لیاری ملکی سیاسی ، مذ ہبی ، سماجی ،کھیل اور فنکاروں کا گڑھ ر ہا ہے، یہاں کے لوگ ملکی تر قی میں آج بھی اہم کر دار ادا کر ر ہے ہیں،اختر بلوچ

پہلا لیاری لٹریچر فیسٹیول کاآغاز،، فنکاروںکا منفرد طریقے سے مظاہرہ، طلبہ وطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، فیسٹیول آج اتور کو بھی جاری ر ہے گا

ہفتہ ستمبر 23:55

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2019ء) پہلا لیاری لٹریچر فیسٹیول کاآغاز،16مقررین نے 9مختلف سیشنز میں اپنے خیالات کا اظہارجبکہ فنکارنے خاص مقامی فنوں کا منفرد طریقے سے مظاہرہ بھی کیا ،فیسٹیول کے پہلے روز طلبہ وطالبات نے بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ فیسٹیول آج اتور کو بھی جاری ر ہے گا۔تفصیلات کے مطابق ہفتے کو بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں پہلا لیاری لٹریچر فیسٹیول کا افتتاح نیشنل ایوارڈیافتہ ناموار فنکار ممتاز سبزل نے کیا ۔

وائس چانسلربے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری اختر بلوچ، ندا کرمانی ودیگر بھی موجود تھے۔فیسٹیول کے پہلے روز 9 مختلف سیشن کا انعقاد کیا گیا جن سے پروفیسر ڈاکٹر رمضان بامری، فلم اینڈ ڈرامہ نگارظفرمعراج ،ڈاکٹر گل حسن کلمتی ، وائس چانسلربے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری اختر بلوچ،پروگرام مینیجر سعدیہ بلوچ و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

(جاری ہے)

فیسٹیول کے پہلا روز کا آغاز نوجوانوں اور بچوں کی باقاعدہ تربیتی پروگرامز سے ہوا جب کہ معروف موسیقار، بینجو ماسٹر، نیشنل ایوارڈ یافتہ ممتاز سبزل نے افتتاح کیا ۔اس موقع پر گجراتی روایتی ڈانس راسڑہ بھی پیش کیا گا۔ فیسٹیول میںپینل ڈسکشن، بچوں کے کارنر، روایتی کھانوں کے اسٹالز، کمہار اور کھجور کی پتیوں سے اشیاہ بنانے والے گنکاراور دوسرے فنکار ون نے بھی اپنے نمونے پیش کیے ۔

اس موقع پروائس چانسلربے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری اختر بلوچ نے کہا کہ جامع کا کام صرف طلبہ کو ڈگریاں فراہم کرنا نہیں بلکہ اس کی ذمے داریوں میں شامل ہے کہ وہ سماج اور تعلیمی اداروں کے درمیان پل کا کردار اداکرے۔ اختر بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ لیاری ہر دور میں تعلیم کا مرکز ر ہا ہے ، لیاری ملکی سیاسی ، مذ ہبی ، سماجی ،کھیل اور فنکارون کا گڑھ ر ہا ہے، یہاں کے لوگ ملکی تر قی میں آج بھی اپنا اہم کر دار ادا کر ر ہے ہیں۔

سعدیہ بلوچ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس پروگرام کو بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نے بھرپور تعاون کر کے یقینی بنانے میں جو ساتھ دیا وہ اہم ہے،ہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہیں جنہوں نے اس میں خاص دلچسپی لی اوربھرپورتعاون کیا، اس میلے کے ذریعے لیاری کا ایک اور سفر شروع ہوگا ۔سعدیہ بلوچ نے لیاری لٹریچر فیسٹیول کے کلیدی اغراض پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب اورفنون کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی کا فروغ، کراچی خاص کر لیاری کااصل ادبی و فن دوست رخ پیش کرنا اور جامعات و تعلیمی اداروں میں پر امن ماحول کوتقویت دینا ہمارے مقاصد میں شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امن، محفوظ جامعات اور سماجی ہم آہنگی بہ ذریعہ ادب، فن اور ثقافت لیاری لٹریچر فیسٹیول2019ء کا موضوع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جامع نے اپنے بھر پور تعاون سے اپنے کردار کو پیش کیا ہے جس کے لیے ہم شکر گزار ہیں ، رضا کاروں کی یک بڑی تعداد نہ صرف چہر بھر سے بلکہ خود جامع سے، اس کو کامیاب بنانے میں اپنی بھرپور توانائی کے ساتھ ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔

سعدیہ بلوچ نے فیسٹیول کے شر کا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کی ان چیزوں میں دلچسپی نہ بھی ہو تو بھی کوئی بات نہیں، آیے ہمارا ساتھ دیں، بہ طور قوم ہم نے خوش ہونا چھوڑ دیا ہے ،سو آیے مل کے خوش ہوں۔ پروگرام کوآر ڈی نیٹرپروین نازز کا کہنا تھا یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے مگر آخری نہیں، اس کا تسلسل، یونیورسٹی کا تعاون، لیاری سمیت پورے شہر بلکہ سندھ کے دوسرے اضلاع اور بلو چستان سمیت ملک کے لوگوں کی شمولیت اس کی کامیابی کا فیصلہ کرے گی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments