بند کریں
صحت صحت کی خبریںمظفر آباد، امام بار گاہ کے قریب خود کش دھماکہ، تین پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد جاں بحق، 81 ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/01/2010 - 21:06:22 وقت اشاعت: 05/01/2010 - 17:26:14 وقت اشاعت: 04/01/2010 - 13:22:42 وقت اشاعت: 30/12/2009 - 19:56:55 وقت اشاعت: 29/12/2009 - 14:35:39 وقت اشاعت: 27/12/2009 - 22:04:47 وقت اشاعت: 26/12/2009 - 20:28:13 وقت اشاعت: 26/12/2009 - 13:36:35 وقت اشاعت: 23/12/2009 - 19:19:04 وقت اشاعت: 23/12/2009 - 17:47:19 وقت اشاعت: 23/12/2009 - 15:56:14

مظفر آباد، امام بار گاہ کے قریب خود کش دھماکہ، تین پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد جاں بحق، 81 زخمی، بعض کی حالت نازک ،دھماکے کے بعد علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا، امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کاسامنا ،فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ،سید یوسف رضا گیلانی کا محمد فاروق حیدر کو ٹیلیفون، واقعہ پر اظہار افسوس ، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دیدیا ، جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے دو دو لاکھ اور زخمیوں کو مفت طبی امداد دینے کااعلان ۔اپ ڈیٹ

مظفر آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 27 دسمبر ۔2009 ء)آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک امام بارگاہ کے داخلی دروازے پر خودکش حملے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 10افرا د جاں بحق 81زخمی ہوگئے دھماکے کے بعد علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا جس سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کاسامنا کر نا پڑا، زخمیوں کو سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی گیلانی نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم محمد فاروق حید ر کو ٹیلیفون کیا اور واقعہ پر اظہار افسوس کیا، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔

۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کی تقریباً 7 بجے کے قریب میری عالم شاہ بخاری امام بارگاہ کے قریب دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دس افراد جاں بحق اور بارہ زخمی ہوگئے۔مظفر آباد میں امام بارگاہ کے قریب ہونے والا دھماکا خود کش تھا۔جلوس میں شامل حملہ آور نے تلاشی لینے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا دھماکے کے بعد قانون نافذ کر نے والے اداروں کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا واقعہ میں زخمی ہونے والوں کو ابتدائی طبی امداد کیلئے آرمی ہسپتال سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا جن میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔

اور معمولی زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہیے دھماکے کے فوراً بعد پورا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا اور ہر طرف چیچ و پکار کی آوازیں سنی گئیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا ۔ دریں اثناء آزاد کشمیر کے وزیر ہاؤسنگ مرتضیٰ گیلانی نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے نجی ٹی وی کو بتایا کہ واقعہ میں 10افراد شہید ہوئے ہیں ۔

مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری امتیاز نے برطانوی ریڈیو کوبتایا کہ مبینہ خودکش حملہ مظفر آباد شہر کے وسط میں فوجی ہسپتال سی ایچ ایم کے قریب واقع امام بارگاہ کے داخلی دروازے پر ہوا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ خودکش حملے میں تین پولیس اہلکاربھی شہید ہوئے ہیں ڈپٹی کمشنر کے مطابق زخمیوں کو قریب میں واقع ملٹری ہسپتال سی ایچ ایم میں منتقل کردیا گیا جہاں دس کے قریب زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

دریں اثناء آزاد کشمیر کے مذہبی امور کے نگراں مفتی کفایت حسین نے بتایا کہ دھماکہ خود کش تھا حملہ آور جلوس میں شامل ہوگیا تھا جس کے بعد جلوس میں شامل رضا کار نوجوانوں کو علم ہوگیا اور روکنے پر اس نے خود کو دھماکہ سے اڑا لیا ۔انہوں نے کہاکہ دھماکے میں پانچ یا چھ افراد کے شہید ہونے کی مصدقہ اطلاع ہے تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دس افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 54معلوم ہوئی ہے ۔

دریں اثناء وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم محمد فاروق حیدر کو ٹیلیفون کیا جس میں انہوں نے واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کااظہار کیا۔وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اس افسوسناک واقع میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے دو دو لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والوں کے علاج پر اٹھنے والے جملہ اخراجات حکومت آزادکشمیر کے ذمہ لینے کا اعلان کیا۔

اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے دہشت گردی کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عوام سے پرامن رہنے اور صبر وتحمل سے اس دکھ بھری گھڑی کو برداشت کرنے کی اپیل کی ہے اور متاثرین کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔بعد ازاں وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور سی ایم ایچ میں زخمیوں کی عیادت کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

واضح رہے کہ مظفر آباد میں رواں سال یہ تیسرا خودکش حملہ ہے۔ اس سے پہلے نومبر میں پولیس کے تعاقب پر تین مبینہ خودکش حملہ آوروں نے ود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ دوسرا خودکش حملہ مظفر آباد شہر میں واقع شوکت لائن میں فوجی بیرک کے احاطے میں ہوا تھا جس میں دو فوج ہلاک ہو گئے تھے۔خیال رہے کہ سوموار کو یوم عاشور کی مذہبی رسومات کے حوالے سے جلوس نکالے جا رہے ہیں اور مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ محرم الحرام کے حوالے سے ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور چھوٹے بڑے شہروں میں سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا ہے۔
27/12/2009 - 22:04:47 :وقت اشاعت