1.1ٹریلین روپے کے کراچی پیکیج میں زیادہ تر جاری اسکیمیں شامل ہیں، وزیراعلی سندھ

حکومت کراچی شہر میں ترجیحی بنیادوں پر انفرااسٹرکچر، نکاسی آب کے نظام اور ماس ٹرانزٹ کو ترقی دینے کیلئے پرعزم ہے،مراد علی شاہ کا تقریب سے خطاب

ہفتہ ستمبر 22:00

1.1ٹریلین روپے کے کراچی پیکیج میں زیادہ تر جاری اسکیمیں شامل ہیں، وزیراعلی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 ستمبر2020ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں 1.1 ٹریلین روپے کے پیکیج میں زیادہ تر منصوبے جاری اور صوبائی حکومت کی مالی اعانت سے چل رہے ہیں اور انکی حکومت کراچی شہر میں ترجیحی بنیادوں پر انفرااسٹرکچر، نکاسی آب کے نظام اور ماس ٹرانزٹ کو ترقی دینے کیلئے پرعزم ہے۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز منوڑہ میں واٹر فرنٹ منوڑہ بیچ روڈ کے افتتاح کے فورا بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ان کے ہمراہ صوبائی وزرا شبیر بجارانی، سید ناصر شاہ اور مشیر قانون مرتضی وہاب بھی تھے جبکہ دیگر میں کمانڈر کراچی وائس ایڈمرل زاہد الیاس، کمانڈر نیول پولیس کموڈور رضوان احمد، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، کمشنر کراچی سہیل راجپوت، ڈی جی کے ڈی اے آصف اکرام، ایم این اے قادر پٹیل، شاہدہ رحمانی، ایم پی اے لیاقت عسکانی اور دیگر بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

مراد علی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کراچی پیکیج کوئی نئی چیز نہیں۔ انہوں نے کہا زیادہ تر اسکیمیں پہلے سے ہی جاری ہیں جن میں سندھ اور وفاقی حکومتوں کا حصہ ہے جیسا کہ کے۔ فور منصوبہ ہے جسکی تکمیل کیلئے مرکز کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی ہے کہ شہر میں بجلی اور گیس کی بندش کیلئے وفاقی حکومت انکی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔

انہوں نے کہا وفاقی حکومت بجلی اور گیس پیدا کرنے اور تقسیم کار کمپنیوں کو کنٹرول کررہی ہے اور وہ بلا تعطل بجلی اور گیس کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔ اور انہوں نے مزید کہا وفاقی حکومت اپنی نا اہلی کو چھپانے کیلئے صوبائی حکومت پر الزامات عائد کررہی ہے جو اس کیلئے کافی حیرت زدہ ہے۔چھ کلومیٹر طویل منہوڑہ بیچ روڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ سڑک کاکاپیر سے وائی جنکشن تک 456.64 ملین روپے سے تعمیر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ نئے بنائے گئے ضلع کیماڑی کی یہ آج پہلی اسکیم ہے۔ انھوں نے کراچی ڈویژن میں کیماڑی کو ماڈل ضلع قرار دینے کا اعلان کیا۔ مراد علی شاہ نے گل بائی سے ہاکس بے تک سڑک کی تعمیر کا بھی اعلان کرتے ہوئے نئے ضلع میں پانی فراہمی ونکاسی، صفائی ستھرائی اور انفراسٹرکچر کے مسائل حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

منہوڑہ روڈ اسکیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی کے عوام کیلئے واٹر فرنٹ ڈویلپمنٹ کی بہتری کیلئے ایک مجموعی اسکیم کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا اس وقت منہوڑہ بیچ ساحل کے اطراف موجود آبادی کیلیے استعمال ہو رہا ہے جہاں بیٹھنے کی جگہوں، کھانے پینے کے مقامات، آرام دہ کمرے، سایہ دار شیڈز اور صاف ستھری سہولیات کی کمی کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد بہت کم ہے۔

اور مزید کہا کہ اس کا مقصد بنیادی سہولیات اور سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے تاکہ منہوڑہ بیچ میں عوام کی توجہ حاصل کی جاسکے اور اس کے نتیجے میں زائرین میں اضافہ ہوگا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کی اصل توجہ مبذول کرانا اس کا ساحل ہے جو کراچی کو ملک کے دیگر حصوں سے ممتاز بناتا ہے۔ انہوں نے کہا تفریحی راستوں کی کمی کی وجہ سے بالخصوص درمیانے اور نچلے متوسط طبقے کیلئے لوگ کلفٹن، سمندری نظارے، ہاکس بے اورسینڈزپٹ پرلمبے عرصے سے ہجوم کی شکل میں جمع ہوتے ہیں۔

اور مزید کہا کہ عوام کو ترو تازہ ماحول کیلئے ایک علاقہ فراہم کرنے کیلئے کچھ نئی پیشرفت کی اشد ضرورت ہے اور منہوڑ بیچ اسی کڑی میں ایک نیا اضافہ ہے۔ وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ منہوڑہ بیچ پروجیکٹ میں واٹر فرنٹ کی ترقی کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر کے بھی مختلف کمپونینٹس ہیں۔ ان میں منہوڑہ بیچ سیگ منٹ 1 کی ترقی بھی شامل ہے جس کے تحت 15200 اسکوائر فٹ کو رنگین کنکریٹ کا پختہ فرش، ڈیزائن فیچر وال کے ساتھ مستحکم اور ڈیجیٹل ڈسپلے، لائٹ بولارڈ اور سخت اور سافٹ دلکش نظاروں کو تیار کیا جارہا ہے جس پر کام جاری ہے۔

سیگ منٹ۔ 2 ایک پارکنگ ایریا ہے جو 6000 اسکوائر میٹر ہو گا جس میں رنگ برنگی سیمنٹ کنکریٹ سے پختہ فرش اور شفاف بانڈری وال کے ساتھ تیار کیا جارہا ہے۔ سیگمنٹ ۔3 سی فرنٹ ڈویلپمنٹ ہے جس کے تحت 8.75 ایکڑ رقبہ پر مشتمل داخلی دروازے کے ساتھ تیار کیا جارہا ہے۔ اس میں رنگی برنگی سیمنٹ کنکریٹ کی پختہ واک ویز، بیٹھنے کے انتظامات، واٹر فرنٹ گیزبوس، آرکڈ ڈیزائن، پودوں کے ساتھ بیٹھنے والے بنچز، بچوں کے کھیلنے کے زونز، دھابی/دکانیں اور آرام دہ کمرے ہونگے۔

ڈی جی کے ڈی اے آصف اکرام نے وزیراعلی سندھ کو کام کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 8.75 ایکڑ ترقیاتی رقبے میں سے 1800 سے 134 میٹر پر سی فرنٹ پر واقع 31 مارچ سے شروع ہونے والے اونچی لہروں کے موسم سے پہلے تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر سی سی سمندری رخ پر اسٹرکچر مکمل ہوچکا ہے جہاں خوبصورت بنانے کے کام جاری ہیں۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کے ذریعہ 427.6 ملین روپے کی لاگت سے قائم ہونے والے منہوڑہ آء لینڈ میں آر او (ڈی سالی نیشن) پلانٹ کا دورہ کیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ منہوڑہ آئی لینڈ میں روزانہ 500000 گیلن کے ریورس اوسموسس (واٹر ڈی سالی نیشن) پلانٹ کی تنصیب کیلئے اسکیم کا ارادہ کیا ہے، بالخصوص سمندری پانی کو میٹھا بنانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ پینے کے صاف پانی کو ڈبلیو ایچ او معیار کے مطابق ٹی ڈی ایس کی قیمت 500 ملی گرام فی لیٹر سے زیادہ نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ آر او پلانٹ علاقوں میں رہنے والے 20000 باشندوں کے پانی کی ضرورت کو پورا کرے گا۔ وزیراعلی سندھ نے جاری کام کا معائنہ کیا اور وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کو ہدایت کی کہ وہ رواں مالی سال کے دوران اسکیم کو مکمل کریں۔ وزیر بلدیات سید ناصر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے شہر کے لوگوں کو خوبصورت اور پر امن تفریحی مقامات فراہم کرنے کیلئے کراچی کے ساحلی علائقوں کو تیار کرنے کا آغاز کیا ہے۔ پاک بحریہ کی جانب سے کمانڈر کراچی کے وائس ایڈمرل زاہد الیاس نے منہوڑہ میں افتتاحی تقریب کی میزبانی کی۔وزیراعلی سندھ نے کراچی کی ترقی میں پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments