2013 سے لیکر 2018 تک بجلی کے 39 منصوبوں سے 12,230 میگا واٹ بجلی پیدا کی ہے، حکومت

گزشتہ کئی سالوں سے بجلی کی پیدا وار میں کمی ہو رہی ہے جس کی بڑی وجہ آبی ذخائز میں کمی ہے، اقتصادی سروے جائزہ میں حکومت کا اعتراف

جمعرات اپریل 23:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات اپریل ء) حکومت نے مالی سال 2017-2018 کے اقتصادی سروے کے جائزے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے 2013 سے لیکر 2018 تک بجلی کے 39 منصوبوں سے 12,230 میگا واٹ بجلی پیدا کی ہے مالی سال 2018 میں بجلی نصب شدہ استعداد 29573 میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے جو کہ 2012-13 میں 22812 میگا واٹ تھی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے بجلی کی پیدا وار میں کمی ہو رہی ہے جس کی بڑی وجہ آبی ذخائز میں کمی ہے جبکہ ملک میں ونڈ کے اٹھارہ منصوبوں سے 937 میگا واٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے ۔

(جاری ہے)

جبکہ رواںسال ونڈ کے 1200 میگا واٹ اور شمسی کے 600 میگا واٹ منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا حکومت نے بتایا ہے کہ 6 شوگر ملوں سے 201.1 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو چکی ہے ۔2016-17 کے دوران ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی سالانی کھیت 26 ملین ٹن تھی مالی سال 2018 کے جولائی سے فروری تک عرصہ سیاست میں 60.4 ملین بیرل خا م تیل درآمد کیا گیا ہے جبکہ 21.8 ملین تیل مقامی طور پر حاصل کیا گیا جولائی 2017 سے جبکہ فروری 2018 تک ملک میں گیس کی یوٹیلٹی کمپنیوں نے 328 کلو میٹر گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک جبکہ 8861 کلومیٹر کی ڈسٹری بیوشن اور 1216 کلو میٹر کی سروسز لائنز قائم کیا اور231 نئے دیہاتوں کو گیس نیٹ میں شامل کیاگیاہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments