پنجاب اسمبلی نے بلدیاتی نمائندوں کو مزید با اختیار بنانے سمیت چار مسودات قوانین کی منظوری دیدی ،بلدیاتی اداروںکی تحلیل کا حکومتی اختیار ختم

بلدیاتی ادارے 22جنوری 2022تک اپنی مدت پوری کرسکیں گے ،بلدیاتی اداروں کے اجلاس کی صدارت کی مجاز اتھارتی کا تعین بھی کردیا گیا ڈرگ ایکٹ میںترمیم کے بعد غیر قانونی طور پر ، لائسنس کے بغیر ادویہ سازی ، جعلی دویات بنانے ، ملاوٹ کرنے والوں کیخلاف کاروائی موثر بنانے کیلئے مانیٹرنگ ٹیمیں بنائی جائیں گی جرم کے ارتکاب و اعانت کرنیوالوں کوپانچ سال تک قید ،ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ،پراپرٹی بھی قبضے میں لی جاسکے گی وزیر اعظم پیکیج کے تحت کسانوں کو قرضے لینے میں مشکلات کا سامنا ہے ،60سال کی عمر کے کسانوں کو قرضے نہیں دے رہے ‘ حکومتی رکن

بدھ فروری 23:57

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔9فروری۔2017ء)پنجاب اسمبلی کے ایوان نے مقامی حکومتوں کے حوالے سے بلدیاتی نمائندوں کو مزید با اختیار بنانے سمیت چار مسودات قوانین کی منظوری دیدی ،قانون کی منظو ری سے بلدیاتی اداروںکی تحلیل کا حکومتی اختیار ختم ہو گیا، اب ڈپٹی میئر اور وائس چیئر مین بھی اجلاس کی صدارت کرسکیں گے،ڈرگ ایکٹ میںترمیم کے بعد غیر قانونی طور پر ، لائسنس کے بغیر ادویہ سازی ، جعلی دویات بنانے ، ملاوٹ کرنے والوں کیخلاف کاروائی موثر بنانے کیلئے مانیٹرنگ ٹیمیں بنائی جائیں گی ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں شرو ع ہوا ۔اجلاس میں صوبائی وزیر نعیم بھابھہ نے زراعت اور پارلیمانی سیکرٹری حاجی الیاس نے سوشل ویلفیئر بیت المال سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ۔

(جاری ہے)

اجلاس کو شروع ہوئے ابھی20منٹ ہی گزرے تھے کہ رکن اسمبلی احسن ریاض فتیانہ نے کورم کی نشاندہی کردی اورپانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کے باوجود کورم پورا نہ ہو سکا جس پر سپیکر نے پندرہ منٹ کا وقفہ کر دیا ۔

دوبارہ آغاز ہونے پر بھی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پرمزید پندرہ منٹ کا وقفہ کر دیا گیا تاہم اس دوران حکومت نے تگ و دو کر کے کورم کیلئے مطلوبہ تعداد پوری کر لی ۔ایوان کو بتایا گیا کہ بڑے شہروں میں بھکاریوں پر قابو پانے کے لئے ایک نیا نظام لایا گیا ہے جس کے تحت بھکاریوں کے خلاف مہم جاری ہے ۔13ضلع بیت المال کمیٹیاں تشکیل پاچکی ہیں جبکہ باقی کی جلد تشکیل کر دی جائے گی ۔

دارالامان میں خواتین کے لئے لیگل کمیٹی موجود ہے جو ان کی قانونی طورپر مدد کرتی ہے۔ دارالامان میں دیگر سہولتوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو فنی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اس دوران اپوزیشن کی طرف سے ایک مرتبہ پھر کورم کی نشاندہی کی گئی تاہم کورم پورا نکلا جس پر اجلاس کی دوبارہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیر اعظم کا کسان پیکیج بھی زیر بحث آیا جس میں ایک حکومتی رکن نے اعتراض اٹھایا کہ وزیر اعظم پیکیج کے تحت کسانوں کو قرضے لینے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بینک 60سال کی عمر کے کسانوں کو قرضے نہیں دے رہے جس پر وزیر زراعت نے بتایا کہ وزیراعظم کے کسان پیکیج کے تحت پانچ ایکڑاراضی تک کے چھوٹے کسانوں کو بینک سے 40ہزار روپے تک کے قرضے دئیے جارہے ہیں اور ان قرضوں پر سود کی مد میں ادائیگی حکومت نے کرنی ہے جہاں تک 60سال کی عمر تک کے کسانوں کو بینکوں کی طرف سے قرضے جاری نہ کیے جانے کا معاملہ ان کے علم میں نہیں ۔

ڈاکٹر محمد افضل، احمد شاہ کھگہ، احمد خان بھچر اور شنیلا روتھ کی جانب سے کاہنہ اور گردونواح میں گوشت کی دوکانوں پر الائشوں کی فروختگی سمیت لاہورمیں پیداوار سے 13لاکھ لیٹر زائد آنے والے دودھ سے متعلق دو تحاریک التوائے کار ایوان میں پیش کیں۔صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے مسودات قوانین ایوان میں پیش کئے ۔ایوان میں مسودہ قانون ( ترمیم) مقامی حکومت پنجاب2017ء ایوان میں پیش کیا گیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔

قانون کے مطابق بلدیاتی اداروں کی تحلیل کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اختیار سے ’’سرنڈر‘ ‘کردیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے ان اداروں کی تحلیل سے متعلق لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی دفعہ 126ختم کردی گئی ہے جس سے اب یہ بلدیاتی ادارے 22جنوری 2022تک اپنی مدت پوری کرسکیں گے ۔ ترمیمی قانون میں بلدیاتی اداروں کے اجلاس کی صدارت کی مجاز اتھارتی کا تعین بھی کردیا گیا ہے جبکہ بلدیاتی اداروں کے سربراہ منتخب ہونے والے عوامی نمائندے اپنی متعلق یونین کونسل کی رکنیت بھی برقرار رکھ سکیں گے ۔

ایوان نے مسودہ قانون ( ترمیم ) ڈرگز پنجاب 2017ء کی بھی منظوری دیدی ۔ڈرگ ایکٹ میںترمیم کے بعد غیر قانونی طور پر ، لائسنس کے بغیر ادویہ سازی ، جعلی دویات بنانے ، ملاوٹ کرنے والوں کیخلاف کاروائی موثر بنانے کیلئے مانیٹرنگ ٹیمیں بنائی جائیں گی اور اس جرم کے ارتکاب و اعانت کرنیوالوں کی سزا پانچ سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگی اور اس کے لئے استعمال ہونے والی پراپرٹی بھی قبضے میں لی جاسکے گی ۔

ایوان نے لینڈ ریکارڈ کے نظام میں اصلاح ، جدت ، سروس ڈلیوری میں بہتری لانے ،سکیورٹی فراہم کرنے اور اس سے متعلقہ امور سے نمٹنے کیلئے لینڈ ریکارڈ اتھارٹی بنانے کے مسودہ قانون لینڈ ریکارڈ ز اتھارٹی پنجاب 2016ء کی بھی منظوری دی ۔اپوزیشن کے سخت اعتراض کے باوجود ایوان نے ہوم اکنامکس کالج لاہور کو یونیورسٹی بنانے کا بل بھی منظور کر لیا ۔ اپوزیشن نے موقف اپنایا کہ ہوم اکنامکس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے سے اس ادارے کی فیسیں بڑھ جائیں گی جس سے مستقبل میں اس ادارے میں غریب گھروں کی بچیاں تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں گی تاہم وزیر قانون نے اپوزیشن کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اجلاس آج جمعرات صبح دس بجے دوبارہ شروع ہوگا ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments