خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو تحریک انصاف اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے گی. جنید اکبرخان

مذاکرات میں یہ ہم سے تو مطالبات کررہے تھے ہمارا کوئی مطالبہ شامل نہیں کیا جارہا تھا. تحریک انصاف کے صوبائی صدر کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 6 اکتوبر 2026 23:09

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو تحریک انصاف اسمبلیوں ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 اکتوبر ۔2026 ) تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگنے کے بعد کا لائحہ عمل بتا دیا ہے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو تحریک انصاف اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ استعفے نہ دینے والے چاہے 36 ہوں، 56 ہوں یا 70 ہوں، تحریک انصاف ہر صورت اسمبلیوں سے استعفے دے گی، پارٹی میں قیادت کی کوئی کمی نہیں.

(جاری ہے)

پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی کہا کہ لانگ مارچ وزیراعظم کے کہنے پر شروع نہیں کیا، جو ان کے کہنے پر ملتوی کریں گے، پارٹی نے جس مقصد کے لیے ہمیں رکھا تھا ہم نے وہ ذمے داری نبھائی ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے شاید ہماری مذاکرات کی بات کو کمزوری سمجھا، اسمبلی میں ہماری تقریریں غائب ہوجاتی ہیں، سیاسی اسپیس نہیں ملتی. جنید اکبر نے کہا کہ لانگ مارچ شروع کرنے میں طویل وقت اس لیے رکھا کہ کوئی درمیان راستہ نکالا جائے، خیبر پختونخوا میں ہم نے اور ہمارے بچوں نے رہنا ہے جو فیصلے کرتے ہیں نہ یہ خود یہاں رہتے ہیں نہ ان کے بچے، یہ شاید ملک سے باہر رہیں گے، عمران خان 20 سال سے یہی بات کر رہے ہیں، خیبر پختونخوا میں اسی بنیاد پر لوگ ہمیں ووٹ دیتے ہیں.

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ سب سے زیادہ تو میری خواہش ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان ہو، صوبے میں ڈی سی کو ٹرانسفر کیا جائے تو ان کو کال آتی ہے کہ چارج نہ لیں ان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات ہوں، ہمیں کہا گیا کہ لانگ مارچ ملتوی کریں ہم نے کہا ٹھیک ہے کرتے ہیں، مذاکرات میں یہ ہم سے تو مطالبات کررہے تھے ہمارا کوئی مطالبہ شامل نہیں کیا جارہا تھا.

جنید اکبر نے کہا کہ ہم پر تو یہ الزام لگاتے ہیں کہ دہشت گردی کو سپورٹ کرتے ہیں، باقی سیاسی جماعتوں کو بٹھالیں، پی ٹی آئی کو نکال کر باقی سیاسی جماعتوں کو بٹھادیں وہ جو کہیں گے وعدہ ہے کہ عمل ہوگا انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے میں دہشت گردوں اور ان کو سپورٹ کرنے والوں کی مذمت کرتا ہوں، جنہوں نے دہشت گردوں سے پیسے لیے، ان سے مذاکرات کیے ان کی بھی مذمت کرتا ہوں.

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر نے کہا کہ جنہوں نے دہشت گردوں کو کہا کہ پنجاب میں حملے نہ کریں خیبر پختونخوا میں کریں ان کی بھی مذمت کرتا ہوں، ہم نے تو کبھی دہشت گردوں کو سپورٹ نہیں کیا، کبھی اسامہ بن لادن سے پیسے نہیں لیے. ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان میں ہمارے دو وزیر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے، آج بھی ہمارے ایک وزیر پر حملہ ہوا ان کا بھائی اور بھتیجا شہید ہوا، مجھے نون لیگ کے شہدا کا نام بتادیں یہ کتنے جنازے اٹھا چکے ہیں جنید اکبر نے کہا کہ ہماری حکومت میں ہمارے ایم این ایز کے دروازے توڑے جاتے ہیں سی ایم کو اٹھایا جاتا ہے، ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے، وزیر اٹھائے جاتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف سے پوچھیں کہ طالبان سے بات کرنے گئے تو کیوں افغانستان سے ان کو لے کر آئے تھے، ہیلی کاپٹر بھر کر جو لوگ افغانستان مذاکرات کے لیے گئے تھے ان کی فہرست دنیا کو دکھا دیں، ان لوگوں میں بتادیں کہ پی ٹی آئی کا کونسا بندہ شامل تھا. پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمارے بیرسٹر سیف ان لوگوں میں شامل تھے لیکن ان کا تو مجھے بھی نہیں پتا کہ پارٹی میں ہیں یا نہیں، ہم تو چیخ رہے تھے کہ دہشت گردوں کو واپس لاکر یہاں بسایا جارہا ہے ان کا کہنا تھا کہ مراد سعید اس لیے چھپے ہوئے ہیں کہ وہ اس وقت چیخ رہے تھے کہ دہشت گردوں کو یہاں نہ لائیں، ہماری ترجیح عمران خان اس لیے ہیں کہ ہم نے ان کی وجہ سے کے پی میں امن دیکھا.

جنید اکبر نے کہا کہ یہ بڑھکیں مار رہے ہیں ان کی ہمت ہی نہیں کہ گورنر راج لگائیں، ہم اپنی حکومت بچا بھی سکتے ہیں اور پھونک بھی سکتے ہیں، ہم تو چاہتے ہیں کہ یہ ایسا کوئی کام کریں ہمیں بڑی آسانی ہوجائے گی انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے 7 ڈپٹی کمشنروں کا ٹرانسفر کیا تو ہر ایک کو کال آئی کہ آپ چارج نہیں لے سکتے، وزیراعلیٰ چارسدہ گئے ڈی پی او نے پروٹوکول دیا تو دوسرے دن ان کا ٹرانسفر ہوگیا.