Live Updates

ایران جنگ میں تیل کی کمائی سے کون کما رہا ہے؟‘ٹرمپ اور قریبی ساتھیوں پر الزامات

خام تیل 100 ڈالر سے اوپر، اربوں ڈالر کی مارکیٹ، مشتبہ ٹریڈنگ اور جنگی معیشت کا اصل فائدہ اٹھانے والے کون؟. خصوصی تحقیقاتی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 11 ستمبر 2026 18:38

ایران جنگ میں تیل کی کمائی سے کون کما رہا ہے؟‘ٹرمپ اور قریبی ساتھیوں ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 ستمبر ۔2026 ) امریکا اوراسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد صرف مشرق وسطیٰ کا نقشہ نہیں بدلا بلکہ عالمی تیل مارکیٹ کو بھی شدید ہلچل سے دوچار کر دیا ہے آبنائے ہرمز میں کشیدگی، تیل بردار جہازوں پر حملوں اور سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات نے خام تیل کی قیمت کو دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دیا ہے 10 ستمبر کو برینٹ خام تیل 100 ڈالر سے اوپر جبکہ امریکی ”وی ٹی آئی“ بھی 100 ڈالر کے قریب پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں مہنگائی کے خدشات مزید بڑھ گئے.

(جاری ہے)

اس پوری صورتحال میں ایک بنیادی سوال مسلسل اہم ہوتا جا رہا ہے جنگ کا مالی بوجھ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، تو تیل کی اس اضافی کمائی سے اصل فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ جنگ کے سب سے واضح مالی فائدہ اٹھانے والوں میں وہ تیل کمپنیاں شامل ہیں جو ایران اور آبنائے ہرمز کے براہِ راست خطرے سے نسبتاً محفوظ علاقوں میں پیداوار جاری رکھ سکتی ہیں امریکی shale producers، کینیڈین oil sands کمپنیاں اور لاطینی امریکا کے بعض پیدا کنندگان عالمی قیمت بڑھنے سے زیادہ قیمت پر اپنا تیل فروخت کر سکتے ہیں امریکی کمپنی Occidental Petroleum نے حالیہ سہ ماہی میں تقریباً 96.78 ڈالر فی بیرل کی عالمی realized oil price رپورٹ کی، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھا.

دنیا کے بڑے نشریاتی اور خبررساں اداروں اور اخبارات میں شائع رپورٹوں سے تحقیق کے دوران سامنے آیا ہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں متعدد امریکی oil producers کے حصص کی قیمتوں میں تقریباً 20 سے 70 فیصد تک اضافہ ہوا یعنی ایک طرف امریکی صارف پٹرول کی بلند قیمت ادا کر رہا ہے، دوسری طرف بعض امریکی توانائی کمپنیوں کی آمدنی اور market valuation بڑھ رہی ہے.

دوسرا بڑا گروپ خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک اور ان کی قومی توانائی کمپنیاں ہیں جنگ کے نتیجے میں اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت بلند رہتی ہے تو ہر اضافی ڈالر فی بیرل ان ممالک کے لیے بڑے اضافی ریونیو میں تبدیل ہو سکتا ہے اگر وہ اپنی برآمدات برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں یہاں سعودی عرب کو ایک نسبتاً اہم جغرافیائی فائدہ حاصل ہے اس کا تیل پائپ لائن کا نظام خلیج کے بعض خطرات کو نظرانداز کرتے ہوئے تیل کو بحیرہ احمر تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی وجہ سے سعودی تیل کی برآمدات کو بعض حالات میں آبنائے ہرمز کی بندش سے نسبتاً کم نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن جنگی معیشت کا سب سے پیچیدہ حصہ آئل پروڈیوسر نہیں بلکہ کموڈٹی ٹریڈرز‘ہیج فنڈز اور دیگر سرمایہ کار ہیں تیل کی قیمت میں اچانک 10، 20 یا 30 فیصد حرکت مستقبل اورآپشنز مارکیٹ میں اربوں ڈالر کے منافع یا نقصان کا سبب بن سکتی ہے.

جنگ کے دوران تیل کی قیمت بڑھنے سے منافع کمانا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں غیر قانونی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی شخص کو ایسی معلومات پہلے سے حاصل ہوں جو عام سرمایہ کاروں کے پاس نہ ہو، اور وہ اسی معلومات کی بنیاد پرٹریڈ کرے”ان سائیڈٹریڈنگ“کے الزامات نے ٹرمپ انتظامیہ پر ایسے الزامات سے امریکی سیاست میں ہلچل پیدا ہے. امریکی سینیٹرز ایلزبتھ وارن اورشیلڈن وائٹ ہاو¿س نے اپریل میںکموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران سے متعلق اہم اعلانات سے فوراً پہلے ہونے والی غیر معمولی ”آئل فیوچرز ٹریڈنگ“کی تحقیقات کی جائیں سینیٹرز کے مطابق 23 مارچ کو ٹرمپ کے ایران سے متعلق مذاکرات اور ممکنہ کشیدگی میں کمی کے اعلان سے تقریباً 16 منٹ پہلے فیوچر ٹریڈنگ میں اچانک تقریباً 580 ملین ڈالر کے سودے ہوے.

امریکی سینیٹرزکا کہنا ہے کہ 7 اپریل کو بھی ٹرمپ کے ایران سے متعلق دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان سے قبل تیل کی قیمتوں پرتقریباً 950 ملین ڈالر کا سٹہ لگایا گیا اور صدر کے اعلان کے بعد تیل کی قیمت تقریباً 15 فیصد گری سٹہ لگانے والی ویب سائٹس میں صدرٹرمپ کے بیٹے جان ٹرمپ کی بھاری شراکت داری ہے. امریکی صحافی بھی اس مشتبہ ٹریڈنگ کی تحقیقات کے مطالبات کرتے آرہے ہیں ‘امریکی سینیٹرز نے کموڈٹی فیوچر ٹریڈنگ کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے امریکی مین اسٹریم میڈیا نے بھی ان ٹریڈنگ کے امکانات پر سوالات اٹھائے ہیں Axios نے مارچ میں رپورٹ کیا تھاکہ ٹرمپ کے اہم”مارکیٹ مووننگ“ فیصلوں سے پہلے متعدد مواقع پر غیر معمولی ٹریڈنگ دیکھی گئی جن میں ان کے بہت سارے قریبی لوگوں کے نام بھی آتے ہیں بظاہر یہ تضاد بھی حیران کن ہے کہ عالمی تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے لیکن ایران خود اس صورتحال کا بڑا مالی فائدہ اٹھانے والا نہیں.

ادھرچین نے ایران اور روس سے نسبتاً سستا تیل حاصل کرنے کے لیے متبادل تجارتی راستے اختیار کیے ہیں رپورٹوں کے مطابق ایران نے پابندیوں سے بچنے کے لیے چین کے ساتھ ایک پیچیدہ نظام قائم کیا ہے جس کے ذریعے ایرانی تیل کے بدلے چینی اشیا حاصل کی جا رہی ہیں اس نظام میں اربوں ڈالر کی تجارت روایتی بینکاری نظام سے باہر کی جا رہی ہے اسی دوران چینی کمپنیوں نے روسی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ روسی خام تیل بعض متبادل ذرائع کے مقابلے میں کم قیمت پر دستیاب ہے .

جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے‘ان سائیڈٹریڈنگ‘حکمران اشرافیہ اور عالمی سرمایہ کارپیسہ کما رہے ہیں مگر اس کی قیمت عام شہر ی مہنگے پٹرول‘ مہنگی ٹرانسپورٹ ‘ مہنگی بجلی‘ مہنگی خوراک‘ بلند مہنگائی‘ بلند شرح سود اور کم معاشی نمومیں اداکررہے ہیں اور سالوں تک انہیں یہ قیمت اداکرنا ہوگی امریکا میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراط زر کو بڑھایا ہے اور 9 ستمبر تک امریکی پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.22 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی تھی دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے لیے مسئلہ اس سے بھی سنگین ہے کیونکہ انہیں مہنگا تیل درآمد کرنے کے لیے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک میں اس کا براہِ راست اثر پٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعتی لاگت اور بالآخر عام آدمی کی جیب پر پڑ رہاہے.

ایران جنگ نے ایک ایسا مالیاتی ایکوسسٹم پیدا کر دیا ہے جہاں ایک طرف عام صارف مہنگا پٹرول خرید رہا ہے، دوسری طرف بعض توانائی کمپنیوں کے منافع اور حصص کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جبکہ عالمی منڈیوں میں اربوں ڈالر کا سٹہ کھیلا جارہا ہے اور جب انہی منڈیوں میں کسی بڑے سیاسی یا فوجی اعلان سے چند منٹ پہلے غیر معمولی ٹریڈنگ نظر آئے تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کچھ سرمایہ کار صرف جنگ کے خطرات کا اندازہ لگا رہے تھے، یا کسی کوبندکمروں میں ہونے والے فیصلوں کی خبر عام اعلان سے پہلے مل رہی تھی؟ ایران جنگ میں میزائل صرف میدان جنگ میں نہیں چل رہے اس جنگ کی ایک دوسری لڑائی عالمی تیل اور مالیاتی منڈیوں میں بھی جاری ہے اور اس لڑائی میں کچھ لوگ اربوں ڈالر کما رہے ہیں جبکہ اس کی قیمت دنیا بھر کے عام صارفین ادا کر رہے ہیں . 
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات