جنگ ستمبر پاک فوج اور عوام کی بہادری کی عظیم مثال ہے، مولانا عبد الماجد

ماضی سے سبق سیکھ کر روشن اور ناقابلِ تسخیر مستقبل کی طرف بڑھنا ہوگا، مقررین کا خطاب

جمعرات 10 ستمبر 2026 19:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 ستمبر2026ء) پاکستان امن کونسل سندھ کے صوبائی صدر، مرکزی علماء کونسل پاکستان سندھ کے صوبائی صدر، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے سینئر نائب صدر، خطیب جامع مسجد الخلیل بھٹائی آباد گلستان جوہر اور مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن معروف عالم دین مولانا عبد الماجد فاروقی نے کہا ہے کہ جنگ ستمبر پاک فوج اور عوام کی بہادری کی عظیم مثال ہے، شہدائے جنگ ستمبر کو خراج عقیدت اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

وہ 61ویں یوم دفاع پاکستان کے سلسلے میں پاکستان امن کونسل کے تحت صوبائی امن سیکریٹریٹ میں منعقدہ تقریب کی صدارت کررہے تھے۔تقریب سے پاکستان امن کونسل کے سربراہ طارق محمود مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1947ئ میں جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا تو ملک کے پاس نہ بڑا دفاعی نظام تھا اور نہ وافر وسائل، تاہم قوم کے پاس ایمان کی دولت اور جذبہ موجود تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 1948ء، 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا سامنا کیا، بالخصوص ستمبر 1965ئ کی جنگ میں مسلح افواج اور عوام نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے عزائم ناکام بنادیے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کا دفاع ہماری شجاعت اور پختہ عزم کا گواہ ہے، ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے حال کی طاقت برقرار رکھ کر ایک روشن اور ناقابلِ تسخیر مستقبل کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔

مولانا محمد عکاشہ اور سماجی رہنما اسلم خان فاروقی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ آج پاکستان دفاعی اعتبار سے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے اور مسلح افواج ملک کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان روایتی اور غیر روایتی دونوں محاذوں پر اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جنگ کے طریقے تبدیل ہوچکے ہیں، اب صرف سرحدوں پر لڑائی ہی جنگ نہیں بلکہ سائبر حملوں، اطلاعاتی محاذ اور معاشی دباؤ کے ذریعے بھی ممالک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سائبر دفاع سے آراستہ کرنا ہوگا۔مقررین نے کہا کہ مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی ضامن ہے، اس لیے لسانی، صوبائی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی اتحاد کو فروغ دینا ہوگا، کیونکہ اندرونی استحکام ہی بیرونی خطرات کے خلاف سب سے بڑی ڈھال ہے۔