Shab E Barat Ki Azmat O Fazeelat - Article No. 3536

شب برات کی عظمت وفضیلت - تحریر نمبر 3536

چونکہ اس رات میں اللہ کی رحمت سے لاتعدادانسان دوزخ سے نجات اورچھٹکارا حاصل کرتے ہیں اس لیے اس رات کو شب براءت کہا جاتا ہے

علامہ حافظ محمد محسن قادری پیر مارچ

Shab e Barat Ki Azmat O Fazeelat
اللہ رب العزت نےاپنے محبوب کی امت کوکچھ ایسی راتیں عطاکی ہیں جواللہ کی رحمتوں ،برکتوں اور عنایتوں کی نوید سعید لے کر آتی ہیں۔شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نےکیا خوب کہا تھا کہ رحمت حق بہانہ می جوید یعنی اللہ رب العزت کی رحمت اپنے بندوں کی بخشش کے بہانے تلاش کرتی ہے۔یہ عظیم اور بابرکت راتیں اللہ کی رحمتوں کے حصول کے بہانےہی تو ہیں۔
ان بابرکت راتوں میں سے ایک رات "شب براءت "ہے۔شب براءت کا مطلب ہے نجات اور چھٹکارے کی رات ۔ چونکہ اس رات میں اللہ کی رحمت سے لاتعدادانسان دوزخ سے نجات اورچھٹکارا حاصل کرتے ہیں اس لیے اس رات کو شب براءت کہا جاتا ہے۔شب قدر کے بعد یہ رات تمام راتوں سے زیادہ بابرکت رات ہے۔امام غزالی مکاشفۃ القلوب میں فرماتے ہیں کہ جس طرح مسلمانوں کےلیے دو عیدیں ہیں اسی طرح فرشتوں کے لیے بھی دو عید کی راتیں ہیں جن میں سےایک شب براءت ہےاور دوسری شب قدر۔


بہت سی احادیث مبارکہ سے اس بابرکت رات کی عظمت و ٖفضیلت واضح ہوتی ہے۔تقریباََ دس صحابہ کرام سے شب براءت کے حوالے سے احادیث مروی ہیں۔حضرت علی المرتضی ٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:جب شعبان کی پندرھویں رات آئے تو اس رات میں قیام کیا کرو اور دن کو روزہ رکھا کرو۔بے شک اللہ تعالیٰ اس رات میں غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک آسمان دنیا پر(اپنی شان کے لائق )نزول فرماتا ہےاور فرماتا ہے کہ ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا کہ اسے بخش دوں،ہے کوئی رزق کا طلب گار کہ اسے رزق دوں،ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے آرام دوں،ہے کوئی ایسا ،ہے کوئی ایسا۔
اللہ تعالیٰ یہ اعلان طلوع فجر تک فرماتا رہتا ہے۔(سنن ابن ماجہ، حدیث:1388)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نےاس رات کے حوالےسےنبی اکرمﷺ کےمعمول کا ذکر بھی کیا ہے۔آپ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرمﷺکو نہ پایا تو میں آپ ﷺ کی تلاش میں باہر نکلی تو دیکھا کہ آپ ﷺ بقیع قبرستان میں ہیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ تم پر ظلم فرمائیں گے ؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرا گمان تھا کہ آپ ﷺ اپنی کسی زوجہ کے ہاں گئےہوں گے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا پر(اپنی شان کے لائق )نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔(ترمذی،حدیث:739)
قبائل عرب میں قبیلہ بنی کلب سب سے زیادہ بکریاں پالنے کے حوالے سے مشہور تھا۔اس مقام پر قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کا ذکریہ واضح کرنے کے لیے کیا گیاکہ جس طرح قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بال گننا ناممکن ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اتنے افراد کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جنہیں احاطۂ شمار میں لانا ناممکن ہے۔

اسی طرح نبی اکرمﷺ نے ایک مقام پر اس امر کا ذکر فرمایا کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور کون سے ایسے لوگ ہیں جو اس عظیم رات میں بھی اس کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:"میرے پاس جبرائیل ؑ آئےاور کہا کہ شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالیٰ اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد فرما دیتا ہے جتنے قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر مشرک ،دشمنی رکھنے والے ،قطع تعلقی کرنے والے،کپڑا (بطورتکبر)لٹکانے والے،والدین کے نافرمان اور عادی شرابی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا۔
"(شعب الایمان،حدیث:3837)
مندرجہ بالا حدیث میں مذکور محروم افراد کے علاوہ دیگر احادیث میں ایسے مزید افرا کا ذکر ملتاہے جو اس بابرکت رات میں بھی اللہ کی رحمتوں سے محروم رہتے ہیں۔مختلف احادیث سے پتا چلتا ہے کہ تقریباََدس قسم کے افراد ہیں جن کی اس بابرکت رات میں بھی بخشش و مغفرت نہیں ہوتی۔ان افراد میں مشرک،کینہ پرور(اپنے مسلمان بہن بھائیوں سے دشمنی رکھنے والا)،عادی شرابی،عادی زانی ،کسی کو ناحق قتل کرنے والا،والدین کا نافرمان،قطع تعلقی کرنے والا،بطور تکبر کپڑالٹکانے والا اور چغلی کرنے والا شامل ہیں۔

ان تمام احادیث سے اس رات کی عظمت و ٖفضیلت عیاں ہے۔اسی طرح مختلف روایات سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ اس رات میں انسان کا نامۂ اعمال تبدیل ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ٰفرشتوں کو ہر شخص کےپورے سال کے معاملات صحائف کی شکل میں دے دیتا ہے ۔یہاں یہ حقیقت واضح رہے کہ ہماری تقدیر میں سب کچھ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے ۔اس رات میں صرف ایک سال کے امور نافذ کرنے کے لیے صحائف فرشتوں کے سپرد کیے جاتے ہیں۔

اس رات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے کہ ہم بھی رحمت باری تعالیٰ کے مستحق قرار پائیں ۔وہ اعمال جنہیں سرانجام دے کر ہم اس رات کی رحمتوں اوربرکتوں کو سمیٹ سکتے ہیں،پیش خدمت ہیں۔
1:سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کریں تاکہ ہمارا نام بھی اس رات میں جہنم سے آزاد ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہوجائے۔
2:باہمی رنجشوں کو ختم کرکے ایک دوسرے سے معافی مانگیں۔
لیکن یہ بات یاد رہے کہ یہ معافی رسمی نہ ہو کہ ایک میسج ٹائپ کرکے تمام دوستوں اور رشتے داروں کو سینڈ کردیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہیں کہ ہم نےتو اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے بلکہ کوشش کریں کہ حتی الامکان احساس ندامت کے ساتھ سب سے انفرادی طور پر مناسب طریقےسےمعافی مانگیں۔
3:اپنے والدین سے معافی مانگیں اور ان کی خدمت کرنے کا پختہ عہد کریں۔
جن کےوالدین اس جہان فانی سے رخصت ہو چکےہیں وہ ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔
4:اس رات میں قبرستان جانا سنت نبوی ﷺ ہے۔اس لیے اگر ممکن ہو تو قبرستان جا نے کا اہتمام کریں۔
5:بقدر وسعت ذکر واذکار ،درود شریف اور تلاوت قرآن کریم کا اہتمام کریں۔تین مرتبہ سورۃ یٰسین اور سات مرتبہ سورۃ دخان پڑھیں۔
6:نوافل کی ادائیگی کا اہتمام بھی کریں۔
قیام اللیل کی نیت سے کم ازکم آٹھ نوافل ضرور ادا کریں۔لیکن یہ بات بھی مد نظر رکھیں کہ اگر آپ کے ذمے قضا نمازیں ہیں تو ان کی ادائیگی نوافل سے زیادہ ضروری ہے۔اس لیے اگر آپ کے ذمے قضا نمازیں ہیں تو وہ ادا کریں۔
7:نبی اکرم ﷺ کے فرمان مبارک پر عمل کرتے ہوئے پندرہ شعبان کا روزہ رکھیں۔
8: پوری امت مسلمہ کے لیے دعا کریں۔
اگر ہم سچے دل سے مندرجہ بالا اعمال کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ ہمارا نام بھی اس رات میں جہنم سے آزاد ہونے والوں میں شامل ہو جائے گا۔

Your Thoughts and Comments