پھولوں کا شہر پشاور ماحولیاتی آلودگی کے سنگین ترین بحران کی زد میں ہے ، سانس ، دمہ سمیت دیگر بیماریوں میں اضافہ

جمعرات 24 ستمبر 2026 17:44

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2026ء) پھولوں کی خوشبوؤں، گلِ داؤدی اور شفاف نیلے آسمانوں کا تاریخی شہر پشاور آج غیر رجسٹرڈ رکشوں کے طوفان، اینٹوں کے بھٹوں اور ماربل فیکٹریوں کے زہریلے دھوئیں کی چادر تلے دم گھٹ رہا ہے۔ پورا خیبر پختونخوا اس وقت شہری اور ماحولیاتی آلودگی کے سنگین ترین بحران کی زد میں ہے جبکہ پشاور اس ماحولیاتی المیے کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں شہری سانس اور دل کی مہلک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

قصہ خوانی کے تاریخی بازار سے لے کر اشرف روڈ، چارسدہ روڈ اور یونیورسٹی روڈ کے مصروف چوراہوں تک شہری پرآلود ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی صوبائی قيادت اس سنگین چیلنج سے آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔ شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل قومی ماحولیاتی معیار کی طے شدہ حد سے کہیں اوپر جا رہا ہے جبکہ ہوا میں باریک زہریلے ذرات ( پی ایم 2.5) کی مقدار بھی خطرے کے نشان سے کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ماہرِ امراضِ اطفال و معالج ڈاکٹر ملک ریاض نے قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ایم 2.5 کی آلودگی عمر کے ساتھ شرحِ اموات کے خطرے کو تیزی سے بڑھاتی ہے۔ بے لگام ٹریفک، بھٹوں، ماربل اور چپ بورڈ فیکٹریوں کی وجہ سے پشاور کے رہائشی شدید طبی خطرات کی زد میں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ انتہائی باریک ذرات پھیپھڑوں کے راستے خون کی نالیوں میں سرائیت کر جاتے ہیں جو آگے چل کر دل کے امراض، دمہ اور سانس کے دائمی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضا میں پی ایم 2.5 کی مقدار 25 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر سے کم ہونی چاہیے جبکہ پشاور میں یہ شرح تشویشناک حد تک بلند ہے۔ تحقیقات کے مطابق پشاور کی فضائی آلودگی میں 58.5 فیصد حصہ صرف ترسیل و ٹرانسپورٹ کے شعبے کا ہے جبکہ سڑکوں کی دھول، گھریلو ایندھن اور صنعتی دھوئیں نے اس زہریلے آمیزے کو مزید مہلک بنا دیا ہے۔ شہر کی فضا میں تقریباً دس فٹ کی بلندی پر دھندلاہٹ اور گرد کی ایک ایسی تہہ جمی رہتی ہے جو روشن صبح میں بھی صاف نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر ملک ریاض کا کہنا ہے کہ اس آلودگی کے طبی اثرات انتہائی تباہ کن ہیں۔ ہمارے پاس دمہ، برونکائٹس اور سی او پی ڈی کے مریضوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ان میں سے بیشتر کا تعلق پشاور کے شہری علاقوں سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر فضائی آلودگی سالانہ تقریباً 70 لاکھ افراد کی جان لے لیتی ہے جن میں سے 32 لاکھ سے زائد اموات صرف سی او پی ڈی کے باعث ہوتی ہیں۔

پاکستان میں اس بیماری سے شرحِ اموات فی لاکھ مردوں میں 138.2 اور خواتین میں 41.3 ہے۔ یہ وہ تلخ اعداد و شمار ہیں جو پشاور کے کئی گھرانوں کا المیہ بن چکے ہیں۔ سابق سرکاری ملازم مثل خان کے لیے یہ آلودگی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک ذاتی المیہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سانس کی موذی بیماری (سی او پی ڈی) نے مجھ سے میری شریکِ حیات جدا کر لی۔

میری اہلیہ حسن زادگئی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں فوت ہونے سے قبل مہینوں کھانسی اور سانس کی تکلیف سے تڑپتی رہیں۔ غمزدہ مثل خان اب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بے مقصد لانگ مارچ میں اپنی توانائی ضائع کرنے کے بجائے ماربل فیکٹریوں اور اینٹوں کے بھٹوں کو رہائشی علاقوں سے فوری باہر منتقل کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ ہمیں صاف ہوا میسر آئے تاکہ کوئی اور شخص اپنی اہلیہ سے محروم نہ ہو ، یہ آلودگی ایک خاموش قاتل ہے۔

پیر زکوڑی شریف پل پر کھڑے ہوں تو ہزاروں گاڑیوں اور کارخانوں سے نکلتا سیاہ گاڑھا دھواں صاف دکھائی دیتا ہے۔ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) جیسے نامکمل منصوبوں کے لیے درختوں اور گرین بیلٹس پر بلڈوزر چلانے سے شہر کے قدرتی فلٹرز ختم ہو چکے ہیں۔ ٹریفک کے دباؤ اور بے ہنگم تعمیرات نے پشاور کی ہریالی کو گرد و غبار کی سرمئی دھند میں بدل دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف ہوا تک محدود نہیں رہا۔ دریائے کابل اور سوات میں صنعتی کیمیکلز، سیوریج اور پلاسٹک کا کچرا بہائے جانے سے آبی حیات اور انسانی صحت شدید خطرے میں ہے۔نامور ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر سلیم الرحمن نے توجہ دلائی کہ دریاؤں میں پلاسٹک کے انبار سے 'مہاشیر' اور 'ٹراؤٹ' جیسی نایاب مچھلیوں کی بقا خطرے میں ہے۔ یہ ایک ماحولیاتی ایمرجنسی ہے جس کا وزیراعلیٰ کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔

دوسری جانب انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کےلیے اقدامات جاری ہیں۔ڈسٹرکٹ گورنمنٹ آفس میں جدید ترین سسٹم نصب کر دیا گیا ہے تاکہ فضائی معیار کا ریئل ٹائم ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ گڑھی چندن کے مقام پر شجرکاری اور پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی سمیت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کارخانوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

تاہم ماہرینِ ماحولیات کا موقف ہے کہ شہری آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے لیے ایک براہِ راست خطرہ ہے۔ حکومت اور عوام کے مشترکہ اقدامات کے بغیر خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشاور کی آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے گا۔ مثل خان جب اپنے بچوں کو صبح سکول جاتے دیکھتے ہیں تو ان کی آہ پشاور کے ہزاروں شہریوں کی آواز بن جاتی ہے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ہمیں صاف ہوا میں سانس لینے کا حق دو۔