اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی
جمعہ 11 ستمبر 2026 22:10
(جاری ہے)
ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی نظیریں کہتی ہیں جس جگہ کا دائرہ اختیار ہوگا، اسی عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے، لیکن درخواست گزار نے پورے پاکستان کا دائرہ اختیار اس عدالت کو دے دیا ہے۔
انہوںنے کہاکہ پہلا اعتراض دائرہ اختیار پر ہے، پہلے دائرہ اختیار طے کیا جائے، قابل سماعت ہونے پر دلائل بعد میں دیں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے سوال اٹھایا کہ درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق ہے، یہ وہ نہیں سمجھ پارہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے اسلام آباد سے ایک شخص بنیادی حقوق کے معاملے پر عدالت آتا ہے، اگر ایسا مسئلہ ہوتا تو کیا صرف ایک شخص عدالت آتا انہوںنے کہاکہ سوموٹو اختیار ختم ہوچکا ہے، اب مفاد عامہ کی درخواستوں کے تحت سوموٹو کا رجحان بن رہا ہے۔دوران سماعت آواز کے مسئلے پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ کوئی غلطی ہو تو معاف کردیجیے گا، جس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ غلطی ہو تو میں معاف نہیں کرتا، سمجھا دیتا ہوں۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ تو اس عدالت میں بادشاہ ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بادشاہ کہنے کی ضرورت نہیں، میں بادشاہ نہیں ہوں، یہ عدالت ہے اور عدالت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے چیف لا افسر کو کبھی چیف جسٹس کو بادشاہ قرار دیتے نہیں سنا اور وہ چیف لا افسر کے دلائل پر حیران ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایک بیان میں رانا ثنا اللہ نے بھی کہا ہے کہ فیصلہ لانگ مارچ کے خلاف آئے گا۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ احتجاج کے لیے صرف اسلام آباد ہی نہیں، کہیں اور بھی ہو سکتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے اسے پالیسی فیصلہ قرار دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اسلام آباد کے لوگوں کے حقوق متاثر ہوں گے تو یہ عدالت مداخلت کرے گی۔چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایسی بات نہ کریں، اس بینچ میں ایک طرف خیبرپختونخوا اور دوسری طرف بلوچستان بیٹھا ہوا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جن کے بیان کا حوالہ دیا جارہا ہے، انہیں بلایا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو سننے کے لیے بلایا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ عدالت کے نوٹس پر معاونت کے لیے آئے ہیں اور خیبرپختونخوا کی نمائندگی کررہے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ وزیراعلی کی نمائندگی بھی کررہے ہیں۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ یہ سارا کچھ کرنے کے لیے اسلام آباد ضروری نہیں، ہم اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسلام آباد جتنا اسلام آباد کا ہے، اتنا ہی پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کا بھی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس بینچ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا جج بھی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ ایک قتل ہوا نہیں، اس کا ٹرائل شروع ہوچکا ہے، جن کے خلاف کیس ہے انہیں فریق بنایا ہی نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کررہے بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست گزار کے وکیل کو بولنے سے روکتے ہوئے کہا کہ آخری دفعہ کہہ رہا ہوں، خاموش رہیں اور انہیں بولنے دیں۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ دو سال سے اڈیالہ جیل سے متعلق عدالتی آرڈرز پر عملدرآمد نہیں ہورہا، کیا اس کے خلاف شہریوں کو احتجاج کا بھی حق نہیں چیف جسٹس نے کہا کہ وہ معاملہ توہین عدالت کرنے والے اور عدالت کے درمیان ہوتا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اسی وجہ سے کیسز بھی نہیں لگ رہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کب لگنا ہے، یہ عدالت کا انتظامی اختیار ہے اور عدالت نے انتظامی طور پر فیصلہ کرنا ہے کہ کیس کب لگنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تو عجیب سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں، کیا کیسز آپ کے مطابق لگنے ہیں ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے بلکہ عوام کے حقوق کی بات کررہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو آپ نے سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کردیا۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ جلوس میں کرینز ہوتی ہیں، پولیس اہلکار شہید بھی ہوئے جبکہ شیلنگ سے بچنے کے لیے ماسک استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مریم نواز اس درخواست میں فریق نہیں اور نہ ہی وہ عدالت میں موجود ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ایک لا آفیسر کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی، یہ عدالت ہے، سیاسی فورم نہیں۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالت جو بھی ہدایت دے گی، وہ اس پر عمل کریں گے، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے دلائل کا آغاز کردیا۔عدالت نے خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری اور آئی جی سے حلف نامہ طلب کرتے ہوئے کہا کہ جواب الجواب جمع کروائے جاسکتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اور آئی جی کے علاوہ باقی افسران کو پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔مزید اہم خبریں
-
لاہورہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری حکم جاری کردیا
-
محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور کشیدگی کے جواب میں کشیدگی کی پالیسی جاری رکھیں گے. حوثی عسکری ترجمان
-
سوات تکرار پر بیٹے نے فائرنگ کرکے باپ کو قتل کر کے خودکشی کرلی
-
سپریم کورٹ کے ایڈمن بلاک میں آگ لگ گئی
-
تحریک انصاف کے راہنماﺅں کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات‘لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت
-
امریکا آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ایران کے خلاف جنگ مکمل کرے گا.پیٹ ہیگسیتھ
-
نائن الیون کی قیمت 45لاکھ سے زیادہ لوگوں نے جانیں دے کر ادا کی
-
شفیع جان نے آج عظمیٰ بخاری کے بارے میں جو زبان استعمال کی، وہ انتہائی شرمناک ہے
-
یمن: یو این امدادی ادارے کی گاڑیاں ضبط ہونے پر تشویش
-
معاشی ایمرجنسی موسمیاتی بحران پر سیاسی عدم اتفاق سے عدم توجہی کا شکار
-
موسمیاتی شدت اور سیلابوں سے دنیا بھر میں لاکھوں سکول بند، یونیسف
-
خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا یمن تنازعہ سرحد پار پھیلنے کا خدشہ، گرنڈبرک
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.