Hum, Hamari Routine Aur Namaz

ہم، ہماری روٹین اور نماز

اللہ نے انسان کا دل اپنے لئے بنایا ہے تو اللہ کو یہ پسند نہیں آتا کہ اسکا بندہ اپنے دل میں اسکی محبت سے بڑھ کر کسی اور چیز کی محبت رکھے

Umaira Najeeb Abbasi عمیرہ نجیب عباسی بدھ مئی

hum, hamari routine aur namaz

نماز ایک ایسی عبادت ہے جو ہمیں اللہ سے جوڑے رکھتی ہے. ہم سب اپنی پڑھائی، آفس اور دیگر مصروفیات سے وقت نکال کرنماز پڑھتے ہیں، کبھی پانچ پوری پڑھ لیتے ہیں تو کبھی کوئی قضا ہوجاتی ہے. کبھی نماز اسلئے قضا ہوجاتی ہے کہ ہم مصروف ہوتے ہیں، کبھی یاد نہیں رہتا تو کبھی دل نہیں چاہتا اور سستی سی چھائی رہتی ہے. وقت کا پہیہ بہت تیز چلنے لگا ہے اور ہماری مصروفیات بھی بڑھ گئی ہیں.

ہم لوگ اکثر گھر سے باہر ہوتے ہیں تو نماز نہیں ادا کر پاتے اور اکثر گھر پر بھی مصروفیات کی بنا نماز کو جانے انجانے میں چھوڑ دیتے ہیں لیکن اگر ہم نماز اور قرآن کو ترجیح نہیں دیں گے تو اللہ ہماری زندگی سے برکت اٹھا لے گا، زندگی ذیادہ مشکل ہو جائے گی اور کام کبھی ختم نہیں ہونگے. اگر انسان خود یہ تہیہ کرلیں کہ پہلے نماز پڑھ کے یہ کام کروں گا تو اسکے کام آسان ہوجاتے ہیں، اللہ نماز اور قرآن کی برکت ہماری زندگی میں ڈال دیتا ہے اور ہم تمام کام خوش اسلوبی سے سرانجام دے لیتے ہیں اور یہ بات بہت سے لوگ اپنی زندگیوں میں نوٹ کرتے ہیں کہ نماز اور قرآن کے ساتھ وقت میں برکت پیدا ہوجاتی ہے.
تو ضروری ہے کہ ہم اپنی کلاس، آفس اور دیگر کاموں میں سے تھوڑا وقت نکال کر نماز ادا کرلیں اور پھر اپنا کام جاری کرلیں.نماز میں پابندی کے لئے ضروری ہے کہ ایک نماز ادا کرنے کے بعد انسان اپنے ذہن میں ٹائم ٹیبل ترتیب دے لے کہ میں نے آج فلاں فلاں کام کرنے ہیں، ان کے یہ اوقات ہونگے اور اس بیچ نماز میں نے اس وقت نماز ادا کرنی ہے.. نماز میں پابندی کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے دل میں فکر ہو کہ اسنے نماز ادا کرنی ہے۔


حضور صَلَّی ?للّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کا ارشاد ہے:
جب آدمی وضو کرتا ہے اور وضو کو کمال درجہ تک پہنچا دیتا ہے اور پھر مسجد کی طرف صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے کوئی اور ارادہ اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتا تو جو قدم رکھتا ہے اسکی وجہ سے ایک نیکی بڑھ جاتی ہے اور ایک خطا معاف ہوجاتی ہے اور نماز پڑھ کر.

اسی جگہ بیٹھا رہتا ہے تو جب تک وہ باوضو بیٹھا رہے گا، فرشتے اس کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے رہیں گے اور جب تک آدمی نماز کے انتظار میں رہتا ہے وہ نماز کا ثواب پاتا رہتا ہے" یعنی نماز کی فکر، اگلی نماز کا انتظار بھی ثواب کا باعث ہے. جب انسان کو ایسی موٹیویشن ہو تو اسکی لگن بڑھ جاتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم نماز کے بارے میں احادیث وغیرہ پڑھتے رہیں، اس سے دل میں خشوع بھی پیدا ہوتا ہے اور لگن بھی بڑھتی ہے.
اکثر ہم ایک نماز بہت اچھے طریقے سے ادا کرلیتے ہیں لیکن دوسری نماز پڑھنے کا دل نہیں کرتا یا ہم اسے ٹال دیتے ہیں، اسکی وجہ یہ ہوتی ہے ایک نماز کے بعد ہم دنیاوی کاموں میں مصروف ہو کر نہ جانے کتنے چھوٹے بڑے گناہ کرلیتے ہیں کہ اگلی نماز ادا کرنے کے لیے ہمارا دل راضی ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ دنیا میں لگ چکا ہوتا ہے اور اس میں نماز کی چاہت کہیں دب جاتی ہے.
اللہ بہت شان والا ہے، اسکی عزت، اسکی غیرت تمام جہانوں سے بڑھ کر ہے، جیسے وہ خود سب سے بڑھ کر ہے. اللہ نے انسان کا دل اپنے لئے بنایا ہے تو اللہ کو یہ پسند نہیں آتا کہ اسکا بندہ اپنے دل میں اسکی محبت سے بڑھ کر کسی اور چیز کی محبت رکھے.
جب بندہ کے نزدیک کوئی گناہ جسے کرنے کے لئے انسان اللہ کی دی ہوئی حدود کو پار کرے، کوئی حرام رشتہ جس کے ساتھ رنگ برنگی گفتگو اسے اللہ کی یاد سے غافل کردے اور اسکی تمنا اسے اللہ کے خوف اور ڈر سے ذیادہ لگنے لگے، اس حرام رشتے یا کسی بھی اور گناہ کی چاہت اتنی شدید ہو کہ اس کے بغیر دل بے چین ہونے لگے، یعنی جس دل کو اللہ کی محبت میں بے چین ہونا تھا وہ گناہ کے لیے بے چین ہورہا ہے تو اللہ ایسے دلوں کو پھر نماز، قرآن اور اپنے ذکر کی توفیق نہیں دیتا.
اللہ ایسے لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دیتا ہے، اللہ کہتا ہے جاؤ آزما لو اور دیکھ لو کہ کونسی محبت تمھارے لیے پائیدار ہے. ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندے سے اسکا حرام رشتہ جو اسے بہت محبوب ہے وہ چھین لیتا ہے، تب بندہ بہت روتا، بہت تڑپتا ہے۔
بندے کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ اللہ نے اسکی محبوب چیز اس سے کیوں چھین لی، کیوں دھوکہ ہو گیا لیکن تب بندہ یہ نہیں سمجھتا کہ اسنے اللہ کی حدوں کو توڑا ہے، اسنے اللہ کے ساتھ شرک کیا ہے.
جس دل کو ہر وقت اپنے رب کی یاد میں مصروف ہونا چاہیے تھا وہ دل کسی نامحرم کی چاہ میں لگا رہتا ہے اور اسکے نہ ملنے پر اداس ہو جاتا ہے, اپنے دل. کی خوشی اسی ایک چیز کے ساتھ جوڑ لیتا ہے اور نامحرم کی محبت ہی اس کے دل کے موسموں کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے. انسان اللہ کی بنائی ہوئی حدود کو توڑ کر محبت تو کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دل جو ہے ہی اللہ کی جگہ، اللہ کا گھر اسے کسی اور کا محتاج کردیتا ہے، اپنی خوشی اپنے غم کو کسی اس ناپائیدار محبت کے ساتھ جوڑ دیتا ہے اور اس کے ذرا سے دور ہو جانے پر تڑپ اٹھتا ہے..
تب اللہ اس سے وہ محبت دور کردیتا ہے. اللہ اس سے بہت محبت کرتا ہے اور وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اسکا بندہ اپنے رب کی محبت سے بڑھ کر کسی چیز کو عزیز رکھے... پھر اللہ دنیاوی محبت چھین کر اپنے بندے کو اپنی محبت عطا کرتا ہے، اب بندے کی مرضی کہ وہ اللہ کی محبت سے اپنے دل کو سکون بخشتا ہے یا پھر ڈپریشن سے اپنی ذندگی برباد کرتا ہے..
. اللہ سے تعلق جوڑے رکھنے والوں کو کبھی ڈپریشن نہیں ہوتا، وہ جانتے ہیں کہ انکا محبت کرنے والا رب انکو تکلیف میں ہمیشہ نہیں رہنے دے گا...
وہ اللہ سے اچھے وقت کی امید رکھتے ہیں اور روشن صبح کا انتظار کرتے ہیں.. جب انسان کو معلوم ہو کہ یہ پریشانی ختم ہوجاتی ہے تو وہ ذیادہ پریشان نہیں ہوتا. انسان کو ایسے لگتا ہے جیسے نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے کا فیصلہ اسکا اپنا ہوتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے. یہ تو اللہ کی مرضی وہ کسی کو اپنی طرف بلا لے اور کسی کو محروم کردے.. اللہ صرف انہی لوگوں کو اپنے قریب کرتا ہے، اپنی عبادت کی توفیق عطا کرتا ہے جن کے اندر خیر ہوتی ہے، جن کی ذبان اور ہاتھوں سے دوسرے محفوظ رہتے ہیں، جن کے دل میں ادب ہوتا ہوتا ہے..
بقول اقبال:
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں...
جو لوگ اللہ کی، اس کے رسول کی، اسکے بندوں اور اسکی دی ہوئی حدود کا ادب نہیں کرتے وہ ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں نیز جو لوگ دوسروں کی خیر نہیں چاہتے اللہ انکی خیر نہیں کرتا تو جب اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ وہ جسے چاہے ہدایت دے تو شاید اللہ کے دربار میں ہدایت دینے کی کچھ ایسی ہی کنڈیشنز ہوں، وہ اپنے بندوں ادب اور محبت کے ترازو میں تولتا ہے...
تو اگر ہم نیکی کی راہ پانا چاہیں تو اس کے لئے ہمارے دل کو کینہ، بغض اور فریب سے پاک ہونا چاہیے..اکثر انسان نماز تو ادا کرلیتا ہے لیکن وہ نماز خشوع و خضوع سے خالی ہوتی ہے، چند سجدے جو زمین پر سر پٹخنے کے سوا کچھ نہیں ہوتے اور بس ایک بے روح قسم کی نماز ہوتی ہے جس میں محبت کا کوئی عمل دخل نظر نہیں آتا لیکن کام تو یہ سارا محبت کا ہی ہے تو ایسی نمازیں اللہ کی بارگاہ میں قبولیت نہیں پاتیں.
حدیث شریف میں آتا ہے:
"جو شخص نمازوں کو اپنے وقت پر پڑھے، وضو بھی اچھی طرح کرے، خشوع و خضوع سے بھی پڑھے، کھڑا بھی پورے وقار سے ہو، پھر اسی طرح رکوع سجدہ بھی اچھے طرح سے اطمینان سے کرے تو وہ نماز نہایت روشن چمکدار بن جاتی ہے اور نمازی کو دعا دیتی ہے کہ اللہ تیری بھی ایسی ہی حفاظت کرے جیسے تو نے میری حفاظت کی اور جو شخص نماز کو بری طرح پڑھے، وقت کو بھی ٹال دے، وضو بھی اچھی طرح نہ کرے، رکوع سجدہ بھی اچھی طرح نہ کرے تو وہ نماز بری صورت سے سیاہ رنگ میں بد دعا دیتی ہوئی جاتی ہے کہ اللہ تجھے بھی ایسے ہی برباد کرے جیسے تو نے مجھے ضائع کیا.
اس کے بعد وہ نماز پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر نمازی کے منہ پہ ماری جاتی ہے"
اسکا مطلب یہ ہوا کہ ضروری نہیں کہ جو نماز امدان نے ادا کردی وہ پوری ہوگئی بلکہ انسان کو نماز کو قبول کروانے کے لئے اسے اچھے طریقے سے ادا کرناہو تا ہے، محنت کرنی پڑتی ہے. ایسے ہی جیسے جب ہمیں کوئی پریزینٹیشن دینی ہو تو ہم ہر طرف سے سیف سائیڈ ڈھونڈتے ہیں، ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں، کونٹینٹ کا، اپنے لباس کا، باڈی لینگویج کا، انداز بیاں کا یعنی ہر طرح سے تیاری پوری رکھتے ہیں کہ نمبر کٹ نہ جائیں.
ایسے ہی نماز میں بھی نمبر نہ کٹیں اس کے لئے ان تمام باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے..جو نمازیں دل سے ادا نہیں ہونگی، جن میں سر جھکے گا پر دل نہیں جھکے گا، زبان اقرار کرے گی لیکن دماغ اور سوچوں میں مگن ہوگا، ایسی نمازیں اللہ انسان کو ہی لوٹا دیتا ہے.
پوری نماز ایک دعا کی طرح ہے جس میں انسان اللہ کی حمدوثنا کرتا ہے اور اللہ سے اسکا فضل مانگتا ہے.
نماز ایسی ہونی چاہیے کہ انسان نیت کر کے تکبیر کہے تو اللہ اکبر کی گونج اسکے دل سے نکلے اور پھر جب وہ ثناء پڑھے تو دل سے اللہ کی تعریف اور حمد و ثناء میں مصروف ہو، سورتہ فاتحہ پڑھے تو دل اللہ کے شکر سے بھر جائے، سورتہ اخلاص پڑھے تو دل اللہ کے اکیلے ہونے کی گواہی سے. نماز میں طرح طرح کی سوچوں سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان نماز کا ترجمہ یاد کرلے تو جب وہ نماز میں تلاوت کر رہا ہو تو دماغ میں اسکا ترجمہ بھی آئے اور دل ہر آیت پر لبیک کہے..
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم تلاوت کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہر لفظ سہی طریقے سے ادا نہیں کرتے، منہ میں ہی بڑبڑاتے رہتے ہیں جو کہ غلط ہے، تمام آیات کو تلفظ کے ساتھ صحیح طریقے سے ادا کرنا ضروری ہے. اسی لئے جب ہمیں آیات کے اور سورتوں کے معنی معلوم ہوتے ہیں تو ہم بہتر انداز سے نماز ادا کر سکتے ہیں جیسے ہم عام ذندگی میں کوئی بات اچھے طریقے سے تبھی ڈیلیور کر سکتے ہیں جب ہم خود اس بات کوسمجھتے ہوں.

نماز میں خشوع کے لیے ضروری ہے کہ انسان نماز کو اسکے اول وقت میں ادا کرے اور نماز کی نیت کرنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ یہ کچھ پل ہیں جو میرے رب سے ملاقات کے کے ہیں تو مجھے انہیں دہی طریقے سے استعمال کرنا ہے مزید یہ کہ انسان کو ہر نماز ایسے ادا کرنی چاہیے جیسے یہ اسکی آخری نماز ہے اور یہی نماز اسکی بخشش کا ذریعہ بن سکتی ہے اسلئے نماز میں کوئی کمی نہ ہو.... تمام صحابہ کرام نماز ادا کرتے ہوئے اس قدر مگن ہوتے تھے کہ ہم نے سنا کہ پاس سے سانپ گزر گیا، کاٹ گیا لیکن انہیں خبر نہ ہوئی اور ہمارا یہ حال ہے کہ نماز میں اللہ کی طرف خیال کم اور باقی ہر جگہ ذیادہ ہوتا ہے...
حالانکہ نبی کریم صَلَّی ?للّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ اور صحابہ کی نماز تو بہت لمبی ہوتی تھی، کھڑے کھڑے پاؤں سوج جاتے تھے پھر بھی کوئی چیز انہیں نماز سے غافل نہیں کرتی تھی... ہماری نمازیں بہت چھوٹی ہوتی ہیں اور ان کو بھی ہم اکثر تیز تیز پڑھ کر سر سے اتار دیتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی بارگاہ میں نیتوں کا اجر ہے، دل سے نماز ادا نہیں کی جائے گی تو اللہ قبول نہیں کرے گا.
ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے نماز پڑھ دی تو قبول ہوگئی چاہے پھر وہ چاہے جیسی ہو لیکن ایسا نہیں ہے. جیسے کسی اسائنمنٹ میں نمبر لینے کے لئے ہم اسے سنوارتے ہیں، کونٹینٹ پہ توجہ دیتے ہیں، اسکی پریزینٹیشن کا خیال رکھتے ہیں ایسے ہی نماز میں بھی تمام باتوں کے نمبر ہیں. خشوع و خضوع کی کمی ہوگی تو نمبر کم، تلاوت سہی نہیں ہوگی تو نمبر کم، سجدے اور رکوع میں جانے اور اٹھنے میں جلدی کریں گے تو نمبر کم..
یعنی ہر چیز کا حساب ہے اور ہمیں ان تمام باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے، اگر ہم ناکام ہو جائیں تو اللہ کو بے روح نمازوں کی کیا ضرورت، وہ تو کہتا ہے کہ ایک دفعہ خشوع و خضوع سے اللہ اکبر کہو تو قیامت کے دن پہاڑ جیسی نیکیوؤں کا وزن بھی اس سے کم ہو جائے گا اور. بندہ بخش دیا جائے گا لیکن شرط خشوع وخضوع کی ہے... اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی انہی نمازوں کو بندوں کے لیے فلاح کا باعث کہا ہے جو خشوع سے بھرپور ہوں...
یعنی جو نماز دل سے ادا کی جائے، جو باروح نماز ہو، جو صرف ذمین پر ٹکریں مارنے کا نام نہ ہو اور وہ نماز جسکو ادا کرتے ہوئے انسان کی باڈی لینگویج سے یہ محسوس ہو کہ وہ تمام جہانوں سے بڑی ہستی کے آگے کھڑا ہے یعنی اس کے انداز میں عاجزی ہو نہ کہ وہ اکڑ کر کھڑا رہے اور اپنے رب سے ملاقات کے وقت دوسری باتوں کو سوچے، کسی اور چیز کو ذیادہ اہمیت سے..
ہم انسان بھی اگر کسی سے گفتگو کر رہے ہوں اور اگلا بندہ ہماری بات پر توجہ نہ دے رہا ہو، اپنے فون کو یا اردگرد متوجہ ہو تو ہمیں بہت برا محسوس ہوتا ہے. تو کیا اللہ کی ذات اس سلوک کی مستحق ہے.؟ کہ اسکا بندہ دن میں صرف پانچ مرتبہ، چند منٹوں کے لیے اسکی بارگاہ میں حاضر ہو اور اس میں بھی باقی جگہ مشغول ہو. ہرگز نہیں، لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم بہت اچھے دل سے وضو کریں اور یہ سوچیں کہ وضو کا یہ پانی ہمارے گناہ دھو رہا ہے.
اس کے بعد بہت اطمینان سے نیت کر کے نماز شروع کریں، تلاوت واضع الفاظ میں کریں، آیات کا ترجمہ ذہن میں دہرائیں، رکوع اور سجدے میں لمبا قیام کریں اور جلدی نہ کریں۔۔ سجدے میں انسان اللہ کے سب سے ذیادہ قریب ہوتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم لمبا سجدہ کریں، دعائیں مانگیں اور دل سے سجدے کی تسبیح پڑھیں.. صحابہ کرام نماز ادا کرتے ہوئے اللہ کی محبت اور اسکی یاد میں بہت رویا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر آنسو نہ بھی آرہے ہوں تو رونے والی کیفیت چہرے پر طاری کر لیا کرتے تھے، ایسے ہی ہماری نماز بھی ایسی ہونی چاہیے کہ دل اللہ کی محبت سے بھر آئے.حضور صَلَّی ?للّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نماز ایسے ہے کہ کسی شخص کے گھر سے ایک کثیر پانی کی نہر ہواور وہ دن میں پانچ دفعہ اس میں غسل کرے...
یعنی اپنے آپ کو صاف کرلے، کس سے..؟گناہوں سے (صغیرہ) یعنی ہم دن بھی جتنے بھی گناہ کرتے ہیں، انکی معافی کا ذریعہ اللہ نے ہمیں دے رکھا ہے، نماز ادا کریں اوردعا میں اللہ سے معافی مانگ لیں... ہم میں سے بہت لوگ نماز کے بعد دعا نہیں مانگتے، دعا عبادت کا مغز ہے. نیز دعا تو اجر لینے کا وقت ہوتا ہے اسلئے دعا ضروری ہے...اللہ ہم سب کو ایسی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس میں ہمیں پورے نمبر مل جائیں اور جو ادا ہونے کے ساتھ قبولیت کاشرف بھی حاصل کرے. آمین!

Your Thoughts and Comments