Ramzan Ul Mubarak

رمضان المبارک ہم سے ایثار و قربانی کا تقاضا کرتا ہے

بے شمار فضیلتوں، رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ رمضان المبارک اپنے تمام تر فیوض و برکات کے ساتھ آج ہمارے درمیان ہے ویسے تو دنیا بھر میں مسلمان اس ماہ مقدس کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور اس کی آمد پر خاص اہتمام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں یہ ماہ مبارک ایک تہوار کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں ہمیں زکوٰة، صدقہ و خیرات جتنا زیادہ ہو سکے

Ramzan Ul Mubarak
بے شمار فضیلتوں، رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ رمضان المبارک اپنے تمام تر فیوض و برکات کے ساتھ آج ہمارے درمیان ہے ویسے تو دنیا بھر میں مسلمان اس ماہ مقدس کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور اس کی آمد پر خاص اہتمام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں یہ ماہ مبارک ایک تہوار کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں ہمیں زکوٰة، صدقہ و خیرات جتنا زیادہ ہو سکے کرتے رہنا چاہیے کیونکہ یہ برکتوں بھرا مہینہ سال میں ایک بار آتا ہے اور اس کی برکات ہمیں ہر لمحہ سمیٹنے رہنا چاہیے اور یہ مہینہ ہمیں پیغام دیتا ہے کہ روزے رکھیں اور ایسا کوئی کام نہ کریں جو اس ماہ مبارک کے تقدس کے خلاف ہو جس سے ہمیں فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو۔
ماہ صیام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کا خیال رکھیں۔

رمضان المبارک ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے اس سلسلے میں علماء مکہ مکرمہ اور پاکستان کمیونٹی مکہ مکرمہ کے رہنماوں مختلف خیالات کا اظہار کیا جو نذرِ قارئین ہیں۔ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر مرکزیہ فضیلةالشیخ مولانا عبدالحفیظ مکی نے کہا کہ قرآن حکیم میں آیا ہے کہ ”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے “ رمضان المبارک اس حوالے سے ہمیں صبروتحمل اور تقویٰ کا درس دیتا ہے۔

تقویٰ سے خوف خدا پیدا ہوا اصل حکمت تو خوف خدا ہی ہے۔ روزہ یہ درس بھی دیتا ہے کہ خود بھوکا رہ کردوسروں کی بھوک پیاس کا احساس جاگتا ہے۔ اس لئے افطار و سحر میں جتنے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے بہتر ہے۔ رمضان المبارک میں ہمارا دستر خوان کشادہ ہونا چاہیے۔ رمضان المبارک میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات میں من وعن تسلیم کریں۔ نائب امیر مرکزیہ ممتاز اسلامی مفکر مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ نے کہا کہ سال بھر ہم رمضان المبارک کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ یہ وہ مقدس ماہ ہے جو بہت ہی آہستگی سے آ کر جلد ہی ختم ہو جاتا ہے اس ماہ میں بہت ہی گہما گہمی رہتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مبارک ماہ بیحد برکتوں اور فضیلتوں والا ہے اور اس ماہ مبارک میں چند ایام ایسے ہیں جو بہت اہم ہیں اور وہی اس پورے ماہ کا حاصل ہیں۔
اس کا پہلا عشرہ رحمت خداوندی دوسرا برکتوں کا اور تیسرا مغفرت انہی کا یعنی جہنم کی آگ سے نجات کا۔ حدیث شریف کے مطابق کہ ماہ رمضان المبارک میں آپ کے صدقات اور خیرات کی رفتار تیز آندھی سے بڑھ جاتی تھی ہمیں بھی زکوٰة، صدقات، خیرات، فطرانہ اور ہدیہ ہر ممکن صورت میں دوسروں کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہیے ہمیں اپنے خاندان اور اس کے بعد اپنے گردونواح میں اور پھر اپنے جاننے والوں میں اپنے بچوں کے دوستوں اپنے ہمسایوں کی طرف نگاہ ہونی چاہیے کہ کہاں کس کو ہماری ضرورت ہے۔
حدیث شریف کے مطابق جو اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے اللہ جل شانہ اس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اسلام عزت نفس کا داعی ہے دل آزاری کو سخت ناپسند کرتا ہے اس لئے اس بات کا دھیان بھی لازم ہے کہ کسی کو بتائے بغیر یا جتا کر تعاون نہ کیا جائے بلکہ حسب حال تحائف، کپڑے، راشن وغیرہ کی شکل میں یوں تعاون پیش کیا جائے کہ دوسرا زیر بار نہ ہو اور اس کی مشکل بھی حل ہو جائے۔
اس وقت وطن عزیز پاکستان کے طول و عرض میں طوفانی سیلاب نے تباہی و بربادی پھیلا رکھی ہے اور کروڑوں افراد بے خانماں برباد ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ سیلاب سے متاثرہ اپنے بہن بھائیوں کو دل کھول کر امداد دیں اور متاثرین سیلاب کو ماہ صیام کے دوران سحری اور افطاری کے لئے سالن روٹی اور پینے کا صاف پانی مہیا کریں ۔ روزہ میں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ روزہ دار کی دعا اللہ تعالیٰ جلد قبول کرتے ہیں اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ اپنی خاص عنایت فرماتا ہے اس لئے دل کھول کر اللہ کے بندوں کی مدد کرنا چاہیے ۔
ماہ صیام دراصل جہاں جسمانی صحت کا ضامن ہے وہاں اس ماہ مبارک سے معاشرے کی تعمیر ہوتی ہے دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر ہمیں نعمت خداوندی کی قدر ہوتی ہے۔ رمضان المبارک میں رب کائنات کی قربت اور رحمت سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اس ماہ مبارک میں ہمیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کی زیادہ سے زیادہ فکر کرنی چاہیے کیونکہ یہ وہ مبارک ہے جس کے بارے میں رب تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ روزہ دار کو اللہ تعالیٰ خود جزا دیتا ہے کیونکہ روزہ صرف رب کے لئے رکھا جاتا ہے اس میں کوئی نمودونمائش نہیں ہوتی کیونکہ دن بھر بھوکا پیاسا صرف رب کی رضا اور اس کے حکم کے مطابق رہا جاتا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد رفیق بھٹی اور خالد محمود نے کہا کہ ماہ مبارک ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم صبر کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں اس کے علاوہ غریب کی بھوک و پیاس کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔ ماہ صیام مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ پاکیزہ اور رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں ہمیں اپنے گناہوں کی سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے زیادہ سے زیادہ وقت عبادت و تلاوت میں گزارنا چاہیے۔
ایک ایک منٹ کی قدر ہونی چاہیے اس ماہ میں صدقات و خیرات کثرت سے کرنا چاہیے۔ نمازوں میں خشوع و خضوع اور برائیوں سے بچنے کا مہینہ ہے یہ ہمیں صبر کا درس دیتا ہے۔ دوسرے کے اندر ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے یہ گناہوں کی بخشش کا مہینہ ہے اس مہینے زیادہ سے زیادہ عبادت کر کے اللہ رب العزت کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے اس کا اجر اللہ تعالیٰ خود دیتا ہے ہمیں اس ماہ میں برائیوں سے بچنا چاہیے اس مہینے میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے غریب ہم وطنوں اور متاثرین سیلاب کی دل کھول کر مدد کرنی چاہیے وقت سے پہلے زکوٰة ادا کریں تاکہ ان کے کام آ سکے ۔

Your Thoughts and Comments