’انصاف ایسے ہوتا ہے‘ سعودی قاضی نے ایک ہفتے میں آٹھ سو مقدمات نمٹا دیئے

سعودی قاضی کے تیز رفتار فیصلوں نے عدل و انصاف کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر اپریل 12:14

’انصاف ایسے ہوتا ہے‘ سعودی قاضی نے ایک ہفتے میں آٹھ سو مقدمات نمٹا ..
دمام(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اپریل 2019ء) کہا جاتا ہے کہ اگر انصاف کے حصول میں تاخیر ہو جائے تو ایسا انصاف کسی کام کا نہیں ہوتا، اس سے مظلوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس لیے بروقت انصاف کی فراہمی ہی کسی نظامِ عدل کے مضبوطی اور شفافیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جہاں لوگوں کو تیز رفتاری سے انصاف ملتا ہے، وہاں سماج میں امن اور چین کا بول بالا ہوتا ہے۔

لوگوں کا نظام پر اعتماد قائم ہوتا ہے اور سزا کے ڈر سے سماج دُشمن عناصر اور جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔اسی سوچ پر کاربند ایک سعودی قاضی کا آج کل مملکت میں بہت چرچا ہو رہا ہے۔ دمام کی عدالت میں تعینات ایک قاضی صاحب نے اپنی شاندار کارکردگی سے اُس وقت سب کو چونکا کر رکھ دیا، جب انہوں نے ایک ہفتے کے اندر اندر 8 سو مقدمات کا فیصلہ سُنا دیا۔

(جاری ہے)

ان مقدمات میں سے ایک مشہور مقدمہ 400افراد سے متعلق اجتماعی مقدمہ بھی تھا۔یہ مقدمہ ایک کمپنی کے ملازمین کی جانب سے کمپنی انتظامیہ کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ اس کیس کی خصوصی نوعیت کو دیکھتے ہوئے قاضی صاحب صبح سویرے عدالت میں تشریف لے آتے اور ڈیوٹی کے اوقات ختم ہونے کے بعد کیس کی سماعت جاری رکھتے، جس سے اُن کی انصاف پسندی اور مظلوم کی داد رسی پر مبنی سوچ کاپتا چلتا ہے۔

معروف سعودی نیوز ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ دمام کی عدالت کے قاضی نے جس طرح کی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی ماضی میں کوئی مثال سامنے نہیں آئی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی عدالت نے اس قدر تیز رفتاری سے مقدمات کو انجام تک پہنچایا ہو۔ سبق کے مطابق گزشتہ چند ماہ قبل وزارت انصاف کی جانب سے لیبر کورٹس کے طریقۂ عمل میں تبدیلی کے باعث بہترین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

الدمام میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments