Kamyabi Ki Kunji

کامیابی کی کنجی

رحمت دوعالم ﷺ پوری انسانیت کیلئے مینارہٴ نور ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریمﷺ کی سیرتِ مطہرہ پر عمل کو کامیابی کا پیمانہ قرار دیا ہے․․․․․․․․․․․․․․ معاشرے میں موجودہ بے راہروی اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے

Kamyabi Ki Kunji
ابوزر محی الدین:
رحمت دو عالمﷺ انسانیت کے لئے روشن مینار تھے آپﷺ کی سیرت مطہرہ انسان کی کامیابی اور فلاح کی کنجی ہے جو اللہ رب العزت نے انسانوں کو بطور احسان عطا فرمائی ہے۔ جناب نبی کریمﷺ کی سیرت مطہرہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو دنیاوی اور اخروی کامیابی عطا کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سیرت مطہرہ کو کامیابی کا پیمانہ قرار دیا ہے ۔
جناب نبی کریمﷺ پر اللہ نے اپنا کلام قرآن کریم نازل فرمایا اور جناب نبی کریمﷺ ہی قرآن کی تشریح و تعبیر بتانے کیلئے منتخب فرمائے اور آپﷺ کی حیات مبارکہ قرآن کریم کی بہترین تشریح اور تعبیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے محبوب نبیﷺ کو یہ مقام عطا فرمایا کہ ان کی حیات مبارکہ کے ہر پہلو کی امت نے حفاظت کی اور انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جناب نبی کریمﷺ کی امت میں کئی عظیم الشان افراد اور گروہ موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد حدیث مبارکہ کی حفاظت کو بنایا اور اپنی پوری زندگی احادیث مبارکہ کی حفاظت جیسے عظیم مقصد میں گزاردی ۔

ان محدثین کرام کی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ حدیث تو حدیث انہوں نے احادیث کے راویوں کی زندگی کو بھی محفوظ کردیا اور احادیث مبارکہ کو مختلف درجات میں تقسیم کرکے ان کے قابل عمل ہونے کے درجات بھی بیان فرمادیئے۔ حدیث کا یہ علم اوراس کی حفاظت کا یہ طریقہ جناب نبی کریم ﷺ کا ایک معجزہ ہے اور امت مسلمہ پر ان محدثین کرام کی ایک عظیم احسان ہے کیونکہ یہی وہ علم ہے جس کے ذریعے کئی صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی امت مسلمہ اپنے اصل مرکز کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور قیامت تک یہ علم مسلمانوں کے لئے مشعل راہ اور کامیابی کا ضامن ہے۔
یہ وہ نعت ہے جس پر ہم اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ بطور مسلمان، ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ جناب نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مکمل طرز حیات ہے اور ہماری زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں ہمیں سیرت مطہرہ سے مدد اور رہنمائی نہ ملتی ہو ، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی زندگی کو کامیاب کرنے کیلئے سیرت مطہرہ سے کتنا فائدہ حاصل کرتے ہیں اور سیرت مطہرہ کو اپنا کر اپنی کامیابی کو یقینی بناتے ہیں آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں اور اپنی ذاتی زندگی میں جھانکیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ ہم میں سے ہر شخص پریشان اور نالاں ہے اور ہر شخص کو اس بات کی فکر ہے کہ ہمارا معاشرہ تباہی وبربادی کی سمت میں گامزن ہے اور تقریباََ پورے معاشرے کا اس پر اتفاق نظر آتا ہے کہ ہماری نوجوان نسل بے راہ روی کی جانب گامزن ہے۔
معاشرے میں ہر طرف افراتفری ، قتل وغارت گری، لوٹ کھسوٹ اور ایک دوسرے کو روند کر آگے بڑھنے کی روایات فروغ پارہی ہیں۔ ہماری نوجوان نسل جیسے جیسے عملی زندگی میں قدم رکھ رہی ہے اس کی رفتار دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے انہیں کامیابی کی کتنی جلدی ہے۔ معاشرے میں موجود تمام افراد میں ایک دور لگی ہوئی ہے اور ہرشخص دوسرے سے زیادہ کامیابی چاہتا ہے ، افراتفری کے اس ماحول میں جہاں دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جارہا وہاں انسان اپنے اہل خانہ اور اقربا کو بھی وقت نہیں دے پارہے۔
ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے اخلاقی رویوں کو بھی نظر انداز کیا جارہاہے اور سب سے بڑھ کر اکثریت میں مایوسی اس قدر غلبہ پا چکی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خون کے بھی پیاسے ہوچکے ہیں اور معاشرے میں تھوڑے سے مالی فائدے کیلئے دوسرے کو قتل کردنیا ایک خطرناک وہا کے طور پر پھیل چکا ہے۔ انسان جسے اسلام نے سب سے زیادہ عظمت عطا کی ہے آج وہ انسان اپنے حقوق کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔
خواتین بچوں سمیت تمام کمزور طبقات کے حقوق کو پامال کی جارہا ہے۔ یہ تمام صورتحال تکلیف دہ ہے اور اس لئے بھی ہمیں اس کی طرف توجہ دینے کی ضرور ت ہے کہ ہم اسلامی معاشرے کے دعویدار ہیں، بطور مسلمان ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ امت مسلمہ کو اللہ رب العزت نے اعتدال پسند امت قرار دیا ہے بطور امتی ہمارا فرض ہے کہ ہم انسانیت کو امن وسکون ، فلاح اور کامیابی کی طرف بلائیں اور دیگر لوگوں کو انسانیت کے احترام کر درس دیں۔
ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہمارا اپنا معاشرہ تباہی اور بربادی کا شکار ہے۔ مسلمان ہونے کے باوجود ہم اپنی اخلاقی اقدار سے بہت دور ہیں اور انسانیت کی عظمت جو تصور اسلام نے ہمیں عطا کی ہے ہمارے معاشرے میں موجود نہیں ہے۔ اس تباہی اور بربادی کے ہم براہ راست ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم اپنے معاشرے میں تعلیم وتربیت اور نوجوان نسل کو ان کے مذہب سے جوڑے رکھنے کے لئے کوئی قابل عمل منصوبہ بنانے میں ناکام رہے ہیں ہمارے لئے یہ بات قابل افسوس ہے کہ ہمارے نوجوان اپنی تاریخ سے روشناس نہیں ہیں اور خصوصاََ ہمارے نبی کریم ﷺ کی سیرت مطہرہ سے انہیں کسی قسم کی مناسبت نہیں ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مسلمان نوجوان حقوق اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے اور معاشرے میں خیرو بھلائی پھیلانے میں اس کا کوئی کردار نہ ہو بلکہ اس کے برعکس وہ معاشرے کی تباہی اور بربادی میں بڑھ چرھ کر حصہ لیتا ہو۔
اگر ہم اپنے معاشرے کی تعمیر نو کرنا، معاشرے کو خیرو برکت کا مرکز بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو دین اسلام نے ہمیں عطا کی ہیں تو اس کے لئے ہمیں ان تھک محنت کرنا ہوگی اور معاشرے میں تعلیم اور تربیت کے نظام کو دوبارہ سے مرتب کرنا ہوگا۔ تشکیل نو کے اس سفر میں سب سے پہلے ہمیں اپنے مقاصد کا تعین کرنا ہوگا اور معاشرے کے تمام طبقات کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگاکہ وہ نوجوان نسل کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
اگر ہماری منزل ایک معتدل اسلامی ریاست کا قیام ہے تو ا س کے لئے ہمیں اپنا نظام تعلیم بہتر کرنا ہوگا اوراپنے نظام تعلیم میں قرآن وحدیث کو وہی اہمیت دینی ہوگی جو ماضی کے مسلمان معاشروں میں موجود تھی۔ خصوصاََ سیرت مطہرہ کا مطالعہ اور خلافت راشدہ کے مقاصد نوجوان نسل میں منتقل کرنے ہوں گے اور نوجوان نسل کے سامنے سیرت مطہرہ کے تمام پہلوؤں کا اجاگر کرنا ہوگا اور انہیں آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ جناب نبی کریمﷺ کی سیرت مطہرہ کو اپنائیں اور اس کی روشنی میں اپنا مستقبل طے کریں۔
ہمیں اس بات پر یقین کرلینا چاہیے کہ آج کہ مسلمان کی فلاح اور بہبود بھی اسی نظام میں ہے جسے اپنا کر پہلے مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی معاشرے کی فلاح اور بہبود کے اصول نظام خلافت راشدہ سے ہی حاصل کئے گئے اور آج ترقی یافتہ دور میں بھی بہت سی ریاستوں میں یہی اصول اپنائے گئے ہیں اور ہمارے معاشرے کی فلاح اور بہبود کے لئے بھی یہی اصول کارآمد ہوں گے۔
ہمارے معاشرے کاسب سے بڑا مسئلہ تعلیم اور تربیت کی کمی اور جہالت کا عام ہونا اور رسوم ورواج کو پنایا جانا ہے خصوصاََ جاہلانہ رسم ورواج کی پابندی نے ہمارے معاشرے میں تفریق پیدا کرر کھی ہے۔آئیے آگے بڑھیں اور معاشرے میں سیرت مطہرہ کو عام کرنے میں سرگرم کردار ادا کریں اپنی نوجوان نسل کو جناب نبی کریمﷺ کی سنت مطہرہ کی طرف متوجہ کریں اور انہیں دعوت دیں کہ وہ معاشرے میں خیر وبھلائی پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کریں کیونکہ رحمت دوعالم ﷺ کی سیرت مطہرہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمارے نوجوانوں کو کامیابی کی سمت گامزن کرسکتا ہے اور ہمارے معاشرے کو فلاحی معاشرے میں تبدیل کرسکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments