Live Updates

سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی فوجی تعینات ہیں: دفترِ خارجہ

DW ڈی ڈبلیو جمعہ 9 اکتوبر 2026 18:20

سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی فوجی تعینات ہیں: دفترِ خارجہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 اکتوبر 2026ء) پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''پاکستان کی جانب سے پہلے ہی ریاض میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکار اور وسائل موجود ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا رواں سال ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے اہم دفاعی معاہدے کے بعد پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجی اہلکار حوثیوں کے خلاف حملے کے لیے سرحد پار نہیں کریں گے، بلکہ ان کا کردار سعودی سرزمین کا دفاع کرنا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ جمعرات کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا، جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے، جن میں ایک سعودی ایئرلائنز کمپنی کے طیارے کا پائلٹ شامل تھا۔

(جاری ہے)

مکہ دفاعی معاہدہ

پاکستان نے اگست میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے عہد کیا تھا کہ ان میں سے کسی ایک پر حملہ ہونے کی صورت میں باقی دونوں ممالک اس کی مدد کریں گے۔

حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان تنازع پھیلتا جا رہا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے سرحد کے قریب تیز رفتار فوجی کارروائی شروع کرنے کے بعد سعودی اہداف پر بار بار حملے کیے ہیں۔

سجاد حیدر خان نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ سعودی عرب میں تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد پاکستان نے مزید فوجی تعینات کیے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی تعیناتی کی تعداد، وقت اور مقام کا فیصلہ سہ فریقی اتحاد کرے گا۔

اس اتحاد کا صدر دفتر ریاض میں ہے اور اس کے سکریٹری جنرل پاکستان کے ایک ریٹائرڈ جنرل ہیں۔

ترجمان نے نشاندہی کی کہ پاکستان 1980 کی دہائی سے سعودی عرب میں باقاعدگی سے فوجی تعینات کرتا رہا ہے۔

ان کے مطابق 2025 میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوطرفہ معاہدے پر دستخط کے بعد بھی یہ تعیناتیاں جاری رہیں۔

پاکستانی فوج کے خلیج میں کردار پر سوالات

دریں اثنا پاکستانی فوج کے سعودی عرب میں مبینہ قائدانہ کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ شہباز شریف حکومت نے پارلیمنٹ کی منظوری (ووٹ) کے بغیر سعودی عرب میں مزید فوجیوں کی فوری تعیناتی پر اتفاق کر لیا۔

حالانکہ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ ''تمام ضروری ضابطے پورے کر لیے گئے ہیں‘‘ لیکن یہ نہیں بتایا کہ آیا اس میں کابینہ یا پارلیمنٹ شامل تھی یا نہیں۔ وزارت اطلاعات نے اس تعیناتی کی تفصیلات کو ''آپریشنل رازداری کا معاملہ‘‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ یہ اقدام فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں خارجہ پالیسی پر فوج کی مضبوط گرفت کو نمایاں کرتا ہے۔

گزشتہ برس کی جانے والی آئینی ترامیم کے تحت عاصم منیر کو 2030 تک تینوں مسلح افواج کی کمان سونپی گئی، ساتھ ہی انہیں تاحیات 'فیلڈ مارشل‘ کا عہدہ اور فوجداری مقدمات کے خلاف استثنیٰ بھی حاصل ہوا۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، جس کا متن جاری نہیں کیا گیا ہے 2025 کے سعودی پاکستانی معاہدے کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان نے مئی تک مملکت میں تقریباً 8,000 فوجی بھیجے تھے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات