سعودی عرب میں کارکنوں سے روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی نہ لی جائے

سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسی ورکر سے پانچ گھنٹے لگاتار سے زیادہ کام نہیں لی جا سکتی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ ستمبر 12:22

سعودی عرب میں کارکنوں سے روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی نہ لی جائے
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،4ستمبر، 2019 ء) سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ کسی آجر کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے کارکنان سے روزانہ آٹھ گھنٹوں سے زائد کام کروائے اور ایک ہفتے میں 48 گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی لے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مالک کو چاہیے کہ وہ کسی ورکر سے پانچ گھنٹے سے زائد لگاتار کام نہ کروائے، کیونکہ اس سے اس کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پانچ گھنٹوں کے بعداسے آرام اور کھانے پینے کا وقفہ دیا جانا ضروری ہے۔کام کے دوران کا وقفہ بھی کم از کم آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے تک کا ہونا چاہیے۔اوور ٹائم کی صورت میں بھی کسی ورکر سے مجموعی طور پر 12گھنٹے سے زیادہ کام لیا جانا کسی طور مناسب نہیں ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمان کارکنوں سے روزانہ چھ گھنٹے اور ہفتہ میں مجموعی طور پر 36 گھنٹوں سے زیادہ کام لینا مناسب نہیں ہے۔

کارکنوں کے آرام، نماز اور کھانے پینے کے اوقات کو ان کے اوقاتِ کار سے الگ رکھنا چاہیے۔ جبکہ وقفے کے دوران آجر یا انتظامیہ کو ورکر پر کسی قسم کا حکم چلانے یا اپنی مرضی کے تابع رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی وقفے کے دوران سے زبردستی کام کروانا چاہیے۔ تمام کارکنوں کو جمعة المبارک کے روز ہفتہ وار تعطیل دی جانی چاہیے۔ اگر جمعہ کو کسی کارکن یا زیادہ کارکنوں سے کام لینا مقصود ہو تو ایسی صورت میں اُنہیں ہفتہ کے کسی اور دِن میں چھُٹی دی جانی چاہیے اور اس کی اطلاع متعلقہ لیبر آفس کو بھی دی جائے۔

تاہم جمعہ کے روز ڈیوٹی کروانے کی صورت میں جمعہ کی نماز کے لیے زیادہ وقت کا وقفہ ضرور دیا جائے۔ ہفتہ وار تعطیل میں کام لینے کی صورت میں ملازمین کو نقد رقم دینے کی بجائے اُنہیں کسی اور دِن چھُٹی دے دینا زیادہ مناسب ہے۔ کسی بھی ورکر کی تنخواہ میں سے اس کی تحریری اجازت کے بغیر کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔ تاہم اگر کارکن نے مالک سے کوئی رقم بطور قرضہ لی ہو تو ایسی صورت میں تنخواہ میں کٹوتی کی جا سکتی ہے، مگر یہ کٹوتی کُل تنخواہ کے دس فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments