مذاکرات کے دوران ہم نے ایک بار بھی لانگ مارچ ملتوی کرنے کا نہیں کہا.طارق فضل چوہدری

پی ٹی آئی کے 36 ارکان قومی اسمبلی استعفیٰ نہیں دیں گے‘شہباز شریف نے دھمکی نہیں دی، مسائل کا حل بتایا ہے . وفاقی وزیرکی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 6 اکتوبر 2026 22:59

مذاکرات کے دوران ہم نے ایک بار بھی لانگ مارچ ملتوی کرنے کا نہیں کہا.طارق ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 اکتوبر ۔2026 ) وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جنید اکبر کے لائحہ عمل پر کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 36 ارکان قومی اسمبلی استعفیٰ نہیں دیں گے نجی ٹی وی کے پروگرام میں طارق فضل چوہدری اور جنید اکبر نے شرکت کی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کی. وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دھمکی نہیں دی، مسائل کا حل بتایا ہے اور لانگ مارچ سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات گنوائے ہیں انہوں نے کہا کہ جواب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے جو بات کی ہے، وہ خطرناک ہے، مذاکرات کے دوران ہم نے ایک بار بھی لانگ مارچ ملتوی کرنے کا نہیں کہا.

(جاری ہے)

قبل ازیں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے دوٹوک اندازمیں کہا تھا مذکرات دوبارہ ہوسکتے ہیں مگر اس کے لیے تحریک انصاف کو پہلے اپنا لانگ مارچ غیرمشروط طور پر ختم کرنا پڑے گا‘اسی طرح پیپلزپارٹی کی راہنما اور حکومتی مذکراتی کمیٹی کی رکن شیریں رحمان بھی کہہ چکی ہیں کہ مذکرات میں لانگ مارچ کے غیرمشروط خاتمے کی بات کی گئی تھی.

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہم نے گفتگو کا آغاز کے پی میں دہشت گردی کے مسئلے سے کیا تھا، ہم نے کہا کہ اس جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون نہیں مل رہا ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی وفد نے کہا کہ ہمارے پاس مینڈیٹ نہیں ہم صوبائی حکومت سے بات کریں گے، آج وزیراعلیٰ کہہ رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تعاون نہیں کروں گا. وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے وہاں لاشیں گررہی ہیں، اگر صوبے میں سیاسی جماعتوں نے قرار داد پاس کی ہے تو قابل احترام ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو کبھی دہشت گردی کی مذمت کرتے نہیں سنا، بتایا جائے کہ کیا صوبائی حکومت دہشت گردی اکیلے کنٹرول کرسکتی ہے؟.

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی، اسمگلنگ اور منشیات کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے، دہشت گردی کے خلاف جو وفاقی ادارے کام کررہے ہیں، اس میں صوبائی حکومت نے سپورٹ دینی ہے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مذاکرات میں کیوں نہیں آئے؟ مذاکرات میں پہلا نقطہ تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا مینا خان کو ہونا چاہیے، ایمرجنسی اگر لگے گی تو پی ٹی آئی حکومت کی حرکتوں کی وجہ سے لگے گی.