Roza Aur Zabt E Nafs

روزہ اور ضبط نفس

دنیا کی ہر قوم کو روزہ رکھنے کاحکم دیاگیا ہے آدم سے لے کر ابن مریم علیہ السلام تک پہلی امتوں میں بھی روزہ پایاجاتا تھا

Roza Aur Zabt e Nafs
پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی:
قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
پرہیزگاروہ شخص ہوتا ہے جو منشاء خداوندی کے تحت زندگی بسر کرے اور جس کے دل میں ہروقت ہرآن رضائے الٰہی کے حصول کی تڑپ موجزن رہے۔ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں روزہ رکھنے کا حکم موجود نہ ہو۔ آدم علیہ السلام سے لے کرابن مریم علیہ السلام تک پہلی امتوں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں روزہ پایاجاتا تھا۔
جیسا کہ اوپر کی آیت سے ثابت ہے۔
حضرت آدم پر ہر ماہ کی 13,14,15 تاریخ کو روزہ فرض تھا۔ حضرت نوع ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ حضرت داؤد ایک دن روزہ رکھتے ایک دن ناغہ کرتے اور قوم یہود پر یوم عاشورہ اور ہفتے کے علاوہ چند دن کے اور بھی روزے فرض تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک دن روزہ کھتے اور دودن افطار کرتے۔

قوم انصاریٰ پر رمضان شریف کے روزے فرض تھے مگر جب ان کو سخت گرمی اور سخت سردی کے روزے دشوار معلوم ہوئے تو یہ فیصلہ کیاکہ موسم بہار میں بجائے تیس کے پچاس روزے رکھاکریں گے۔

ہر مذہب وملت کے معتقدروزہ رکھتے تھے اور آج تک کسی نہ کسی شکل میں روزہ ان میں پایاجاتا ہے۔ یہاں تک کے مذاہب باطلہ کی مسخ شدہ کتابوں میں بھی اب تک روزے کے نشانات ملتے ہیں خواہ ان کی ہیئت کچھ بھی تھی۔ پہلی امتوں میں روزہ ایک بوجھ سمجھاجاتا تھا لیکن اسلام نے اس کی اصلاح کرتے ہوئے کہا کہ روزہ تمہیں تکلیف میں ڈالنے کے لئے فرض نہیں کیا گیا بلکہ تمہاری آسانی کو پیش نظررکھتے ہوئے محض چند دنوں کے لئے فرض کیاگیا ہے۔
ایاما معدودت۔ نیز بیماری بڑھاپے اور سفر میں روزے کو چھوڑنے کی اجازت ہے اور تکلیف کے بعد روزہ پورا کرنے کی آسانی ہے۔ کیونکہ روزے کی فرضیت میں اللہ تعالیٰ کو محض انسانیت کی اصلاح اور نجات مقصود ہے اس لئے اسے بوجھ نہیں بنایا گیا بلکہ اس میں آسانیاں پیدا کردی گئی ہیں تاکہ اصل مقصد کے حصول میں کوئی رکاوٹ اور دشواری پیش نہ آئے۔
معاشرے میں قدم قدم پر برائیوں کے کانٹے بچھے ہوئے ہیں جن سے دامن اخلاق وکردار تار تار ہوتا ہے اخلاق وکردار اور نفس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر روزے فرض کرکے احسان عظیم فرمایا ہے۔
بلاشبہ اخلاق وکردار کی اصلاح اور ضبط نفس کے لئے ماہ صیام ایک ریفریشر کورس کی حیثیت رکھتا ہے۔
لغت میں صوم کے معنی ہیں کسی چیز سے رک جانا جیسے صامت الریح“ یہ اس وقت بولا جاتا ہے۔ جب ہوا چلنے سے رک جائے گھوڑا چلتے چلتے رک جائے تو کہتے ہیں صامت الخیل کسی شخص کاکام بندکردنیا” صام کہلاتا ہے۔ مگر اصلاح شریعت میں کھانے پینے جملہ برائیوں اور مباشرت وغیرہ سے رک جانا روزہ کہلاتا ہے۔
نماز زکوٰة اور حج کی طرح روزہ بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ جس کااولین مقصد تزکیہ نفس ہے۔ مسلمان صبح صادق سے لے کرغروب آفتاب تک تمام مرغوبات نفس سے مکمل پرہیز کرتا ہے۔ بندگی کے اس احساس کوبیدار کرنے کے لئے جس طرح بندہ مومن پر دن بھر کھانا پینا حرام ہے۔ اسی طرح یہ کام پایہ تکمیل کوتب ہی پہنچ سکتا ہے۔ اس عملی مشق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمان اپنی روح کی غذا کا بھی نظام کرے۔
کیونکہ محض کھانے پینے سے رک جانا ہی روزہ نہیں بلکہ شارع علیہ السلام نے کچھ پابندیاں اور بھی لگائی ہیں۔ ارشاد نبوی ہے۔ یعنی جو آدمی روزہ کے باوجود جھوٹ بات کہنااور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا، تواللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے سے کوئی سروکار نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں روزہ کے عظیم مقصد کو بڑے واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ اس عمل کامقصد وحید العلکم تتقون، کے پیش نظر نفس کی پاکیزگی کااہتمام کرنا ہے اور اس اہتمام کی تکمیل اس طرح ہوسکتی ہے کہ ہم اپنی عملی زندگی میں جس طرح روزمرہ کے معمول سے ہٹ کر اپنی پسندیدہ غذاؤں سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اسی طرح تمام فحش اور اخلاق سے گری ہوئی عادات وحرکات سے کنارہ کش ہونے کی پوری کوشش کریں۔

روزہ نفسانی خواہشات اور بہمیت کو مغلوب کرنے نفیس عمارہ کو نفس لوامہ اور مطمئنہ میں تبدیل کرنے اور عبدکومقام عبدیت اور معرفت خداوندی تک رسائی حاصل کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس سے بڑھ کر انسان کومقام انسانیت تک پہچانے اور بے حساب اجردلوانے میں کوئی عبادت مقابلہ نہیں کرسکتی اس عبادت سے انسان کے گناہ یوں جھڑتے ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں آندھی کے روز سے خشک پتے۔ اور عید کے روز انسان روزہ داریوں نکھرجاتا ہے جس طرح بارش کی بوچھاڑ سے سبزہ۔

Your Thoughts and Comments