حکومت کا تھر میں ہندو شہری کو ہراساں کرنے کے واقعے کا سخت نوٹس

ذمہ دار شخص عبد السلام ابو داوَد گرفتار، اقلیتوں کے ساتھ زیادتی اسلام کی روح کے منافی ہے،ایسے واقعات ملک کی بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔ صدر مملکت عارف علوی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 27 جولائی 2021 19:10

حکومت کا تھر میں ہندو شہری کو ہراساں کرنے کے واقعے کا سخت نوٹس
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جولائی2021ء) حکومت نے تھر میں ہندو شہری کو ہراساں کرنے کے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا، ذمہ دار شخص عبد السلام ابو داوَد کو گرفتار کرلیا گیا، صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتی اسلام کی روح کے منافی ہے،ایسے واقعات ملک کی بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے سندھ کے علاقے تھر میں ہندو شہری کو ہراساں کرنے کے واقعہ  پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری وزارت داخلہ اور آئی جی سندھ کو قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔

جس پر سندھ پولیس نے ذمہ دار شخص عبد السلام ابو داوَد کو گرفتار کرلیا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ ایسے واقعات ملک کی بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں، اقلیتوں کے ساتھ زیادتی اسلام کی روح کے منافی اور آئین پاکستان کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں، ریاست ان کے تحفظ کیلئے اقدامات کررہی ہے، ایسے واقعات کی روک تھام معاشرے کے تمام افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

واضح رہے سندھ کے علاقے تھر میں ہندواقلیت سے تعلق رکھنے والا جوان جارہا تھا کہ ایک انتہائی علاقہ معزز شخص اس کو راستے میں روک کر جھنجھوڑ رہا ہے اور اس کو کہہ رہا ہے کہ اپنے بھگوان کو گالی دو، ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے، جس پر صارفین نے اس شخص کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ ظلم وزیادتیاں کی جاتی ہیں لیکن ہندوسرکار ظالم ہندوؤں کو گرفتار کرنے کی بجائے مزید ظلم کرنے کی شہ دیتی ہے جس پر ہندوستان میں مسلمانوں کو ظلم وجبر بڑھتا جا رہا ہے، موجودہ مودی سرکار کے دور میں مسلمانوں کو ظلم وجبر میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے، اگر کہیں ایکا دوکا واقعہ ہوتا بھی ہے تو فوری قانون حرکت میں آتا ہے، اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments