Mahe Ramzan Nakiyon Ka Pegham

ماہِ رمضان نیکیوں کا پیغام

رحمتوں ،برکتوں ،سعادتوں اور مغفرتوں کے مہینہ رمضان المبارک کا آغاز ہورہا ہے

جمعہ مئی

mahe ramzan nakiyon ka pegham

مولانا محمد سرورعاصم
رحمتوں ،برکتوں ،سعادتوں اور مغفرتوں کے مہینہ رمضان المبارک کا آغاز ہورہا ہے ،یہ ماہ مبارک تقاضا کررہا ہے کہ دیکھنا کہیں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میری تمام تر فضیلتیں سمیٹنے سے محروم نہ رہ جانا ،شاید یہ زندگی کا آخری رمضان ہو ،دوبارہ ایسا بابرکت مہینہ نصیب میں نہ ہو ․․․․․کیا تم دیکھتے نہیں کتنے ہی ایسے ہیں جو تمہارے ساتھ سحری وافطاری میں شریک ہونے والے اور قیام رمضان میں ساتھ کھڑے ہونے والے تھے لیکن ،آج نظر نہیں آرہے! کیوں؟اس لیے کہ ان کا مقررہ وقت پورا ہو چکا ہے ،
عنقریب،تمہاری باری بھی آنے والی ہے ،پھر کیوں نہ اس زندگی کے بقیہ لمحات وساعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو بدل دیں!معصیت ونافرمانی کی دلدل سے نکل کر زہدوتقویٰ کے تالاب میں غوط زن ہوں ،لیکن کیسے؟ہم اپنی زندگیوں میں کسی طرح انقلاب لائیں؟ہاں! رب کریم نے ہمیں ایک بہترین موقع عطا کیا ہے اور وہ ”ماہ رمضان“ہے ۔

اہم بات یہ ہے کہ کس طرح اسے ماہ کے شب وروزگزاریں ،تاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے اور ہمارے اعمال اس کے ہاں مقبول قرار پائیں؟اس کے لئے درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھا جائے۔
توبہ:۔
سب سے پہلے اپنی سابقہ زندگی پر ایک نظر ڈالیں کہ جس قدر بھی گناہ ہوئے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ،خواہ قولاً ہے یا عملاً تو ان سب سے اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کریں ،تو بہ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ گناہ کے کاموں سے لوٹنا ،گناہ کا اعتراف اور آئندہ کبھی نہ کرنے کا عزم کرنا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :(ترجمہ)”اے ایمان والو!اللہ کے حضور خالص توبہ کر وکچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری بُرائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کر ے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔“ہو سکے تو خوف الٰہی سے چند قطرے آنسوؤں کے بھی شامل کرلیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ شخص جہنم میں نہیں جا ئے گا جو اللہ کے ڈر سے رویا۔
“نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سات قسم کے لوگوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا سایہ عطا کرے گا۔ان میں سے ایک وہ شخص ہے جسے تنہائی میں اللہ یاد آئے اور اس کے آنسو جاری ہو جائیں۔“
حضول تقوی:۔
گناہوں کو چھوڑنے اور نیکی کے کام کرنے پر طبیعت کا مائل ہونا اور اپنے گناہوں کے انجام سے ڈر کر ان سے بچنے کی کوشش کرنا تقویٰ ہے اور ماہ رمضان کا بڑا اور اہم مقصد تقویٰ کا حصول ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :(ترجمہ )”اے ایمان والو! تم پر رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیساکہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کئے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔تقویٰ اختیار کرنے کے دنیاوی واُخروی بہت زیادہ فوائد ہیں جن کا تذکرہ قرآن وسنت میں جابجا ملتا ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :(ترجمہ)“جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ س کے لئے (مشکلات سے )نکلنے کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رز ق دیتا ہے جہاں سے اس کو وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔

رسول اللہ نے فرمایا:۔(ترجمہ)“اللہ سے ڈرو،اپنی پانچوں نمازیں ادا کرو،اپنے (رمضان کے)مہینے کے روزے رکھو،اپنے مالوں کی زکوٰة ادا کرو،اپنے حاکموں کی اطاعت کرو،تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔“
روزے کی حفاظت:
روزے کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر ہم نے اس سلسلے میں سستی وکوتا ہی کا ثبوت دیا اور صحیح طریقے سے روزے کی حفاظت نہ کر سکے تو ہم اس کی فضیلتوں اور برکتوں سے محروم رہ سکتے ہیں ۔
اس لیے لازم ہے کہ (روزے کے اجروثوب کو ختم کرنے والے اعمال مثلاً)جھوٹ ،بہتان ،چغلی ،غیبت اور لڑائی جھگڑے سے بچا جائے ،خصوصاً زبان کی حفاظت کی جائے اور تقویٰ اختیار کیا جائے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں جنہیں پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی قیام (اللیل )کرنے والے ایسے ہیں جنہیں بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
“یعنی جو شخص بھی مذکورہ خرافات سے نہیں بچتا اس کا روزہ اسے کچھ فائدہ نہیں دیتا۔نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل نہیں چھوڑتا تو اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“
قیام اللیل:
اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مربوط کرنے کا اہم ذریعہ قیام اللیل ہے اور رمضان میں قیام اللیل فضیلت کے لحاظ سے اور بھی بڑھ جاتا ہے ۔
رسول اللہ نے فرمایا :”جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام رمضان کرتا ہے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
یہاں ایک بات کا خیال رہے کہ بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ”قیام رمضان اکیلے اور گھر میں کرنا زیادہ بہترہے،لہٰذا ہم گھر میں قیام کریں گے “لیکن وہ بیچارے ساری رات بستر پر سوئے ہی گزار دیتے ہیں۔
(الاماشاء اللہ)اور بعض حضرات قیام رمضان باجماعت کو سنت سمجھنے سے ہی انکاری ہیں!ایسے حضرات کی اصلاح کے لئے اس لمبی حدیث کا ایک حصہ پیش خدمت ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام رمضان کے بارے میں فرمایا تھا۔”یقینا جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھ کر فارغ ہو جاتا ہے تو بقیہ رات (بھی ثواب کے لحاظ سے )قیام ہی میں شمار کی جاتی ہے۔“امید ہے کہ اس قدر قیام رمضان باجماعت کی فضیلت جان کر حیلوں اور بہانوں سے احتراز کیا جائے گا۔

تلاوت قرآن مجید کی کثرت:۔
رسول اللہ نے فرمایا :”قرآن (کثرت سے )پڑھا کرو،کیونکہ قیامت والے دن یہ اپنے (پڑھنے والے )ساتھیوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا۔“یہ حقیقت ہے کہ اجر وثواب کے لحاظ سے ماہ رمضان میں کیا ہوا عمل زیادہ افضل ہے ۔
ذکر الٰہی سے زبان تر رکھنا:۔
لغویات وفضولیات کوترک کرکے ہمیشہ اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تررکھنا چاہئے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تررہنی چاہئے۔“صبح وشام کے اذکار کی پابندی بھی کرنی چاہئے ،جیسا کہ دیگر دلائل سے ثابت ہے ۔جو سلسلہ رمضان کی مبارک ساعتوں میں قائم کیا جائے وہ بقیہ گیارہ مہینوں میں بھی بر قرار رہنا چاہئے ۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ جو شخص رمضان میں قیام اللیل اور اشراق وغیرہ تک کی پابندی کرتا تھا وہ غیر رمضان میں فرض نماز بھی چھوڑ بیٹھے اور پھر اسی معصیت ونا فرمانی کی دلدل میں جاگرے جہاں پہلے پھنسا ہوا تھا اور مہینے بھر کے ”اعمال صالحہ“کی کمائی اکارت کر دے ۔
(والعیاذباللہ)اس لیے ضروری ہے کہ اس مبارک مہینے میں اپنا احتساب کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے صراط مستقیم کا انتخاب کر لیں اور اپنا ہر لمحہ ہر لحظہ قرآن وسنت کے مطابق گزار کر آخرت میں اللہ کے ہاں سر خرو ہو جائیں (انشاء اللہ )اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے دین کے لئے چن لے اور ہم سے راضی ہو جائے ۔(آمین)

Your Thoughts and Comments