کورونا مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والا سعودی ہیلتھ ورکر چل بسا

کنگ عبدالعزیز اسپتال کا میل نرس خالد الحسینی الشریف میں ایک ماہ قبل کورونا کی تشخیص ہوئی تھی ، زیر علاج رہنے کے دوران دم توڑ گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مئی 12:53

کورونا مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والا سعودی ہیلتھ ورکر چل بسا
مکہ مکرمہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20مئی 2020ء) مکہ مکرمہ کے کنگ عبدالعزیز اسپتال کا میل نرس خالد الحسینی کورونا سے ایک ماہ جاری جنگ میں جان کی بازی ہار گیا۔ 43 سالہ خالد الحسینی کئی روز سے وینٹی لیٹر پر تھا ، جس کی حالت روز بروز بگڑتی چلی گئی اور آخر کار اس کی موت واقع ہو گئی۔اُردو نیوز کے مطابق مکہ مکرمہ میں شعبہ صحت کے ایک ہیرو 43 سالہ خالد الحسینی الشریف کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے خود وائرس میں مبتلا ہو گئے تھے اور جانبر نہ ہو سکے۔

مکہ مکرمہ کے کنگ عبد العزیز اسپتال میں میل نرس کے طور پر کام کرنے والے خالد الحسینی الشریف ایک ماہ قبل کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے تھیاور اب انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کیا گیاتھا اور وہ کئی دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے لیکن ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔

(جاری ہے)

خالد الشریف کے بھائی حسین الشریف بھی میل نرس کے طور پر خدمت انجام دے رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی خالد نے بیماری کی علامات ظاہر کیں ، اس نے اپنے آپ کو خاندان کے دیگر افراد سے الگ کر لیا تھا تاکہ یہ وائرس دوسروں میں منتقل نہ ہو۔

اس نے سانس لینے میں دشواری کی شکایت کرنا شروع کردی اور پھر اس کے گردے ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے جس کے بعد دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑا،ذیابیطس کے باعث اس کی قوت مدافعت کمزور پڑ گئی تھی۔خالد الحسینی گذشتہ 15 سال سے بطور میل نرس شعبہ صحت میں خدمات انجام دے رہے تھے ان کے سوگوار اہل خانہ میں دو بھائی اور ایک بہن کے ساتھ سات سالہ بیٹا ہے۔

دریں اثناء گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل اور نائب گورنر شہزادہ بدر بن سلطان نے خالد الحسینی کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔گذشتہ روز خالد الشریف کے جنازے پر سوگواران نیان کی بہادری کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال اور پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف کیا۔ان کا کہنا تھا کہ خالد ایسا شخص تھا جس نے اپنی زندگی صحت کی خدمت میں داو پر لگا دی اور جس نے اپنے فرائض کی ادائیگی کوعقیدت جانا اور وہ کبھی بھی اس کام سے مایوس نہیں ہوئے تھے۔

مکہ مکرمہ میں شعبہ صحت کے ایک ذمہ دار کا کہنا تھا کہ شعبہ طب "اپنے ہیروز میں سے ایک کے بچھڑنے پر گہرے رنج و غم میں مبتلا ہے لیکن اسی کے ساتھ ہی خالد الحسینی پر فخر بھی ہے جس نے کورونا وائرس جیسے مہلک مرض سے لڑنے کے لئے سب سے آگے کھڑے ہونے والوں میں اپنا نام لکھوا لیا ہے۔"دیگر سوگواروں اور ساتھیوں نے بھی خالد کو اسپتال کے بہترین طبی عملے میں سے ایک اور دوسروں کے لئے متاثر کن رول ماڈل بتایا۔

مکہ مکرمہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments