاکستان ٹموتھی کین نے امید ظاہر کی ہے کہ
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان جدید دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر
مذاکرات رواں سال دسمبر تک مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ
پاکستان میں آسٹریلوی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 1998 سے دوطرفہ سرمایہ کاری کا معاہدہ موجود ہے، تاہم دونوں ممالک کی بدلتی ہوئی
معاشی ضروریات کے مطابق اس معاہدے کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید معاہدے کی تکمیل سے آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو
پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے مثبت پیغام ملے گا۔
(جاری ہے)
ٹموتھی کین لاہور
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کر رہے تھے۔
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے ان کااستقبال کیا اور
پاکستان کے ساتھ آسٹریلیا کے طویل عرصے سے جاری تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ٹریڈ اینڈ ایجوکیشن اظہر شاہ، چیئرمین پیڈمک میجر (ر) جاوید اقبال،
لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین عامر علی، ندیم انصاری اور کرامت علی اعوان بھی موجود تھے۔
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ
پاکستان اور آسٹریلیا کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان 1947 سے دوستانہ اور خوشگوار تعلقات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا ایک ترقی یافتہ، وسائل سے مالا مال اور بڑی تجارتی معیشت ہے، اس لیے
پاکستان آسٹریلیا کے
معاشی انتظام، زراعت، کان کنی،
تعلیم اور
ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف
پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان اشیاء کی دوطرفہ تجارت 2024-25 میں 973 ملین
ڈالر سے کم ہو کر 2025-26 میں 672 ملین
ڈالر رہ گئی ہے۔ اس دوران
پاکستان کی آسٹریلیا کو برآمدات 285 ملین
ڈالر سے کم ہو کر 275 ملین
ڈالر جبکہ آسٹریلیا سے درآمدات 688 ملین
ڈالر سے کم ہو کر 397 ملین
ڈالر رہیں۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ دوطرفہ تجارت میں کمی خطرے کی گھنٹی ہے اور اس رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کو کم از کم 3 ارب
ڈالر تک لے جانے کا ہدف تجویز کیا۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان کی آسٹریلیا کو برآمدات میں زیادہ تر ہوم ٹیکسٹائل، ملبوسات، چاول، جراحی کے آلات اور کھیلوں کا سامان شامل ہے۔
انہوں نے صنعتی لباس، کان کنی اور زراعت کے شعبوں کے لیے حفاظتی دستانے، آٹو پارٹس، انجینئرنگ مصنوعات، چمڑے کی مصنوعات، مصالحہ جات، خصوصی غذائی مصنوعات، گلابی نمک، ماربل اور پتھر کی مصنوعات، فرنیچر اور قالین کو برآمدات بڑھانے کے اہم شعبے قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا
پاکستان کو دالیں،
تیل دار اجناس، اناج، کپاس، لوہا اور اسٹیل کا فضلہ، کیڑے مار ادویات اور کاغذی مصنوعات سمیت اہم خام مال اور صنعتی اشیاء فراہم کرتا ہے، جو
پاکستان کی صنعتی اور غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
لاہور چیمبر کے صدر نے
پاکستان آسٹریلیا مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس جلد بلانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورم مارچ 2023 کے بعد سے منعقد نہیں ہوا۔ انہوں نے ترجیحی تجارتی انتظام کے لیے
مذاکرات شروع کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کئی مسابقتی ممالک کو آسٹریلیا میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے جبکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو یہ سہولت حاصل نہیں۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ کان کنی اور معدنیات کا شعبہ مشترکہ منصوبوں کے لیے بڑے مواقع رکھتا ہے۔
پاکستان کے پاس معدنی وسائل موجود ہیں جبکہ آسٹریلیا کو معدنیات کی تلاش، کان کنی کی
ٹیکنالوجی، معدنیات کی پروسیسنگ اور کانوں کے انتظام میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔انہوں نے
تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی دوطرفہ تعاون کا اہم شعبہ قرار دیا اور کہا کہ فنی
تعلیم، ٹیکنیکل ٹریننگ، تحقیق اور ڈیجیٹل مہارتوں میں تعاون بڑھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ
پاکستان کی نوجوان اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی آئی ٹی افرادی قوت اور آسٹریلیا کی جدید
ٹیکنالوجی مارکیٹ کے درمیان سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بزنس پروسیس سروسز، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ فہیم الرحمن سہگل نے آسٹریلوی ہائی کمشنر کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جسے حکومت
پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو سہولت دینے کے لیے قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ون ونڈو نظام کے ذریعے SIFC آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو مختلف طریقہ
کار اور ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتا ہے
۔لاہور چیمبر کے صدر نے امید ظاہر کی کہ آسٹریلوی ہائی کمشنر کا دورہ
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور
معاشی تعاون کو نئی رفتار دے گا اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارت اور
معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے گزشتہ اگست میں کینبرا میں ہونے والے
پاکستان آسٹریلیا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں متعدد اہم امور پر بات ہوئی، جن میں پاکستانی آموں کے لیے آسٹریلوی مارکیٹ تک بہتر رسائی اور
پاکستان میں آموں کی برآمد سے پہلے ان کی جانچ کے لیے بہتر سہولیات بھی شامل تھیں۔
ٹموتھی کین نے کہا کہ زراعت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال
پاکستان کے ساتھ آسٹریلیا کی زرعی تجارت تقریباً ایک ارب آسٹریلوی
ڈالر رہی۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ (ACIAR) گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے
پاکستان میں کام کر رہا ہے اور پاکستانی یونیورسٹیوں، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ زرعی تحقیق اور جدت کے شعبے میں تقریباً 100 ملین
ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا
پاکستان میں
پانی کے بہتر انتظام، بہتر بیجوں، خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق بیج تیار کرنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا کا ایک زرعی وفد اس وقت
لاہور میں موجود ہے اور فیصل آباد کا بھی دورہ کرے گا۔آسٹریلوی ہائی کمشنر نے لائیو اسٹاک اور ڈیری کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اب تک ایک لاکھ سے زیادہ آسٹریلوی مویشی
پاکستان بھیجے جا چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر
پنجاب آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی مویشیوں کی جینیاتی خصوصیات
پاکستان میں دودھ کی پیداوار بڑھانے اور مقامی مویشیوں کی نسل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ٹموتھی کین نے بتایا کہ پاکستانی وفد اگلے ماہ آسٹریلیا کا دورہ کرے گا تاکہ دالوں کے شعبے میں مواقع کا جائزہ لے سکے، جن میں
پاکستان کے موسمی حالات کے لیے زیادہ موزوں اقسام بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک پاکستانی وفد نے آسٹریلیا کا دورہ کر کے وہاں کے بائیو سیکیورٹی نظام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا
پاکستان میں بائیو سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ
پاکستان کی جانب سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ کینولا کی منظوری کے بعد آسٹریلیا
پاکستان کو GMO کینولا برآمد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اس سے قبل
پاکستان کو روایتی نان-GMO کینولا فراہم کرتا رہا ہے۔آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ تجارت دونوں طرف سے ہونی چاہیے اور آسٹریلیا
پاکستان سے زیادہ برآمدات اور آسٹریلوی مارکیٹ میں پاکستانی سرمایہ کاری دیکھنا چاہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ
لاہور کے موجودہ دورے کے دوران انہوں نے
پاکستان کی ایک بڑی ملبوسات بنانے والی
کمپنی سے ملاقات کی ہے جو آسٹریلوی مارکیٹ میں داخل ہونے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ملبوسات کا معیار بہت اچھا ہے اور آسٹریلیا میں ان کے لیے بڑے مواقع موجود ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ آسٹریلیا میں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والی بڑی آبادی موجود ہے۔ٹموتھی کین نے کہا کہ
پاکستان کے کان کنی اور قدرتی وسائل کے شعبے میں آسٹریلوی سرمایہ کاری کے بھی وسیع امکانات ہیں۔ انہوں نے اس شعبے میں موجود مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کو کان کنی، معدنیات کی تلاش، پروسیسنگ اور قدرتی وسائل کی ترقی میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔
تعلیم اور ہنرمندی کے حوالے سے آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ تعلیم
پاکستان اور آسٹریلیا کے
معاشی تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے تک تقریباً 20 ہزار پاکستانی طلبہ آسٹریلیا میں
تعلیم حاصل کر رہے تھے، تاہم گزشتہ 18 ماہ سے دو سال کے دوران اس تعداد میں کچھ کمی آئی ہے۔انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے فارماسیوٹیکلز اور بائیوٹیکنالوجی جیسے نئے شعبوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ
پاکستان کو ادویات کے شعبے میں قابل ذکر مہارت اور برآمدی صلاحیت حاصل ہے اور دونوں ممالک مل کر نئے بازار تلاش کرنے اور بائیوٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔کاروباری ویزوں کے حوالے سے آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ آسٹریلیا کا ویزا نظام کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتا۔ جو درخواست گزار مطلوبہ طریقہ
کار مکمل کرتے اور ضروری معلومات فراہم کرتے ہیں، ان کے ویزا حاصل کرنے کے امکانات اچھے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی حکام حقیقی کاروباری افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، خصوصاً ان افراد کو جن کے پاس ملاقات اور دورے کا واضح مقصد موجود ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ماہرین بھی آسٹریلیا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصاً انجینئرز، اکاؤنٹنٹس اور آئی ٹی ماہرین۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار ہے اور گزشتہ دس سال میں یہ تعداد تقریباً دوگنی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال آسٹریلیا سے
پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر ایک ارب
ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ اس وقت
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے لیے کوئی منصوبہ موجود نہیں۔ تاہم انہوں نے حالیہ مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس کو انتہائی مثبت قرار دیا اور کہا کہ آسٹریلیا دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔