Dengue Ki Tareekh

ڈینگی کی تاریخ، خطرات اور احتیاطی تدابیر

Dengue Ki Tareekh
ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک بنی نوع انسان کو مختلف خطرات کا سامنا رہا ہے، یہ خطرات ابتدائی ادوار کے انسانوں کوکبھی خطرناک جانوروں کے حملے کی صورت، کبھی دشمنوں کے حملوں کی صورت ،کبھی قدرتی ناگہانی آفات کی صورت میں اور کبھی بیماریوں کی صورت میں درپیش رہے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان دشمن کے حملے چاہے وہ انسانی ہو یا حیوانی، کی پیش بندی کر سکتا ہے اور اس کے سامنے کھڑا ہو کر ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے لیکن ناگہانی آفات اوراچانک پھیلنے والے وبائی امراض کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا، اس کی واضح مثال یورپ میں تیرہویں صدی میں پھیلنے والی طاعون کی وباء ہے جس نے اندازاََ 75 سے 200ملین لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جسے بلیک ڈیتھ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)


لفظ "ڈینگی" سواہلی زبان کے جملے ''کا ڈنگا پیپو'' سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ''بد روح کی وجہ سے جسمانی اکڑن ''۔ ممکنہ طور پر سواہلی لفظ ''ڈنگا'' کی ابتدا ہسپانوی زبان کے لفظ ''ڈینگی'' سے ہو سکتی ہے جس کا مطلب نازک طبع اور محتاط ہے، جو ڈینگی بخار کی شدت کی وجہ سے ہڈیوں کے درد میں مبتلا شخص کی چال کو بیان کرتا ہے۔ ممکنہ طور پر ڈینگی بخار کے معاملے کا پہلا ریکارڈ جن خاندان (265420 اے ڈی) کے چینی طبی انسائیکلوپیڈیا میں ہے جس نے اڑنے والے کیڑوں کے ذریعے پھیلنے والے ''آبی زہر'' کا حوالہ دیا تھا۔

پہلی تسلیم شدہ ڈینگی کی وباسترہویں صدی کے اخیر کی دہائی میں اس بیماری کی نشاندہی اور نامزد ہونے کے فورا بعد ہی ایشیاء، افریقہ اور شمالی امریکہ میں تقریبا ایک ہی وقت میں واقع ہوئی تھی۔ آج کل، تقریبا 2.5 بلین افراد یا دنیا کی 40فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں ڈینگی کی منتقلی کا خطرہ ہے ۔ ڈینگی ایشیاء، بحر الکاہل، امریکہ، افریقہ اور کیریبین کے 100 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے اور تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے۔


ڈینگی مچھروں کے ذریعے سے پھیلنے والی ایک وائرل بیماری ہے جو حالیہ برسوں میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تمام خطوں میں تیزی سے پھیل چکی ہے۔ ڈینگی کا وائرس بنیادی طور پر مادہ مچھروں کی نسل ایڈیز ایجیپٹی اورایڈیز البوپکٹس کے ذریعہ پھیلتا ہے۔یہ مچھر چکن گنیا، پیلے بخار اور زکاء انفیکشن کو بھی انسانوں میں منتقل کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

ڈینگی گرم ملکوں میں بارشوں، مچھروں کی افزائش کے لیے مناسب درجہ حرارت اور بغیر منصوبہ بندی سے تیز رفتار شہری آباد کاری کی وجہ سے انہیں میسر آنے والی رہائش اور سازگار مساکن کی وجہ سے وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے۔
ایشیاء میں پایا جانے والا ڈینگی کا ایک دوسرا ویکٹر ایڈیز البوپکٹس استعمال شدہ ٹائروں اور بانسوں کی بین الاقوامی تجارت کی وجہ سے شمالی امریکہ اور یورپی خطے کے 25 سے زیادہ ممالک میں پھیل گیا ہے کیونکہ ٹائر اور بانس اس مچھر کی رہائش کے لیے پسندیدہ مسکن ہیں۔

مچھروں کی یہ نسل ایڈیز البوپکٹس انتہائی سرعت کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے ماحول اور درجہ حرارت کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہے اور اسی وجہ سے اب وہ ایشیاء کے گرم علاقوں کے علاوہ یورپ کے ٹھنڈے مزاج والے خطوں میں بھی بخوبی زندہ رہ سکتے ہیں،ان مچھروں کی نقطہ انجماد سے بھی کم درجہ حرارت پر زندہ رہنے، ہائبرنیشن، اورانتہائی تنگ جگہوں میں پناہ لینے کی صلاحیت کسی بھی دوسری قسم سے زیادہ ہے اور اسی صلاحیت کی وجہ سے یہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اتنے وسیع علاقوں میں پھیل چکے ہیں۔


ایڈیز ایجیپٹی مچھر ڈینگی کا بنیادی ویکٹر ہے، یہ مچھر ٹھہرے ہوئے صاف پانی میں جنم لیتا ہے ،ڈینگی وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے کے ذریعہ انسانوں میں پھیلتا ہے ،وائرس کا حامل مچھر 4-10 دن کے بعداپنی بقیہ پوری زندگی وائرس کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ڈینگی سے متاثرہ مریض جن میں ڈینگی کی علامات ظاہر ہو چکی ہوتی ہیں ہی وائرس کو غیر متاثرہ مچھروں میں اپنے خون کے ذریعے پہنچانے کا باعث بنتے ہیں اور یوں یہ مچھر ڈینگی کو آگے منتقل کرتے ہیں۔

دوسرے مچھروں کے برخلاف ایڈیز ایجیپیٹی دن کے وقت انسانوں کو کاٹتا ہے اس کے کاٹنے کے اوقات طلوع آفتاب کے بعد صبح سویرے اور غروب آفتاب سے پہلے شام کے وقت ہوتے ہیں۔ڈینگی کی ابتدائی علامات میں شدید بخار جو 2 سے 7 دن تک رہتا ہے، شدید سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد،پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد، شدید تھکان، متلی و الٹیاں آنا اور جلد پر سرخ دانوں کا نمودار ہو جانا ہے۔

شدید ڈینگی کا حملہ پلازما لیک ہونے، مائع جمع ہونے، سانس کی تکلیف، شدید خون بہنے یا اعضاء کی خرابی کی وجہ بن جاتا ہے اور ممکنہ طور پر مہلک ثابت ہوتا ہے۔ڈینگی کے شدید حملہ کی انتباہی علامات ابتدائی علامات کے ظاہر ہونے کے 3 سے 7 روز گزرنے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں ان علامات میں بخار کے درجہ حرارت میں اچانک کمی، پیٹ میں شدید درد، مستقل قے، تیز سانس آنا، مسوڑوں سے خون بہنا، تھکاوٹ، بے چینی اور خون کی الٹیاں شامل ہیں اور مریض کے لیے اگلے 24 سے48 گھنٹے مہلک ہوسکتے ہیں،پیچیدگیوں اور موت کے خطرے سے بچنے کے لئے متاثرہ مریض کو مناسب طبی نگہداشت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔


موجودہ دور میں ڈینگی وائرس کی روک تھام اور کنٹرول کا سب سے بہترین بنیادی طریقہ ڈینگی ویکٹر مچھروں سے لڑ کر حاصل کیا جا سکتا ہے اس مقصد کے لیے ماحولیاتی انتظام اور ترامیم کے ذریعہ مچھروں کو انڈے دینے والی مناسب جگہوں مثلاََ ٹوٹے ہوئے برتنوں، پرانے ٹائروں، روم کولروں، گملوں اور کیاریوں میں ٹھہرے ہوئے صاف پانی تک رسائی سے روکنا، ٹھوس فضلہ ، کاٹھ کباڑ کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانا ،ان کے لیے مصنوعی انسان ساختہ رہائش گاہوں کو ختم کرنا،گھریلو پانی ذخیرہ کرنے والے کنٹینرز کو ہفتہ وار بنیادوں پر ڈھکنا، خالی کرنا ، انکی صفائی کرنا، پانی جمع کرنے والے بیرونی ذخیروں پر مناسب کیڑے مار دوا استعمال کرنا، گھریلو تحفظ سے متعلق ذاتی اقدامات جیسے کھڑکیوں پر جالیوں اور پردوں کا استعمال ،مکمل آستینوں والے کپڑے پہننا،مچھر بھگاؤ لوشن، کیڑے مار ادویات سے محفوظ بنائے گئے سامان ، کوائل اور بخارات کا استعمال کرنا اور صبح و شام کے اوقات میں بلا ضرورت گھر اور دفتر سے نہ نکلنا شامل ہیں اورگھر وں،دفتروں اور کام کی جگہوں پر یہ تمام اقدامات دن میں کرنے ہوں گے کیونکہ ڈینگی مچھر دن میں کاٹتے ہیں۔

ہنگامی ویکٹر کنٹرول کے اقدامات میں سے ایک ڈینگی پھیلنے کے دوران اینٹی ڈینگی سپرے اورکیڑے مار دوائیوں کوممکنہ متاثرہ علاقوں میں چھڑکنا شامل ہے۔
حکومت پاکستان نے قومی سطح پر ڈینگی کے کیسوں کی تصدیق کردی ہے مریضوں کی اطلاعات بلوچستان، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، کراچی، خیبر پختونخوااور پنجاب بھر سے موصول ہوئی ہیں۔محکمہ صحت پنجاب نے ہفتہ کے روز انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے مختلف اسپتالوں میں ڈینگی کے 199کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور رواں سال کے آغاز سے اب تک ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 3 ہزار3 سو 77 ہو چکی ہے۔

ڈینگی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت وسیع پیمانے پر سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں ، عوامی جگہوں اور میڈیا پرپر آگاہی ڈینگی کی مہم چلا رہی ہے، ہسپتالوں میں ڈینگی کنٹرول روم قائم کیے جا چکے ہیں اور طبی نگہداشت فراہم کرنے والے ادارے ہمہ وقت مستعد ہیں۔ڈینگی خطرناک ہے لیکن اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، احتیاط ہی علاج ہے، مناسب احتیاط اور بچاؤ کی تدابیر کے ذریعے ڈینگی سے با آسانی بچا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-01

Your Thoughts and Comments