صدر مملکت سے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو کی ملاقات، پاکستان آئی ایل او کو ایک سٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے، آصف علی زرداری

منگل 6 اکتوبر 2026 20:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اکتوبر2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے درمیان روزگار، ہنرمندی، سماجی تحفظ اور محفوظ لیبر مائیگریشن کے شعبوں میں عملی اور نتیجہ خیز شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایل او کو ایک سٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔

انہوں نے یہ بات انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ منگل کو ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان آئی ایل او کے سہ فریقی نظام اور سماجی مکالمے کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام 2023-27 کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے روزگار، سماجی تحفظ، محنت کے معیارات اور کام کی جگہ پر تحفظ سمیت اس کے موثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ صدر مملکت نے بھرتی، ہنرمندی کی تصدیق، ایمپلائر میچنگ، مائیگریشن کے اخراجات، معاہدوں، بیرون ملک تحفظ اور دوبارہ معاشرے میں انضمام سمیت تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنے والے جامع ’’پاکستان فیئر اینڈ سیف لیبر مائیگریشن فریم ورک‘‘ کی تیاری میں معاونت کی درخواست کی۔

انہوں نے ’’فرام سکلز ٹو گلوبل جابز‘‘ کے عنوان سے آئی ایل او-پاکستان شراکت داری کی تجویز بھی دی تاکہ تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت کو ان ممالک کی افرادی قوت کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے جہاں پاکستانی کارکن خدمات انجام دیتے ہیں اور انہیں باوقار روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔صدر آصف علی زرداری نے خلیجی ممالک، یورپ، مشرقی ایشیا اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے ساتھ لیبر مائیگریشن کے راستے کھولنے اور انہیں مضبوط بنانے میں آئی ایل او کی معاونت پر زور دیا۔

انہوں نے آئی ایل او کنونشن نمبر 160 برائے لیبر سٹیٹسٹکس کی پاکستان کی توثیق کی روشنی میں ملک کے لیبر مارکیٹ انفارمیشن سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے بھی آئی ایل او سے تعاون طلب کیا۔صدر مملکت نے گلبرٹ ایف ہونگبو کی قیادت میں آئی ایل او کے اقدامات کو سراہا جن میں گلوبل کولیشن فار سوشل جسٹس، پلیٹ فارم اکانومی میں ڈیسنٹ ورک سے متعلق کنونشن نمبر 193 کی منظوری اور منصفانہ بھرتی اور لیبر مائیگریشن کے فروغ کے لیے کوششیں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کی بڑی نوجوان افرادی قوت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل اور فری لانس معیشت کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔انہوں نے مارچ 2025ء میں پاکستان کی جانب سے آئی ایل او کے تین اہم معاہدوں کی توثیق کا بھی ذکر کیا جن میں جبری مشقت کے کنونشن کا 2014ء کا پروٹوکول، میری ٹائم لیبر کنونشن 2006 اور آئی ایل او کنونشن نمبر 160 برائے لیبر سٹیٹسٹکس شامل ہیں۔

صدر مملکت نے آئی ایل او کو دعوت دی کہ وہ تکنیکی معاونت، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور لیبر مارکیٹ سے متعلق بہتر اعداد و شمار کے ذریعے ان عہدوں کو موثر عملدرآمد میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کی معاونت کرے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان آئی ایل او کی معاونت سے قومی پیشہ ورانہ صحت و سلامتی پالیسی اور اس کے نفاذ کے فریم ورک کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

صدر مملکت نے آئی ایل او کے اصلاحاتی اقدام کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد ادارے کے بنیادی مینڈیٹ اور تکنیکی مہارت کا تحفظ کرتے ہوئے اسے مزید موثر بنانا ہے۔ انہوں نے عملے کے ساتھ منصفانہ رویے، جغرافیائی توازن اور ملازمتوں کے غیر رضاکارانہ خاتمے کو کم سے کم رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔گلبرٹ ایف ہونگبو نے آئی ایل او کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے باوقار روزگار، سماجی انصاف، لیبر مائیگریشن، ہنرمندی کے فروغ اور پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھنے کے لیے ادارے کی آمادگی کا اعادہ کیا۔

انہوں نے صدر مملکت کو آئی ایل او کی ترجیحات اور پاکستان کے ساتھ جاری تعاون کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ملاقات میں آئی ایل او کی سینئر ایڈوائزر ہیتومی ناکاگومے اور پاکستان میں آئی ایل او کنٹری آفس کے ڈائریکٹر گیر تھامس ٹونسٹول بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل محمد عون چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر، وفاقی سیکرٹری اوورسیز و ترقی انسانی وسائل ندیم اسلم چوہدری، قائم مقام سیکریٹری خارجہ نبیل منیر، ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے صدر ماجد عزیز اور آئی ایل او گورننگ باڈی کے ڈپٹی ممبر (ورکرز) محمد سعد بھی ملاقات میں موجود تھے۔

\932