کیا نواز شریف اور سعودی عرب سے ملنے والے 10ارب ڈالر کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟

ڈیل کی خبریں غلط ہیں، سعودی حکومت اور یو اے ای حکومت نواز شریف کو بالکل بھی پسند نہیں کرتی اور وہ پاکستان کے حکومتی اداروں کے ساتھ پورا تعاون کریں گے، حامد میر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار ستمبر 11:39

کیا نواز شریف اور سعودی عرب سے ملنے والے 10ارب ڈالر کا آپس میں کوئی تعلق ..
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23 ستمبر 2018ء) معروف صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت اور یو اے ای حکومت نواز شریف کو بالکل بھی پسند نہیں کرتی اور وہ پاکستان کے حکومتی اداروں کے ساتھ پورا تعاون کریں گے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دس ارب ڈالر کا اقتصادی معاہدہ طےہوا۔جب کہ دوسری طرف ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ نواز شریف کو ضمانت پر رہائی مل گئی جس کے بعد یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کو یہ ڈالر دراصل نواز شریف کی رہائی کے بدلے دئیے گئے ہیں۔

اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے متعلق ڈیل والی خبریں بلکل بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔سعودی حکومت اور یو اے ای حکومت نواز شریف کو پسند نہیں کرتی۔

(جاری ہے)

اور نواز شریف کے متعلق اگر کوئی اور خبر یا معلومات بھی دینی ہوئی تو وہ پاکستان کے حکومتی اداروں کے ساتھ پورا تعاون کریں گے اور اگر کوئی مزید اقامہ نکلا تو بھی پاکستانی حکومت کو دیں گے۔

واضح رہے وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران بڑا اقتصادی معاہدہ طے پاگیا تھا۔ پیکج کے تحتسعودی عرب پاکستان میں آئل سٹی بنائے گا۔۔سی پیک منصوبے کے تحت آئل سٹی گوادر میں بنایا جائے گا۔۔پاکستان نے چین کوآمادہ کرنے کے بعد معاہدہ سعودی عرب کودے دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یواے ای کے ساتھ بھی اربوں ڈالر کے معاہدے کیے جائیں گے۔

جب کہ تحریک انصاف نے کہا تھا کہ سعودی ولی عہد توخود کرپشن کیخلاف ہیں وہ کیسے پاکستان میں کرپٹ شخص کے حق میں ہوسکتے ہیں۔ نوازشریف اتنے اہم نہیں کہ دورہ سعودی عرب میں ان کے بارے بات ہوئی ہو۔ جولوگ کہتے ہیں عمران خان نے ڈیل کرلی ہے تووہ عمران خان کوجانتے ہی نہیں۔۔عمران خان نہ ڈیل کریں گے اور نہ ہی ڈھیل کریں گے۔ پاکستان کے عوام کا پیسا واپس لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کودوبارہ اسی جگہ پہنچایا جائے گا جہاں وہ کچھ روز پہلے تھے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments