Alvida Ramadan Shukriya Ramadan

الوداع رمضان شکریہ رمضان

اسی ماہ مقدس کو الوداع کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں اس کے خالق مالک رب العالمین اور رب کے پیارے رسول پاک ؐ پر ہزاروں درود و سلام ہوں ہم نے تو صرف نقل اتاری ہے اور نقل بھی کیا بس بے عمل انسان کی طرح بلکہ سکول آ کر حاضری کے وقت لبیک کہہ کر بھاگ جانے والے نالائق‘ نااہل طالب علم والا حال رہا ہے‘

طاہر احمد فاروقی پیر جون

alvida ramadan shukriya ramadan
اللہ رب العزت کا خلق خصوصاً پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ؐ کی اُمت سے والہانہ پیار اور محبوب پیغمبر نبی آخر الزماں رحمت العالمین کی اپنے اُمتیوں کیلئے عرش فرش تک دعاؤں کو سدرۃ المنتہیٰ اور کعبہ سے لیکر مسجد نبوی‘ مسجد اقصیٰ‘ ہر ہر سجدے اور رب کے حضور دست طلب دعاؤں کو سارے انبیاء پیغمبروں سے مقدس پاکیزہ اپنے آنسوؤں کی جھریوں میں ارفع اعلیٰ بناتے ہوئے۔
رب کی رحمتوں نماز۔ زکوٰۃ۔ حج سے لیکر رمضان تک مواقع راہیں عنایت فرما دیں۔ ادب سے رحمتوں مانگواور اپنے گناہوں خطاؤں پر توجہ کرو تو وہ رحمان رحیم معاف فرمائے گا۔ یہ سب کچھ ہمارے نبی ؐ کے رحمت العالمین ہونے کے فیض برکات کی عطاء خدا وندی ہیں کہ رحمت العالمین نے آپؐ کی ایک ایک سنت ایک ایک زبان رحمت سے اور حرف لفظ کی ادائیگی فرائض کی بجاآوری قرآن کی تلاوت کے ہر زیر زبر نقطہ پیش پر دیکھنے پڑھنے پر بھی نیکیوں کو اعمال نامے میں سجانے کے ایسے ایسے بہانے اور لمحات اوقات کے دروازے کھول دیئے کہ ان سے برستی رحمتوں کی بارشوں سے اُمتی رسولؐ جھولیاں بھر بھر کر تھک جائیں مگر یہ عنائتیں ختم نہ ہوں گی۔

ان سالوں مہینوں دن رات صبح شام کے چاند ستاروں‘ سورج کے طلوع غرب ہوتے نظام کے اعلیٰ ارفع مقام فضیلت برکات کا سب سے عظیم ترتحفہ ماہ رمضان عطاء فرمایا تو اس کے دوران ہر لمحہ کو توحید رسالت کے ایمان حق سے فیضاب کردہ انسانوں کو بطور مسلمان شیطان کے شر و سوسوں سے محفوظ فرما دیا کہ میرے رحمت العالمین نبی پاک کے اُمتی تو مانگتا جا میں عطاء کرتا جاؤں تو توبہ کرتا جا میں بخشش کرتا جاؤں تو شکر ادا کرتا جا میں اور دنیامیں میری تسبیح کر نبیؐ پر درود پڑھتا جا میں تیرے بُرے اعمالوں کو ہلکانیکیوں کے پر لہ کو بھاری کرتا رہوں اور اس میں بھی طاق راتیں دے دیں‘ آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر پالے تسبیح درود و سلام کرتا جا اور ہزار مہینوں کی افضل عبادت کے خوش نصیبوں میں نام لکھوا لے. ایک ماہ اور اس کے آخری عشرے کی طاق راتوں کو رب نے اپنے رحمن رحیم ہونے کے خزانے آسمانوں سے اُترنے والی بارشوں سے بھی زیادہ تیزتر اور مسلسل برسات کے فضل سے منور فرما دیا‘کتنے بلند بخت ہیں وہ سب اُمتی جنہوں نے اس کے آداب روح کے مطابق ان کو پالیا ہے۔
اب پتہ نہیں یہ رمضان اور طاق راتیں ہماری زندگی میں پھر آئیں گی یا نہیں عید تو رب کا انعام ہے مگر رمضان جیسا فضل کرم اپنی ساعتیں مکمل کرتے ہوئے رُخصت ہو رہا ہے اس کا بچھڑنا اور پھر دوبارہ ملنے نہ ملنے کی میرے جیسے گنہگار‘ بدکار کو گھڑی میسر آنا شاید نصیب میں ہے یا نہیں یہ کرب اپنے سب سے پیارے رشتے ناطے کی جدائی جیسا ہی ہے جس کو الوداع نہیں کیا جا سکتا مگر اسی ماہ مقدس کو الوداع کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں اس کے خالق مالک رب العالمین اور رب کے پیارے رسول پاک ؐ پر ہزاروں درود و سلام ہوں ہم نے تو صرف نقل اتاری ہے اور نقل بھی کیا بس بے عمل انسان کی طرح بلکہ سکول آ کر حاضری کے وقت لبیک کہہ کر بھاگ جانے والے نالائق‘ نااہل طالب علم والا حال رہا ہے‘ اللہ پاک ہمارے اس لبیک کو اپنے دربار میں قبول فرما لیں اور ہم سے پہلے دنیا سے چلے جانے والے تمام آباؤ اجداد‘ رشتہ ناطوں‘ تعلق دوستی‘ بھلائی کرنے والوں کو اور ہمارے سمیت بعد میں جانے والے کو بخش عطا فرمائے۔
شفاعت نبی الرحمت العالمین نصیب فرمائے اور پھر سے پہلے والے ماہ ایام کے اوقات شب ایام میں حفاظت فرمائے کہ ہم آپ کی بندگی کا تسلسل سے فرض ادا کرتے ہوئے روحانی پاکیزگی کے ساتھ خلق کی بھلائی کر کے حق کو ادا کر سکیں کہ رمضان کا عظیم تر پیغام اور روح تو ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کا عمل ہے۔ پیدا کیا انسان کو دردِ دِل کے واسطے ورنہ اطاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کرّو بیان

Your Thoughts and Comments