10 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرم کو سزائے موت کا حکم

مجرم آصف کو جرم ثابت ہونے پرمجموعی طور پر 4 سزائیں سنائیں گئیں ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جھنگ خضر حیات نے کیس کا فیصلہ سنایا

Sajid Ali ساجد علی جمعہ نومبر 12:02

10 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرم کو سزائے موت کا حکم
جھنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 27 نومبر2020ء) صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں 10 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت سنا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق جھنگ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خضر حیات نے کیس کا فیصلہ سنایا جس میں مجرم آصف کو جرم ثابت ہونے پرمجموعی طور پر 4 سزائیں سنائیں گئیں ، جہاں مجرم کوبچی کو قتل کرنے پرسزائے موت کی سزاسنائی گئی جب کہ بچی کو اغوا کرنے پر عمرقید کی سزا کا حکم دیتے ہوئے بچی سے زیادتی کرنے پر10 سال قید اور دو لاکھ روپےجرمانے کا حکم دیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ عدالت نےمجرم کو5 لاکھ روپے بچی کے ورثاء کو ادا کرنے کا بھی حکم سنایا۔ اسی حوالے سے حکومت نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائیں دینے سے متعلق قانون کو حتمی شکل دے کر مسودہ تیار کرلیا ، وزارت قانون نے تجویز پیش کی کہ زیادتی میں ملوث مجرمان کو نامرد کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا جائے گا، اس کے علاوہ جیل سے رہائی کا کوئی اور طریقہ نہیں ہوگا ، اس کے علاوہ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائیں دینے سے متعلق حتمی فیصلے کا اختیار زیادتی کا شکار ہونے والے کو ہوگا ، جنسی زیادتی کے مجرموں کیخلاف مقدمہ کروانے کا اختیار بھی زیادتی کے شکار فرد ہوگا، اسسٹنٹ کمشنر اور متعلقہ حکام مقدمہ درج کرنے کے پابند ہوں گے ۔

(جاری ہے)

سفارشات کے مطابق زیادتی کےمقدمات کا ٹرائل ان کیمرا ہوگا جبکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) زیادتی کرنے والے تمام مجرمان کا ڈیٹا بھی مرتب کرے گا ، وزارت قانون نے ضابطہ فوجداری میں لفظ زیادتی کی تعریف میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا جس کے بعد تمام عمر کی خواتین اور 18 سال سے کم عمر مردوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو زیادتی میں ہی شمار کیا جائے گا ، وزارت قانون کی جانب سے جاری ہونے والے نکات میں بتایا گیا ہے کہ مجرمان کوان کی رضامندی سےکیمیائی طریقہ سے ہی نامرد کیا جائے گا، سزا کا یہ طریقہ اُن کی بہتری کی جانب اہم قدم ہوگا۔

زیادتی کے مقدمات کا فوری اندراج کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری ہوگی جبکہ ملزمان کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں ہوگا، متاثرہ شخص سے جرح صرف ملزم کا وکیل اور جج ہی کرسکے گا۔

جھنگ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments