Barkat E Ramzan Kareem

برکاتِ رمضان کریم

رمضان المبارک کی اہمیت وفضیلت اور روزہ کی غرض وغایت حضرت عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں،کہ رمضان پانچ حرفوں سے مل کر بنا ہے ۔

منگل مئی

Barkat e Ramzan Kareem
خالدہ جمیل
رمضان المبارک کی اہمیت وفضیلت اور روزہ کی غرض وغایت حضرت عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں،کہ رمضان پانچ حرفوں سے مل کر بنا ہے ۔(ر)سے مراد رضوان اللہ رضائے الٰہی(م)سے مراد اللہ عطائے الٰہی عشقِ! (ض)سے مراد ضمان اللہ،اللہ کی ضمانت (ا)سے مراد الفت اللہ،اللہ کی الفت(ن)سے مراد نور اللہ (اللہ کا نور)پس رمضان المبارک خاص طور پر اولیائے کرام اور نیک لوگوں خدا کی رضا عشق ومحبت ضمانت و ضیافت اور نور کا مہینہ ہے۔

(1)شہر الصیام:۔روزے رکھنے کا مہینہ
(2)رمضان المبارک کو حدیث شریف میں ”شہر الصبر “یعنی صبر کا مہینہ کہا گیا ہے۔
(3)”شہر المراساة “․․․․․․یعنی ہمدردی کا مہینہ ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یعنی ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ۔


(4)”شہر القرابت “․․․․․․قرب الٰہی کا مہینہ
(5)”شہر اللہ“․․․․․․․اللہ کا مہین۔


روزے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :”روزہ میرے لیے ہے،اور میں ہی اس کی جزا دوں گا“
حالانکہ کسی اور عبادت کے لیے ایسا نہیں فرمایا ۔پس یہ خصوصیت ثابت کرتی ہے کہ روزے کو اللہ سے خاص نسبت ہے۔اس لیے ثابت ہوا کہ جس مہینے کی یہ عبادت ہے اسے بھی یقینا اللہ سے نسبت ہو گی۔
(6)مہینوں کا سردار ،رمضان اپنی فضیلت کی وجہ سے سید الشہودیعنی مہینوں کا سردار کہلاتا ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے“۔
(7)شہر مبارک ،برکت والا مہینہ۔سنن نسائی میں روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ترجمہ۔”تمہارے پاس ماہ رمضان آیا جو برکتوں والا مہینہ ہے“۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شعبان کے آخری دن تمہارے قریب ایک عظمت والا مہینہ آن پہنچا ہے“۔

بروایت سلمان فارسی مشکوٰة شریف۔
”یہ وہ مہینہ ہے جس میں برکت والی کتاب نازل ہوئی“
ترجمہ:۔”اے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کی طرف ایک برکت والی کتاب نازل کی“۔پس معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کے اسماء مبارکہ میں”شہر النعمت “نعمتوں والا مہینہ ”شہر العافین “ گنہگاروں کی بخشش کا مہینہ بھی شامل ہے،یہ وہ مہینہ ہے جس میں دن رات آسمانی برکتوں کا نزول ہوتا ہے ۔
جس میں مغفرت و بخشش عام کی بارش ہوتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ گنہگاروں کے لیے ہر سال ایک مہینہ رکھ دیا ۔جو گیارہ مہینوں کی کثافتوں اور کدورتوں کو دھو دیتاہے۔
اس ماہ مقدس کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے ۔جب ہم اپنی گزشتہ گیارہ مہینوں کی زندگی پر ایک نگاہ احتساب اور ایک نظر جائزہ طلب ڈالیں۔ہمیں اپنی زندگی کے دامن پر کچھ دھبے نظر آئیں گے کہ ہماری روح ،ہمارا قلب ان کی صفائی کے لئے بے چین ہو جائے گا اور روح کی اس بے چینی کو دور کرنے اور قلب کے اس اضطراب کو رفع کرنے کے لیے الرحیم الرحمن خدائے قدوس نے ماہ رمضان میں فرمایا ہے :
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ”اس میں راحت و رحمت کے دروازے کھول دےئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دےئے جاتے ہیں۔

غرضیکہ خواص کے روزے کے معنی یہ ہیں کہ انسان کے تمام ظاہری معنوی اعضا وجوارح بُرے اعمال سے محفوظ ہیں اور ان سے سوائے امر خیر کے کوئی شر وضلالت کام سر زدنہ ہو اس طرح کا روزہ یقینا روزہ ہو گا اور اسی روزہ پر لعلکم تتقون کا اثر مرتب ہو گا۔کیونکہ یہ روزہ کی دونوں شرائط ایمان اور احتساب کی تکمیل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اے ایمان والو تُم پر روزے فرض کر دیے گئے۔
قرآن میں روزوں کا مقصد یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس ہدایت سے اللہ تعالیٰ نے تحسین سر فراز کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعتراف واظہار کرو اورشکر گزار رہو۔معلوم ہوا کہ رمضان کے روزوں کو صرف تقویٰ اور عبادت کی تربیت ہی قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ انہیں مزید برآن اس عظیم الشان نعمت وہدایت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ٹھہرایا گیا ہے جو قرآن پاک کی شکل میں اس نے ہمیں عطا کی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک دانش مند انسان کے لئے کسی نعمت کی شکر گزاری اور کسی احسان کے اعتراف کی بہترین صورت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس مقصد کی تکمیل کے لئے زیادہ سے زیادہ تیار کرے جس کے لئے عطا کرنے والے نے یہ نعمت عطا کی ہے۔ماہ صیام شروع سے لے کر آخر تک خیروبرکت کا مہینہ ہے اس میں مسلمان عشاء کے بعد تراویح میں کلام پاک سنتے ہیں اور یہ تلاوت اس کے اختتام تک جاری رہتی ہے پھر اس میں لیلة القدر ہے جو طاق راتوں میں تلاش کی جاتی ہے اور مسلمان راتوں کو جاگ جاگ کر اس رات کی برکتوں سے مستفید ہوتے ہیں پھر اعتکاف کے لئے جو سنت کفایہ ہے نیک اور متقی حضرات مساجد میں اعتکاف بیٹھتے ہیں اور رمضان کے آخری دنوں میں مسجدوں میں بیٹھ کر پوری یکسوئی سے عبادت کرتے ہیں۔

تو اعضائی تصور گزر کر
سمولے روح میں نور خدا کو

Your Thoughts and Comments