Shab E Qadr Ki Pur Noor Saatain

شبِ قدر کی پُرنُور ساعتیں

جب اللہ اپنے بندوں کی ہر دعا قبول فرماتا ہے

Shab e Qadr Ki Pur Noor Saatain
مولانا مجیب الرحمن انقلابی:
”شب قدر“ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر قرار دیا ہے۔یعنی جس قدر اخلاص ومحنت کے ساتھ”شب قدر“ میں عبادت وریاضت اور دعا کی جائے اس قدر اس کے اجرو انعام میں اضافہ ہوتا چلاجائے گا․․․․
حضورﷺ نے اس شب قدر سے محروم رہنے والے شخص کو خیر سے محروم اور حقیقی محروم قراردیا ہے۔

در حقیقت یہ اللہ رب العزت کی طرف سے امت محمد یہ ﷺ کی بخشش ومغفرت کیلئے بہانے ہیں کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے اور آسمانوں پر اس کی بخشش ومغفرت کے فیصلے کردیے جائیں․․․․․اور کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جنھوں نے رمضان المبارک جیسا مغفرت کا مہینہ معصیت و نافرمانی اور غفلت میں گزارنے کے بعد اب شب قدر سے بھی محروم رہے۔

خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں ”سورة القدر“ کے نام سے پوری ایک سورت اس کی عظمت میں نازل فرمائی جس میں شب قدر کی خصوصیات ذکر کی گئی ہیں۔
(1)اس رات میں قرآن مجید نازل ہوا۔
(2)اس رات میں فرشتے آسمانوں سے اترتے ہیں۔
(3)یہ رات ہزار مہینوں سے افضل وبہتر ہے۔
(4)اس میں صادق تک خیرو برکت اور امن و سلامی کی بارش ہوتی ہے۔
ایک روایت میں ہے شب قدر میں ملائکہ (فرشتوں)کی پیدائش ہوئی اور اسی رات میں حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا،اسی رات میں جنت میں درخت لگائے گئے اور اس رات میں عبادت کا ثواب دوسرے اوقات کی عبادت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے
اور یہی وہ مقدس رات ہے جس میں بندہ کی زبان و قلب سے نکلی ہوئی دعا اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرتی ہے۔
اسی مقدس رات میں اللہ رب العزت کی رحمتِ خاص کی تجلی آسمان ِ دنیا پر غروب آفتاب کے وقت سے صبح صادق تک ہوتی ہے ،بعض روایات کے مطابق اسی رات(شب قدر)کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور اسی رات میں بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی
مفسرین قرآن کے مطابق لیلتہ القدر میں جو لفظ”قدر“ ہے اس کا معنی”تقدیر و حکم“ کے ہیں،چونکہ اس رات میں تمام مخلوقات کیلئے جو کچھ تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ اس کام پر مامور فرشتوں کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص”شب قدر“ میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کیلئے)کھڑا ہوا،اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔“ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضورﷺ نے نقل فرماتی ہیں لیلتہ القدر کو رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو(بخاری شریف)حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ لیلتہ القدر ستائیسویں رات ہے۔
(مسلم)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ بھی حضورﷺ سے یہی نقل کرتے ہیں کہ وہ (لیلتہ القدر)رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہے(ابن کثیر)
حضورﷺنے فرمایا کہ اس رات (شب قدر )کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ وہ چمکدار اور کھلی ہوئی ہوتی ہے،صاف وشفاف ،نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی،بلکہ معتدل گویا کہ اس میں(انوار و برکات کی کثرت کی وجہ سے)چاند کھلا ہوا ہے۔

اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے،نیز اس کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے،․․․․بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح ہوتا ہے جس طرح چودھویں رات کا چاند،اللہ تعالیٰ اس دن کے آفتاب کے طلوع کے وقت شیطان کو اس کے ساتھ نکلنے سے روک دیتے ہیں۔حضرت عبدہ‘ بن ابی لبابہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رمضان المبارک کی ستائیسوں شب کو سمندر کا پانی چھکا تو بالکل میٹھا تھا․․․
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ اسلیے باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کی اطلاع فرمادیں․․․․مگر دو مسلمانوں میں جھگڑا ہورہا تھا،آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اسلئے آیاتھا کہ تمہیں شب قدر کی خبر دوں مگرفلاں فلاں شخص میں جھگڑا ہو رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی تعیین اٹھالی گئی
کیا بعید ہے کہ یہ اٹھا لینا اللہ تعالیٰ کے علم میں بہتر ہو ،لہذا اب اس رات کو انیسویں،ستائیسویں اور پچسویں شب میں تلاش کرو․․․․
حضورﷺ کے فرمان کے مطابق”شب قدر“ کی تعیین اٹھا لینے میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کیلئے کوئی بہتری ہے اگر شب قدر کا علم باقی رکھا جاتا اور بتا دیا جاتا تو پورا رمضان المبارک سستی وغفلت میں گزرتا اور صرف شب قدر میں عبادت کی جاتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت نے گوارنہ کیا کہ اس عظمت والی رات کے معلوم ہونے کے بعد کوئی گناہ پر جرأت کرے کیونکہ اگر اس شب کے پانے پر ہزار مہینوں کی عبادت کا ثواب ملتا ہے تو اسی طرح اس شب میں گناہ گناہ کرنے پر ایک ہزار مہینوں کا گناہ بھی ہوتا ہے۔
اب انسان شب قدر کی تلاش میں ہروقت عبادت وریاضت میں مصروف رہتا ہے اور اسی شب قدر کی تلاش میں اعتکاف کرتا ہے اور زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں گزارتا ہے لیکن شب قدر کا زیادہ احتمال ستائیسویں شب میں ہے․․․․
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ یارسولﷺ اللہ اگر مجھے شب قدر کا پتہ چل جائے تو کونسی دعا مانگوں؟حضورﷺ نے یہ دعا بتائی:
ترجمہ! اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ،پس تو میری خطائیں بھی معاف فرمادے“
احادیث میں دعا مانگنے کی بڑی فضیلت و عظمت بیان کی گئی ہے،اس لیے”شب قدر“ میں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعامانگنی چاہیے۔
دعا کیلئے وہ الفاظ زیادہ قیمتی اور مئوثر ثابت ہوتے ہیں جو دل سے اٹھتے ہیں اور زبان کی پوری تاثیروں کو ساتھ لیے بارگاہ ایزدی میں پہنچتے ہیں،ایسے الفاظ رحمت خداوندی اور بخشش و مغفرت کو گناہ گار کے دامن میں لا ڈالتے ہیں،اللہ تعالیٰ ہم کو شب قدر کا حق ادا کرنے اور اللہ کی رحمت و بخشش ومغفرت کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین

Your Thoughts and Comments