ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح بڑھ کر18 فیصد سے زائد ہوگئی

ایک ہفتے میں مہنگائی میں مزید0.67 فیصد اضافہ ہوا، گھی، دالوں اور انڈوں سمیت20 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، گھی کا اڑھائی کلو کنستر19 روپے مہنگا ہوگیا۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 26 نومبر 2021 19:43

ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح بڑھ کر18 فیصد سے زائد ہوگئی
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 نومبر 2021ء) ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح بڑھ کر18 فیصد سے زائد ہوگئی ہے، ایک ہفتے میں مہنگائی میں مزید0.67 فیصد اضافہ ہوا، گھی، دالوں اور انڈوں سمیت20 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، گھی کا اڑھائی کلو کنستر19 روپے مہنگا ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کردیے ہیں، جس کے تحت ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.67 فیصد اضافہ ہوا۔

مہنگائی کی مجموعی شرح بڑھ کر 18.64 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ مہنگائی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے میں 20 اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، رواں ہفتے دالیں، گھی، انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایک ہفتے میں گھی کا اڑھائی کلو کنستر مزید 19 روپے مہنگا ہوگیا ہے، گھی کا کنستر 979 روپے سے بڑھ کر 988 کی سطح پر پہنچ گیا۔

(جاری ہے)

ایک ہفتے کے دوران کیلے فی درجن 2 روپے، آلو ایک روپے، لکڑی کی فی من قیمت میں 8 روپے تک کا اضافہ ہوا۔

اسی طرح رواں ہفتے چائے کی پتی سمیت 23 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ 8 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی جس کے تحت ایک ہفتے میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 22 روپے تک کمی ہوئی، آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 12 روپے تک کمی ہوئی ہے۔ دریں اثناں مشیر برائے خزانہ ومحصولات مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت ضروری اشیا کی قیمتوں کے استحکام اوران پرقابوپانے کیلئے ضروری اقدامات کررہی ہے۔

جمعہ کواپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ توقع کے مطابق غذائی اشیاء کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئی ہیں۔ ٹماٹر، پیاز، چینی، آٹا، چکن، چاول اور گڑ میں ہفتہ وار کمی کا رجحان دیکھنے میں آرہاہے۔ انہوں نے کہا کہ آلو، دال مونگ، ٹماٹر، اور پیاز کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ تمام درآمدی آئٹمز میں خوردنی تیل  کا حجم اب بھی زیادہ  ہے۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments