عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، وہ جیل میں اس لیے ہے کہ طاقتور قوتوں کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہا، سہیل آفریدی

مخالفین عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اسی لئے باہر نہیں آنے دینا چاہتے، ملاقات کیلئے تمام آئینی وقانونی راستے اپنانے، پھر بھی اگر انصاف نہ ملے تو آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 7 اکتوبر 2026 00:17

عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، وہ جیل میں اس لیے ہے کہ طاقتور قوتوں ..
کوہاٹ (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 06 اکتوبر 2026ء ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ چیلنج کرتا ہوں کہ 7 نکاتی مطالبات میں ایک بھی غیرآئینی غیرقانونی ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کردوں گا، عمران خان کا علاج، ملاقات، انصاف کے ذریعے رہائی غیرآئینی مطالبہ نہیں، ججز اگر کیسز سنیں تو خان ایک گھنٹے میں جیل سے باہر ہوگا، مخالفین مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اسی لئے باہر نہیں آنے دیتے۔

کوہاٹ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ ہم لانگ مارچ پر کیوں مجبور ہوئے۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد اب تک ہر دروازہ کھٹکھٹایا اور تمام جمہوری، آئینی و قانونی راستے اختیار کیے، بار بار کہا کہ بتائیں میرے پاس کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی راستے اپنانے کے بعد وزیراعظم کو فون کرکے عمران خان سے ملاقات کرانے کا کہا، جس پر کہا گیا کہ پوچھ کر بتاتا ہوں۔

بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے حق میں قرارداد بھی منظور ہوئی، چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی درخواست کی، مگر ملاقات نہ ہوسکی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سلام لینا بھی گوارا نہیں کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججز نے عمران خان کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کرانے کا حکم دیا، مگر اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔

جہاں سے انصاف کی توقع ہو مگر انصاف نہ ملے، وہاں آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ اسی لیے جنوبی ریجن سے پرامن احتجاج کا آغاز کیا ہے اور نہتے و پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستانیوں اپنے سب کو بتانا ہے کہ ہمارے مطالبات کیا ہے، ہم نے اپنے مطالبات کا مسودہ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے، اگر ایک بھی نکتہ غیر قانونی یا غیر آئینی ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔

عمران خان کا علاج اور ملاقات غیر آئینی نہیں، انصاف کے ذریعے رہائی بھی غیر آئینی نہیں۔ ججز کیسز کیوں نہیں سن رہے، کیسز سنیں تو عمران خان ایک گھنٹے میں باہر ہوں گے۔ عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، وہ جیل میں اس لیے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور دنیا کی طاقتور قوتوں کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہا۔ ان کے مطابق مخالفین عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور انہیں باہر نہیں آنے دینا چاہتے۔