کے الیکٹرک بلوچستان کے سروس ایریا میں ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرے گا

جمعہ دسمبر 18:32

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 دسمبر2020ء) اپنے تمام ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو تبدیل کرنے اور بہتر بنانے کے مرحلہ وار منصوبے کے تحت، کے الیکٹرک نے حب چوکی سے بیلہ گرڈ تک اپنی موجودہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو اپ گریڈکرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے ، بیلہ، اٴْتھل اور وِیندر میں واقع گرڈزاور ٹرانسمیشن لائنز دونوںکی گنجائش کو 66kVسے بڑھاکر 132kVکیا جائے گا جس سے بجلی کی اضافی دستیابی اور قابل بھروسہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

کے الیکٹرک ، کراچی اور اس کے مضافات میں بجلی فراہم کرنے والے واحد ادارے کی حیثیت سے اپنے تمام کاروباری شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ اس مرحلہ وار بحالی اور اپ گریڈیشن سے اِن علاقوں میں ،بجلی کی آئندہ طلب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ ان علاقوں میں صنعتی اور رہائشی دونوں اعتبار سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں بلوچستان کے سیکریٹری برائے توانائی، شہریار تاج نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، مونس علوی سے، کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس میں ملاقات کی اور پاور یوٹیلیٹی کے مرحلہ وار اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

پاور یوٹیلیٹی اور حکومت بلوچستان کے درمیان بیلہ، اٴْتھل اور وِیندرکے مقام پرواقع تین سولر پاور پروجیکٹس جن میں سے ہر ایک 50 میگا واٹ کا حامل ہے،ان کی پیش رفت پر بھی بات چیت ہوئی۔ان تینوںپروجیکٹس کو انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (IPP) کے طور پر علیحدہ علیحدہ تیار کیا جائے گا۔ نیپرا کے مسابقتی بولی لگانے والے ٹیرف ضابطے 2017ء (Competitive Bidding Tariff Regulations) کے تحت، کے الیکٹرک ایک شفاف طریقہ کار کے ذریعے سولر پاور کے ان پروجیکٹس پر کام کر رہی ہے جس کے بعد ان پروجیکٹس کے لیے،مسابقتی طریقہ کار کے تحت ٹیرف کا تعین بھی کیا جائے گا۔

توقع ہے کہ یہ پلانٹس 2023ء کے موسم گرما تک، تجارتی بنیادوں پر کام شروع کر دیں گے ۔مونس علوی نے صارفین کو خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ’’ہم بجلی کی محفوظ اور قابل بھروسہ فراہمی کے لیے پر عزم ہیں اور ساتھ ہی قابل تجدید اور ماحول دوست ذرائع کی شمولیت کے ذریعے کاربن فٹ پرنٹ کے مسئلے سے بھی نمٹ رہے ہیں۔ یہ تینوں قابل تجدید توانائی کے پاور پلانٹس فعال ہونے کے بعد ، باکفایت اور ماحول دوست بجلی پیدا کریں گے جو پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کے ساتھ زراعت اور صنعت کو فروغ دینے میں مدد گار ثابت ہوں گے ۔

کے الیکٹرک پہلے ہی نجکاری کے بعد سے اب تک،انرجی ویلیو چین میں 330 ارب روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور آئندہ تین سالوں کے دوران مزید 260ارب روپے سے زائدکی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘کے الیکٹرک اپنی پوری پاور ویلیو چین میں ،منصوبہ بندی کے تحت مستقبل میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہے جو مطلوبہ منظوریوں سے مشروط ہے۔

تاہم حکومت سے قابل وصول واجبات کے پائیدار حل اور نیپرا کی جانب سے بروقت منظوری ، ان سرمایہ کاری کے منصوبوںپر عمل درآمد کے لیے نہایت اہم ہیں۔ شہریا ر تاج نے متعلقہ علاقے اور اس کے رہائشیوں پر اس سرمایہ کاری کے اثرا ت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ:’’پاور انفرااسٹرکچر کی اپ گریڈیشن سے نہ صرف ہزاروں رہائشیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ توقع ہے کہ اِس سے اٴْتھل، بیلہ اور وِیندرکے اطراف میں سماجی و اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔

50MW کے تین سولر پاور پروجیکٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں سولر پاورسے بجلی بنانے کی زبردست صلاحیت موجود ہے اور ہم مستقبل میں بھی اسی طرح کی پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ کی توقع رکھتے ہیں جو صوبے اور اس کے عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کریں گے ۔‘‘

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments