وفاقی حکومت کی 23 ستمبر کوسکول نہ کھولنے کے سندھ کے فیصلے کی مخالفت

سعید غنی پہلے مشورہ کرلیتے تو اچھا ہوتا، دوسرے مرحلے میں کلاسز 23 ستمبر سے ہی شروع ہوں گی، شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، 22 ستمبر کو این سی اوسی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ ستمبر 18:16

وفاقی حکومت کی 23 ستمبر کوسکول نہ کھولنے کے سندھ کے فیصلے کی مخالفت
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2020ء) وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے 23 ستمبر کوسکول نہ کھولنے کے سندھ حکومت کے فیصلے کی مخالفت کردی، انہوں نے کہا کہ سعید غنی پہلے مشورہ کرلیتے تو اچھا ہوتا، دوسرے مرحلے میں کلاسز 23 ستمبر سے ہی شروع ہوں گی، شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، 22 ستمبر کو این سی اوسی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے ٹویٹر پروزیرتعلیم سندھ کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ تعلیمی اداروں میں کلاسز شروع کرنے کے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ دوسرے مرحلے میں کلاسز 23 ستمبر سے ہی شروع ہوں گی۔ 22 ستمبر کو این سی اوسی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ صورتحال اسی طرح رہی تو تعلیمی ادارے شیڈول کے مطابق کھلیں گے۔

(جاری ہے)

 یاد رہے سندھ حکومت نے 21 ستمبر سے سکول کھولنے کا فیصلہ مئوخر کردیا ہے۔

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگرصورتحال بہتر رہی تو 28 ستمبر کو مڈل کلاسز کو بلا سکتے ہیں۔ 28 ستمبر میں ابھی وقت ہے، اس حوالے سے مزید سوچ بچار اور غور کریں گے۔ کسی بچے کو وائرس ہوگیا تو وائرس بہت تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ سندھ حکومت صوبے کے بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ گزشتہ چار روز میں مختلف سکولوں کا دورہ کیا لیکن وہاں ایس اوپیز پر عمل نہیں ہورہا۔

کاروباری مراکز میں بھی ایس اوپیز پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ اب بھی اسکولز میں ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا۔کل بھی اورنگی ٹاؤن میں 4 اسکولز سیل کیے گئے تھے۔ سکولوں اور کالجوں میں 13 ہزار طلباء کے کورونا ٹیسٹ کرائے گئے ہیں۔88 طلباء میں کورونا مثبت آیا ہے۔

اگر محسوس ہوا کہ چیزیں درست سمت میں نہیں جا رہیں تو اسکول بند کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔ پنجاب میں سکول کھلنے کے ساتھ ہی کورونا کیسز بڑھنا شروع ہوگئے ، پنجاب میں سکول کھلنے پہلے 3 دنوں میں 34 بچے کورونا وائرس کا شکار ہوگئے، گوجرانوالہ میں سب سے زیادہ 24 بچوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کے مطابق ننکانہ میں اساتذہ اور بچوں سمیت 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

بھکر میں ایک بچہ اور ایک سکول ملازم کورونا سے متاثر ہو اہے۔ لودھراں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ کورونا کیسز کے باعث ننکانہ کے گیریژن اور گرلزہائرسکینڈری سکول شاہ کوٹ کو بند کردیا گیا ہے۔ان سکولوں میں دودو بچے کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ 2 سے زائد بچوں میں کورونا کی تصدیق ہونے پر سکول کو 5 دن کیلئے بند کردیا جائے گا۔

اسی طرح وزیرتعلیم پنجاب مراد راس نے کہا کہ اساتذہ اور طلباء کی صحت اہم ہے، خطرہ نہیں مول سکتے، جس سکول میں کورونا کیسز ہوں گے ان کو سیل کردیں گے۔ وزیرتعلیم پنجاب مراد راس نے میڈیا کو بتایا کہ سکولوں میں کورونا ایس اوپیز پر سختی سے عمل کروایا جا رہا ہے، تمام اضلا ع میں کورونا کی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ ننکانہ کے دو سکولوں میں کورونا وائرس کیسز رپورٹ ہونے پرسیل کردیا گیا ہے۔ پنجاب کے جس سکول میں بھی کورونا کیس رپورٹ ہوگا اس کو سیل کردیں گے۔ کیونکہ اساتذہ اور طلباء کی صحت اہم ہے،اس لیے خطرہ نہیں مول سکتے۔ 

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments