سعودیہ میں کفیل نظام کے خاتمے کے بعد لاکھوں پاکستانی تارکین نے سُکھ کا سانس لے لیا

لیبر کورٹس انتظامیہ کے مطابق نقل کفالہ اور خروج کے کیسز بہت کم ہو گئے ہیں،لیبرکورٹس میں مقدمات کی تعداد آدھی رہ گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات 3 جون 2021 18:10

سعودیہ میں کفیل نظام کے خاتمے کے بعد لاکھوں پاکستانی تارکین نے سُکھ کا سانس لے لیا
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔3 جون 2021ء) سعودی مملکت میں کئی دہائیوں سے کفالت کا نظام رائج تھا۔ اس نظام میں غیر ملکی کارکن سعودی کفیل کے رحم و کرم پر ہوتے تھے جس کی وجہ سے ان کا استحصال بہت زیادہ بڑھ جاتا تھا۔ لاکھوں کارکنان کو اپنے کفیلوں سے شکایت ہوتی تھی کہ وہ ان سے بے جا ڈیوٹی کرواتے ہیں، سختی سے کام لیتے ہیں اور تنخواہوں کی ادائیگی بھی وقت پر نہیں کرتے ہیں۔

تاہم نئے قانون محنت کے لاگو ہونے کے بعد صرف دو ماہ کے اندر ہی غیر ملکی کارکنان کو سُکھ کا سانس نصیب ہو گیا ہے جن میں ہزاروں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ اُردو نیوز کے مطابق ریاض میں لیبر کورٹ کے نائب سربراہ سلیمان الدعفس نے کہا ہے کہ کفیل کے نظام کے خاتمے کے بعد لیبر کورٹ میں تنازل اور خروج کے کیسز میں 50 فیصد کمی ہوگئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا ہے کہ وزارت ہیومن ریسورسز کی طرف سے آجر و اجیر کے نظام کا نفاذ لیبر مارکیٹ میں مثبت تبدیلی کا باعث بنا ہے۔

اب لیبر کورٹ میں نقل کفالہ اور خروج کے کیسز پہلے کی نسبت انتہائی کم ہوگئے ہیں۔’خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات پر حکومت نے آجر و اجیر کے تعلقات میں مزید بہتری پیدا کی ہے۔’ملک بھر میں لیبر کورٹ ا?جر واجیر کے درمیان نزاعات کا فیصلہ فریقین کے حقوق کے تحفظ کا خیال رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔

سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ نئے قانون محنت کے تحت اب تک 60 ہزار سے زائد کارکنان نے ملازمت کی تبدیلی کی شق سے فائدہ اُٹھا لیا ہے۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ملازمت کی تبدیلی کی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے گذشتہ 56 دنوں میں 60 ہزار سے زائد کارکن اس سے مستفید ہوچکے ہیں جبکہ اس شق کے تحت یومیہ بنیادوں پر درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

نئے قانون میں دی جانے والی دیگر سہولتیں، جن میں کارکن کا از خود خروج وعودہ یا فائنل ایگزٹ حاصل کرنے کا اختیار بھی شامل ہے تاہم سب سے زیادہ نوکریوں کی تبدیلی کی سروس استعمال کی جا رہی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ نئے قانون کی رو سے بہتر خدمات کے لیے لازمی ہے کہ آ اور اجیر ورک ایگریمنٹ کی ڈیجیٹل تصدیق کرائیں تاکہ فریقین کے حقوق کا تحفظ یقینی ہو سکے۔

مملکت میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران ملازمت کے 50 لاکھ معاہدوں کی ڈیجیٹل تصدیق کی جا چکی ہے۔ واضح رہے مملکت میں غیر ملکی کارکنوں کی سہولت اور کام کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے رواں برس 14 مارچ سے مملکت کی تاریخ میں قانون محنت میں پہلی بار غیر معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ان تبدیلیوں کے تحت کارکن کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی خدمات کسی دوسری کمپنی یا ادارے میں منتقل کرسکے تاہم اس کے لیے قواعد بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments