بند کریں
صحت صحت کی خبریںعوامی نمائندوں کا کام قانون سازی کرنا ہے‘ترقیاتی فنڈ لینا نہیں ‘ قومی خزانے سے ایک پیسہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/04/2013 - 23:44:23 وقت اشاعت: 10/04/2013 - 19:33:08 وقت اشاعت: 10/04/2013 - 19:31:51 وقت اشاعت: 10/04/2013 - 19:29:48 وقت اشاعت: 10/04/2013 - 17:06:07 وقت اشاعت: 10/04/2013 - 17:05:18 وقت اشاعت: 10/04/2013 - 14:47:49 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 23:38:30 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 22:50:04 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 22:48:47 وقت اشاعت: 09/04/2013 - 22:46:14

عوامی نمائندوں کا کام قانون سازی کرنا ہے‘ترقیاتی فنڈ لینا نہیں ‘ قومی خزانے سے ایک پیسہ بھی غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا‘ عدالت کو بتایا جائے کہ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز میں کرپشن کے کتنے کیسز نیب ، پولیس یا اینٹی کرپشن کو بھجوائے گئے‘این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو اتنا پیسہ ملا وہ کہاں گیا، صوبے میں پینے کا پانی اور بخارکی دوائی تک دستیاب نہیں‘جن کے پیر میں جوتا تک نہیں ہوتا انھیں حکومتی منصوبوں سے کیا لینا، بلوچستان کے عوام کو دانستہ طور پر محروم کیا گیا، عوامی نمائندوں کو کس طرح ترقیاتی منصوبے دیئے گئے‘جونیجو دور میں شروع ہونے والی ترقیاتی سکیمیں ابھی تک مکمل نہیں ہوسکیں‘صوبے میں منصوبوں کا ٹھیکہ دیتے وقت قانون سامنے نہیں رکھا گیا ‘ جو رپورٹ سامنے آئی اس میں مجرمانہ غفلت ہی نظر آئی ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں میں اربوں کی خرد برد کے کیس میں ریمارکس ، عدالت نے چیف سیکرٹری بلوچستان سے 2008ء سے 2013ء تک وفاق کی جانب سے ملنے والے ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات اور خوردبرد میں ملوث افسران کیخلاف ہونے والی قانونی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ۔ اپ ڈیٹ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔آئی این پی۔ 10اپریل 2013ء)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نے کہا ہے کہ عوامی نمائندوں کا کام قانون سازی کرنا ہے‘ترقیاتی فنڈ لینا نہیں ‘ قومی خزانے سے ایک پیسہ بھی غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا‘ عدالت کو بتایا جائے کہ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز میں کرپشن کے کتنے کیسز نیب ، پولیس یا اینٹی کرپشن کو بھجوائے گئے‘این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو اتنا پیسہ ملا وہ کہاں گیا، صوبے میں پینے کا پانی اور بخارکی دوائی تک دستیاب نہیں‘جن کے پیر میں جوتا تک نہیں ہوتا انھیں حکومتی منصوبوں سے کیا لینا، بلوچستان کے عوام کو دانستہ طور پر محروم کیا گیا، عوامی نمائندوں کو کس طرح ترقیاتی منصوبے دیئے گئے‘جونیجو دور میں شروع ہونے والی ترقیاتی سکیمیں ابھی تک مکمل نہیں ہوسکیں‘صوبے میں منصوبوں کا ٹھیکہ دیتے وقت قانون سامنے نہیں رکھا گیا ‘ جو رپورٹ سامنے آئی اس میں مجرمانہ غفلت ہی نظر آئی ۔

بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل3 رکنی بنچ نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی خرد برد سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے چیف سیکرٹری بلوچستان سے 2008ء سے 2013ء تک وفاق کی جانب سے ملنے والے ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے خوردبرد میں ملوث افسران کیخلاف ہونے والی قانونی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ۔

درخواست گزار سابق رکن اسمبلی عبدالرحیم زیارت وال کے وکیل نے کہا کہ اکثر کیسز میں اداروں کے بجائے ارکان پارلیمنٹ فنڈز میں خرد برد کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان میں لوگ محرومیوں کا شکار ہیں، لوگوں کو پینے کے لئے پانی اور بخار کی دوا دستیاب نہیں،این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو اتنا پیسہ ملا ، وہ کہاں گیا، چیف سیکرٹری نیب کو منصوبوں کی تحقیقات کیلئے کہہ سکتے تھے،ایڈیشنل سیکریٹری بلوچستان نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے 25 کروڑ روپے ہر رکن اسمبلی کو دیے جاتے ہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان میں اتنا پیسہ لگا ہوتا تو آج وہاں خوشحالی ہونی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہاکہ صوبے میں منصوبوں کا ٹھیکہ دیتے وقت قانون سامنے نہیں رکھا گیا جبکہ اس حوالے سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں بھی مجرمانہ غفلت سامنے آئی ہے اس پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو کس طرح ترقیاتی سکیمیں دی جاتی ہیں جبکہ عوامی نمائندوں کا کام تو تعاون سازی کرنا ہے۔

اس موقع پر درخواست گزار عبدالرحیم زیارت وال کے وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ اکثر ترقیاتی سکیموں کے فنڈز اداروں کے بجائے ارکان اسمبلی خود استعمال کرتے ہیں، انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک روڈ کی تعمیر کے وقت اس کی لاگت تخمینہ 1.5 ارب لگایا گیا تھا مگر وہ منصوبہ 11 ارب روپے میں مکمل ہوا ، نیب بھی اس کی تحقیق کررہا ہے افتخار گیلانی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ جن عوامی نمائندوں کے پاس 5 سال قبل کھانا کھانے کے پیسے بھی نہیں تھے اب ان کے پاس 4، 4 لینڈ کروزر گاڑیاں ہیں ، کمرہ عدالت میں موجود بلوچستان حکومت کے وکیل خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں ہر رکن کو فنڈ دیئے گئے ہر ادارے میں کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں جو ترقیاتی کاموں کی نشاندہی کرتی ہیں ، بنچ کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے سوال اٹھایاکہ عوامی نمائندوں کا اصل کام تو قانون سازی کرنا ہے نہ کہ ترقیاتی فنڈ لینا۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبہ بلوچستان کو سب سے زیادہ فنڈ ملے لیکن بلوچستان اب بھی سب سے زیادہ ترقی پذیر صوبہ ہے کسی بھی رکن کے نام پر ترقیاتی سکیمیں منظور کی جاتی ہیں ، کیا اس طرح کسی اور پارلیمانی ملک میں بھی ہوتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو کس حساب سے کوٹہ دیا جاتا ہے ، کرپشن کو پروموٹ کیا گیا ، چیف جسٹس نے کہا کہ آئین عوام کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں جاری ترقیاتی سکیموں بارے میں حکام سے پوچھیں کہ پیسے کہاں استعمال کئے جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کے بعد بلوچستان حکومت کو حکم دیا کہ پبلک سیکرٹری ڈویلپمنٹ پروگرام بلوچستان کی سکیموں سے متعلق تفصیلی رپورٹ کے ساتھ ساتھ 1452 سکیموں کا مکمل ڈیٹا بھی عدالت کو فراہم کیا جائے نیز عدالت کو بتایا جائے کہ کس سکیم پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا اور خوردبرد میں ملوث افسران ، افراد کیخلاف کیا قانونی کارروائی کی جارہی ہے ، مقدمے کی مزید سماعت آج کی جائے گی۔
10/04/2013 - 17:05:18 :وقت اشاعت