نوشہرہ،پولیس لائن کے قریب قبضہ مافیا کی ہوٹل پرقبضہ کیلئے فائرنگ،

مین جی ٹی روڈ میدان جنگ بن گیا، ٹریفک معطل ، پولیس آدھا گھنٹہ تاخیر سے پہنچی، ملزمان فرار

جمعہ جون 17:25

نوشہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جون2021ء) نوشہرہ پولیس لائن کے قریب قبضہ مافیا کا ہوٹل پرقبضہ کرنے کیلئے اندھا دھند فائرنگ، مین جی ٹی روڈ کو میدان کار زار بنادیا،فائرنگ کی وجہ سے جی ٹی روڈ پر ٹریفک معطل پولیس کو اطلاع ملنے کے باوجود پولیس آدھا گھنٹہ تاخیر سے پہنچی،ملزمان فرار ھونے میں کامیاب،بااثر قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کی بجائے پولیس نے ھوٹل مالکان اور عملہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے مالکان کو ھوٹل بند کرنے کے احکامات دے دئیے، پولیس قبضہ مافیا کی سرپرستی کررہی ہے۔

(جاری ہے)

ترسکون ھوٹل کے انتظامیہ کے کی ترسکون ھوٹل میں شام گئے میڈیا سے بات چیت اس سلسلے میں ترسکون ریسٹورنٹ نوشہرہ کے نظیر الحق ولد شمس الحق سکنہ جندول دیر حال رسالپو نے میڈیا کو بتایا کہ ہمارے ہوٹل کے قریب خسرہ نمبر 480میں پلاٹ پر بلاول، سجاد اور بلاول کے چھوٹے بھائی اور ہمارے مابین پلاٹ تنازعہ چلا آرہا تھا اور اس میں ہم نے ان کو 63لاکھ روپے ادائیگی کر دی ہے اور اب وہ مزید بقیہ رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ہماری شرط یہ ہے کہ پہلے مذکورہ پلاٹ کا ہمارے نام انتقال کردیں تب ہم مزید ادائیگی کریں گے اس تنازعہ کی تصفیہ کرنے لیے ہم نے مقامی پولیس سٹیشن کو درخواست دی اور پولیس کی موجودگی میں دوران جرگہ ہمارے مخالفین نے ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی اور اسی دھمکیوں کو عملی شکل میں درجنوں افراد نے مین جی ٹی روڈ پر واقع ہمارے ترسکون ریسٹورنٹ نامی ہوٹل پر حملہ آور ہوئے اور ہم پر فائرنگ کر دی اور ہمارے ہوٹل سمیت قریبی مکانات کو جزوی نقصان پہنچا لیکن اضاخیل پولیس نے جانبداری کامظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے ملازمین کو بے جا گرفتار کر کے حراساں کر رہے ہیں اور اب پولیس ہمارے مخالفین کی ایما پر ہوٹل بند کرنے کی دبائو ڈال رہی ہے جو کہ ہمارے ساتھ ظلم ہے انہوں نے کہا کہ حملہ بھی ہم پر ہوا ہے لیکن اضاخیل پولیس حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ میں انصاف کا طلبگار ہوں انہوں نے آئی جی پی خیبر پختونخواہ، ڈی آئی جی مردان ڈی پی او نوشہرہ سے انصاف کا مطالبہ کر دیا ہے اور اگر اصاف نہ ملا تو سینکڑوں افراد کو سڑکوں پر لاکر بھر پور احتجاج کریں گے۔

نوشہرہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments