کویت ٹیچنگ ہسپتال پشاورمیں ذیابیطس کا عالمی دن منایا گیا، ماہرین نے ذیابیطس کے اسباب،سدباب اورعلاج معالجے کے مختلف پہلوئوں پر گفتگوکی

کویت ٹیچنگ ہسپتال پشاورمیں ذیابیطس کا عالمی دن منایا گیا،  ماہرین نے ذیابیطس کے اسباب،سدباب اورعلاج معالجے کے مختلف پہلوئوں پر گفتگوکی
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 دسمبر2021ء)پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما)خیبر پختونخوا اور پرائم فانڈیشن کے اشتراک سے کویت ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں "عالمی یوم ذیابیطس" منایاگیا جس میں ماہرین نے ذیابیطس کے اسباب،سدباب اورعلاج معالجے کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی گفتگوکی۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف )کے مطابق سال2021میں پاکستان میں ذیابیطس سے چار لاکھ اموات کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔

یہ تعدادمشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطوں میں سب سے زیادہ ہے۔ آئی ڈی ایف کا دعوی ہے کہ چین 141 میں ملین اور ہندوستان میں 74ملین متاثرہ افراد کے بعد پاکستان کا شماردنیا میں ذیابیطس کے شکار افراد کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

دریں اثنا پرائم فانڈیشن کی معروف ماہر ذیابیطس ڈاکٹر صوبیہ صابر علی نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ ذیابیطس ہمارے ملک میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس سے تقریبا ہر 5واں شہری متاثر ہو رہا ہے اور اس سے متعلقہ معذوری، اموات اور معاشی پیداواری صلاحیت کے نقصان کو کم کرنے کے لیے ہم سب سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کی ڈاکٹر صباحت عامر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ شوگر کے مریض خاندانوں کی بروقت اسکریننگ کرائیں جو نوعمروں میں ذیابیطس میں اضافے کے پیش نظر ضروری ہے جس کے لیے زیادہ سخت علاج اور انجیکشن لگانے والے انسولین کی باقاعدہ فراہمی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسولین مہنگی ہونے کے باعث ہمارے معاشرے کے غربت زدہ لوگوں کے لیئے برداشت کرنا کافی مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواکا "انسولین فار لائف پروگرام" ایک امید ہے اور صحت سہولت منصوبے میں اس کی شمولیت حیرت انگیز نتائج دے سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  گزشتہ  چند سالوں کے دوران  پاکستان میں ذیابیطس کے پھیلا میں نمایاں اضافہ ہوا ہے  اور اب33ملین بالغ افرادذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جو  70فیصد  اضافہ ہے۔ پرائم الائیڈ ہسپتالوں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عزیز ضیا نے تقریب کو کامیاب بنانے پر ریسورس پرسنز، لاجسٹک سہولت کاروں اور شرکا کا خیرمقدم کیا اور شکریہ ادا کیا۔ آخر میں سیشن اور تقریب کے سہولت کاروں میں اسناد تقسیم کی گئیں۔

Your Thoughts and Comments

>