Dengue Machar Se Khoofzada Na HooN

ڈینگی مچھر سے خوف زدہ نہ ہوں

Dengue Machar Se Khoofzada Na HooN
ڈاکٹر سید ہ صدف اکبر
ڈینگی وائرس کا سبب بننے والی مادہ مچھر ،جس کے جسم پر سیاہ رنگ کی دھاریاں موجود ہوتی ہیں، صاف پانی،پانی کے ٹینکوں ،نلوں ،نکاسی آب کے راستوں ،بارش کے پانی ،جھیل ،ساکن پانی اور صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں میں انڈے دیتی ہے۔یہ مادہ مچھر زیادہ تر انسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتی ہے۔


یہ مچھر تقریباً22ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں انڈے نہیں دیتے ہیں،جس کی وجہ سے ان کی افزایش کا عمل رک جاتاہے،تاہم ان کے دیے جانے والے انڈے محفوظ رہتے ہیں اور اپنی نسل کی افزایش کے لیے سازگار موسم کا انتظار کرتے ہیں۔اگست سے دسمبر تک ان مچھروں کے انڈوں کی تیزی سے افزایش ہوتی ہے۔
ڈینگی بخار کی علامات وائرس کے جسم میں داخل ہونے کے تین سے سات دن بعد سامنے آتی ہیں۔

(جاری ہے)

ڈینگی بخارکی علامات میں نزلہ زکام،شدید بخار،بھوک نہ لگنا،آنکھوں کے پیچھے درد ہونا ،جسم میں شدید درد،پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد،جسم پر سرخ دھبوں کا نمودار ہونا ،سانس لینے میں دشواری ،رنگ کا پیلا پڑجانا،پیٹ میں درد ہونا اور مریض کے خون میں تشتریوں (PLATELETS)اور سفید خلیات کی کمی واقع ہونا شامل ہیں۔
ڈینگی بخار کے چار مراحل ہوتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں مریض کو شدید بخار،سر میں سخت درد اور گھٹنوں وجوڑوں میں درد شروع ہو جاتاہے۔دوسرے مرحلے میں شدید بخار اور جسم میں درد کے ساتھ بڑی آنت، مسوڑوں اور جلد سے خون بھی بہنے لگتاہے۔تیسرے مرحلے میں دوران خون کا نظام بھی بہت بڑی طرح متاثر ہوتاہے ،جب کہ چوتھے اور آخری مرحلے میں مریض شدید بخار اور درد میں مبتلا ہوتاہے۔اُس کی قوت مدافعت میں بہت کمی ہو جاتی ہے،جس کی وجہ سے وہ دوسری بیماریوں میں بھی بہ آسانی گرفتار ہونے لگتاہے۔


اس بخار کو ہڈی تو ڑبخار(BREAK BONE FEVER)بھی کہا جاتا ہے ،کیوں کہ بخار میں مریض کی ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہوتا ہے اور پھر مرض کی شدت میں اس قدر اضافہ ہوجاتاہے کہ منھ اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جاتاہے۔ڈینگی بخار عموماً ان لوگوں کو زیادہ شکار کرتاہے ،جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ شدید تعدیے(انفیکشن)کی حالت میں”ڈینگی ہیمر جک فیور“(DHF)ہوجاتاہے ،جو ایک قسم کا ڈینگی تعدیہ ہے ،جس میں دو سے سات دن کے لیے بہت تیز بخار ہو جاتاہے اور مریض کو الٹی کے ساتھ پیٹ میں درد ہوتاہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے ۔

اس حالت میں تشتریوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے خون رسنا شروع ہو جاتاہے۔زیادہ خون کے رسنے اور جسمانی جھٹکوں کے سبب اچانک بلڈ پریشر میں بے حد کمی ہو سکتی ہے،جس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ایسی حالت میں مریض کو فوری طورپر اسپتال میں داخل کر وادینا چاہیے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر مریض کا بر وقت اور مناسب علاج کیا جائے تو”ڈینگی ہیمر جک فیور“سے اموات کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔


ڈینگی وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل نہیں ہو سکتا۔اس وائرس کے تعدیے کا دورانیہ اس وقت مکمل ہوتاہے ،جب مچھر وائرس کے ساتھ انسان کو کاٹتا ہے اور وائرس کو خون میں منتقل کر دیتا ہے،جس سے وہ انسان ڈینگی بخار میں مبتلا ہوجاتاہے ،جب کہ دوسرے انسان میں اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ اس وقت ہوتاہے ،جب ایک مچھر جس میں ڈینگی وائرس پہلے سے موجود نہیں ہوتا،ڈینگی کے مریض کو کاٹ لیتا ہے اور پھر یہ وائرس اس متاثرہ فرد سے مچھر میں بھی منتقل ہو جاتاہے اور پھر جب وہ مچھرکسی
صحت مند انسان کو کاٹتا ہے تو وائرس اس فردمیں بھی منتقل ہو جاتاہے ،اس لیے یہ ضروری ہے کہ ڈینگی کے مریض کو سب سے الگ رکھا جائے ،تاکہ ڈینگی وائرس کو صحت مند افراد تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔


ڈینگی وائرس کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے ،اس لیے جیسے ہی مندرجہ بالا علامات میں سے کوئی علامت ظاہر ہو،مریض کو جس قدر ممکن ہو پانی اور مشروبات وغیرہ پلائیں اور فوراً کسی قریبی میڈیکل سینٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ڈینگی بخارمیں مریض کو ایسی غذائیں کھلانی چاہییں،جو قوت مدافعت میں اضافی کریں۔زود ہضم اور ہلکی غذائیں کھلانی چاہییں اور مرچ مسالے کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے۔


ڈینگی مچھر سے احتیاط ہی اس مرض سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے اور احتیاطی تدابیر میں ہفتے میں دو سے تین بارگھر ،دفاتر اور دکانوں میں صفائی کرکے مچھر مار ا سپرے کرنا چاہیے۔گھر کے ہر کونے،بستروں اور سوفوں وغیرہ کے نیچے خوب اچھی طرح سے اسپرے کرنا چاہیے۔یہ مچھر عموماً صبح اور شام کے اوقات میں زیادہ کاٹتے ہیں،اس لیے ان اوقات میں خاص احتیاط کرنی چاہیے۔

مچھروں سے بچنے کے لیے دروازے اور کھڑکیوں پر جالی لگوائیں ۔دروازوں اور کھڑکیوں کے پردوں پر اور پردوں کے پیچھے مچھر مار اسپرے کریں۔
ڈینگی پھیلانے والے مچھرچوں کہ صاف پانی میں رہتے ہیں ،لہٰذا پانی کی ٹینکی ،بالٹیوں اور دوسرے برتنوں کو ڈھک کر رکھنا چاہیے۔کسی بھی پانی ذخیرہ کرنے والے برتن میں ایک ہفتے سے زیادہ پانی نہیں رکھنا چاہیے۔

گھروں کے اندر اور باہر پانی جمع نہ ہونے دیں۔ڈینگی مچھر استعمال شدہ ٹن کے خالی ڈبوں اور گاڑیوں کے ٹائروں میں بھی پرورش پا سکتے ہیں ،لہٰذا اس قسم کی چیزیں جن میں پانی ہو ،انھیں خالی رکھنا چاہیے۔پودوں کے گملوں اور کیاریوں کے آس پاس بھی پانی زیادہ عرصے تک جمع نہیں رہنے دیں۔مچھر کے حملے سے بچنے کے لیے پوری آستینوں والی قمیض پہنیں اور مچھر بھگانے والالوش استعمال کریں۔


ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے لیے مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔بچوں ،حاملہ خواتین اور عمر رسیدہ افراد کو بھی مچھر دانی میں سونا چاہیے۔صبح اور شام کے اوقات میں پارک میں چہل قدمی کے لیے جاگراور جرابیں استعمال کریں۔ہم اپنے گھروں اور علاقوں کو صاف ستھرا رکھ کر اور ڈینگی سے بچاؤ کی تعدادبڑی اختیار کرکے اس کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر ہم نہ صرف ڈینگی بخار،بلکہ بہت سی دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-05

Your Thoughts and Comments